Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

ان کی قدر و منزلت اور مقام بہت بلند و بالا ہے ۔   

سوال نمبر ۶

          اس سوال میں  آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے پوچھا گیا کہ ایک شخص جو کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہے اپنے والدین پر ظلم وستم کرتا ہے خود بھی انہیں  گالیاں  دیتا ہے اور دوسروں  سے بھی دلواتا ہے اور ساتھ ہی جھوٹ بولنے اور چوری کرنے جیسے بُرے افعال سے پہچانا جاتا ہے لہٰذا ایسے شخص کا شرعاً کیا حکم ہے ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا، اس کی دعوت کرنا، اور اس کی دعوت میں  شریک ہونا اسے صدقہ وغیرہ دینا کیسا ہے جو اس کی تائید کرے اور اس کا ساتھ دے اس کے بارے میں  کیا حکمِ شرعی ہے ؟

          آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے جواب ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص نہ صرف گنہگاربلکہ گنہگاروں  کا سردار ہے ، عذاب الٰہی کا حقدار اور بہت بڑا بدکا ر ہے ایسے شخص کو امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی ہے اور جتنی نمازیں  پڑھ لیں  ان نمازوں  کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور جو کوئی ایسے شخص کوامام بنائے وہ بھی گنہگار ہے کیونکہ شرعاً ایسے سے نفرت کرنے اور تعظیم نہ کرنے کا حکم ہے اس کی دعوت کرنا یا اس کے گھر میں  دعوت کھانا بلکہ اس سے دوستی کرنا بھی جائز نہیں  ہے ، اور جو اس کی تائید کرتے ہیں  وہ بھی سخت گنہگار ہیں  پھر آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ان احکام شرعیہ پر احادیث بیان فرمائیں ۔

سوال نمبر ۷

            سیدی اعلی حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے ساتواں  سوال یہ کیا گیا کہ ایک عورت جسے بیمار ی کی حالت میں  اپنی موت کا یقین ہوگیا تھااس نے کچھ رشتے داروں  کی موجودگی میں  اپنے شوہر کو مخاطب کرکے اپنی غلطیوں  اور کوتاہیوں  کی معافی چاہی اور اپنے تمام حقوق بھی شوہر کو معاف کردیئے جبکہ مہر، جو شوہر نے اب تک ادا نہ کیا تھا اسے بھی علیحدہ سے معاف کیا ، اسی طرح شوہرنے بھی اپنے تمام حقوق بیوی کو معاف کردیئے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح سے دونوں  کے تمام حقوق معاف ہوگئے یا پھرہرہر حق و خطا کی تفصیل بیان کرکے معافی مانگنی ضروری تھی، اور بیوی نے شوہر کو اپنی موت کے وقت جو مہر معاف کیا وہ معاف ہوگیا یا پھر مرضِ موت کے زمانے میں  ہونے کی و جہ سے اس پر وصیت کے احکا م نافذ ہوں گے ؟

         سیدی اعلی حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے قوانینِ شرعیہ کی روشنی میں پُر دلیل جواب ارشاد فرمایا کہ جہاں  تک شوہر اور بیوی کے عام حقوق کی معافی کا معاملہ ہے وہ تو معاف ہوگئے لیکن بیوی کے حقوقِ مالیہ مثلاً مہر وغیرہ، تو وہ بیوی کے ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے اگر وہ معاف کردیں  تو معاف، ورنہ وہ تقاضا کر سکتے ہیں ، اور بیوی کے وہ حقوق جو مال کے علاوہ ہیں  مثلا کسی بات پر ناراضگی وغیرہ ، اسی طرح شوہرکے وہ حقوق جن کا تعلق مال و غیر مال سے ہے اس میں  جو کچھ شوہر اور بیوی کے علم میں  تھے وہ سب معاف ہو گئے اور جو علم میں  نہ تھے مگر معمولی تھے کہ معلوم ہونے پر بھی معاف کر دیتے تو وہ بھی معاف ہوگئے  ۔

          ہاں البتہ ! میاں  بیوی کے وہ حقوق جن کی تفصیل جاننے کے بعددونوں  میں  سے کوئی ایک بھی اپنے حق کومعا ف نہیں  کرتا توایسے حقوق کے معاف ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں  علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے بعض علماء کرام کہتے ہیں   :

          مجمل یعنی مختصر الفاظ میں  حقوق کی تفصیل بیان کیے بغیر بھی معافی طلب کرنے کی صورت میں تمام حقوق معاف ہوجائیں گے  ۔

         جبکہ بعض دوسرے علماء ِکرام کہتے ہیں   :

          ہر ہر حق کوتفصیل سے بتاکر معافی مانگنے کی صورت میں ہی حقوق معاف ہوں  گے ورنہ وہ حقوق ذمہ پر لازم رہیں  گے ۔

          چنانچہ اختلاف ِائمہ ذکر کرنے کے بعد سیدی اعلی حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن زبردست انداز میں  مسئلہ کی تحقیق پیش کرتے ہیں  کہ :

          وہ بڑے حقوق جن کی تفصیل بیان کی جاتی تو صاحبِ حق معاف نہ کرتا تو ان  جیسے حقوق کی معافی کیلئے تفصیل بیان کرنا ضروری ہے ۔ ہاں ! اگر ان حقوق کی معافی کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں کہ ’’دنیا بھر میں  سخت سے سخت جو حق متصور (تصور کیا جاسکتا)  ہووہ سب میرے لیے فرض کرکے معاف کردے ‘‘ اور اُس نے معاف کردیے تو اس طرح سے بغیر تفصیل بیان کئے بھی تمام چھوٹے بڑے حقوق معاف ہوجائیں  گے ۔

 



Total Pages: 50

Go To