Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

سوال نمبر۳

          سیدی اعلی حضرت امام اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سوال کیا گیا کہ اولاد پر ماں  کا حق زیادہ ہے یا باپ کا ؟

          آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ارشاد فرمایا کہ اولاد پر ماں  اور باپ دونوں  کا حق نہایت عظیم ہے ۔  البتہ! ماں  کا حق باپ کے حق سے زیادہ ہے ۔  پھر آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اس پر قرآنی آیات اور احادیث پیش کیں اور آخر میں  فرمایا کہ ماں  کا حق باپ سے زیادہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ خدمت اور لینے دینے کے معاملات میں  ماں  کا حق زیادہ ہے جبکہ ادب واحترام میں  باپ کا حق، مثال کے طور پر بیٹے کے پاس سوروپے ہیں  توبیٹا ماں  کو پچھتر اور باپ کو پچّیس روپے دے ۔ اس کے علاوہ بھی آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے بڑی پیاری مثالیں پیش فرمائیں  ۔ پھر آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے یہ بھی بیان فرمایا کہ جب ماں  اورباپ کا آپس میں  جھگڑا ہوجائے تو اولادکیا کرے ، کس کا ساتھ دے ؟ جس کی تفصیل آپ کو اسی رسالے میں  پڑھنے کو ملے گی جسے پڑھ کر آپ کا دل باغ بلکہ باغ مدینہ ہو جائے گا ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ۔

سوال نمبر ۴

          سیدی اعلی حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ میاں  بیوی میں  سے کس کے حقوق زیادہ ہیں ؟

          آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ارشاد فرمایا کہ دونوں  کے ایک دوسرے پر حقوق برابر ہیں  البتہ! عورت پر شوہر کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں  احادیث کثیر ہیں  جن میں  شوہر کے حقوق کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور ایک حدیث میں  تو یہاں  تک ہے کہ ’’عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے یعنی ماں  باپ سے بھی زیادہ اور مرد پر زیادہ حق ماں  کا ہے یعنی بیوی سے بھی زیادہ ۔ ‘‘

سوال نمبر ۵

           سیدی اعلی حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ والدین کے انتقال کے بعد اولاد پر کن کن حقوق کی ادائیگی لازم ہے ؟

          آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے والدین کے انتقال کے بعد ان کے حقوق تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے مثلاً :

            (۱)ان کی موت کے بعد غسل، کفن ، دفن اور نماز کے معاملات میں ، سنتوں  اور       مستحبات کا خیال رکھے ۔

            (۲) ان کیلئے دعاء و استغفار کرتا رہے ۔

            (۳)صدقہ، خیرات اور نیکیاں  کرکے ان کا ثواب والدین کو پہنچائے  ۔

            (۴)ان پر قرض ہوتو اس کی ادائیگی میں  جلدی کرے  ۔

            (۵) ان پر کوئی فرض عبادت رہ گئی ہو تو کوشش کرکے اس کی ادائیگی کرے مثلاً نماز و 

       روزہ ان کے ذمہ باقی ہو تو اس کا کفارہ(فِدیہ) دے ۔   

            (۶)تہائی مال سے زائد مال میں ان کی جائز وصیت کو پورا کرنے کی کوشش کرے  ۔

            (۷)ان کی قَسم ان کی وفات کے بعد بھی سچی رکھے مثلاً جن کاموں  سے ان کی 

       زندگی میں  باز رہتا تھا بعدِ وفات بھی رُکا رہے ۔  

            (۸) ہر جمعہ ان کی قبر کی زیارت کو جائے اور وہاں  تلاوت قرآن کرے ۔  

            (۹)ان کے رشتہ داروں  کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کرے ۔  

            (۱۰)ان کے دوستوں  کا ہمیشہ ادب واحترم کرے ۔

            (۱۱)کبھی کسی کے والدین کو بُرا کہہ کر اپنے والدین کو بُرانہ کہلوائے ۔

            (۱۲)اور سب سے بڑا حق یہ ہے کہ گناہ کرکے قبر میں  ان کو تکلیف نہ پہنچائے ۔   

          الحاصل! والدین کے انتقال کے بعد ان کے حقوق کی اس قدر تفصیل سے بخوبی پتا چل جاتا ہے کہ دینِ اسلام میں  والدین کی وفات کے بعد بھی



Total Pages: 50

Go To