Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

واپس نہ آئیگی کچھ نہ پائے گی([1])، غرض واجب ہونے ، مطالبہ ہونے ، بے و جہ شرعی ادا نہ کرنے سے گنہگار ہونے میں  تو حقوق زن وشوہر برابر ہیں  ہاں ! شوہر کے حقوق عورت پر بکثرت ہیں  اور اس پر وجوب بھی اشد وآکد([2])، ہم اس پر حدیث لکھ چکے کہ عورت پر سب سے بڑا حق شوہرکاہے یعنی ماں  باپ سے بھی زیادہ ، اور مرد پر سب سے بڑا حق ماں  کا ہے یعنی زو جہ کا(حق) اس سے (یعنی ماں  سے ) بلکہ باپسے بھی کم،  وَذٰلِکَ بِمَا فَضَّلَ اللہ بَعْضَھُمْ عَلَی بَعْضٍ([3]) ۔ واللہ تعالی أعلم ۔

مسئلہ :   مسؤلہ شوکت علی صاحب فاروقی   ۱۴ ربیع ا لآخر ۱۳۲۰ھ

            مَا قَوْلُکُم رَحِمَکُمُ اللہ تَعَالٰی اندریں  مسئلہ (آپ پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو، اس مسئلہ کے بارے میں  آپ کا کیا ارشاد ہے ۔ ت)کہ بعد فوت ہوجانے والدین کے اولاد پر کیا حق والدین کارہتا ہے ؟  بَیِّنُوْا بِالْکِتابِ تُؤْجَرُوْا بِالثَّوابِ ۔

الجواب

(۱) سب سے پہلا حق بعد ِموت ان کے جنازے کی تجہیز([4]) ، غسل وکفن ونمازو دفن

ہے اور ان کاموں  میں  سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لئے ہر خوبی

 و برکت ورحمت ووسعت کی امید ہو ۔

(۲) ان کے لئے دُعا واستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا ۔

(۳) صدقہ وخیرات واعمالِ صالحہ کا ثواب([5]) انہیں  پہنچاتے رہنا حسبِ طاقت اس  میں  کمی نہ کرنا، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھنا ، اپنے روزوں  کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنا بلکہ جو نیک کام کرے سب کا ثواب انہیں اور سب مسلمانوں  کو بخش دینا کہ ان سب کو ثواب پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں  کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں  پائے گا ۔

(۴) ان پر کوئی قرض کسی کا ہو تو اس کے ادا میں  حد درجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کا قرض ادا ہونے کو دونوں  جہان کی سعادت سمجھنا ، آپ قدرت نہ ہو تو اورعزیزوں  قریبوں  پھر باقی اہلِ خیر([6]) سے اس کی ادا میں  امداد لینا ۔

(۵) ان پر کوئی فرض رہ گیا تو بقدرِ قدرت اس کے ادا میں  سعی بجالانا([7])، حج نہ کیاہوتوخود ان کی طرف سے حج کرنا یا حجِ بدل([8]) کرانا،  زکوٰۃ یا عُشر([9])  کا مطالبہ ان پر رہاتواُسے ادا کرنا، نماز یا روزہ باقی ہو تو اس کا کفارہ([10]) دینا  وعلی ھذاالقیاس([11]) ہر طرح ان کی برأتِ ذمہ([12]) میں  جدوجہد کرنا ۔

 



[1]     اگر شوہریابیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کاحق ادا نہ کرے تو دوسرا اسے دلیل بنا کر اس کے حق کی ادائیگی کو نہیں چھوڑ سکتا مگر وہ حقوق کہ دوسرے کے کسی حق کو ادا کرنے پر قائم ہوں اور اس نے وہ حق ادا کرنا بھی چھوڑ دیا تو دوسرا بھی اس کے یہ حقوق جو اس پر قائم تھے چھوڑ سکتا ہے مثال کے طور پر بیوی کہ اُس کا نان نفقہ شوہر پر اسی صورت میں لازم ہے کہ بیوی شوہر کے گھر رہے چنانچہ اگر بیوی شوہر کے یہاں سے بغیر کسی شرعی مجبوری کے چلی جائے تو اب شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے ۔

[2]     اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی عورت پر بہت زیادہ لازم اور ضروری ہے ۔

[3]     اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے  ۔

[4]     جنازے کی تیاری ۔              

[5]     نیک اعمال کا ثواب ۔

[6]     نیک مالداروں  ۔

[7]     اس کی ادائیگی میں کوشش کرنا ۔

[8]     یعنی نائب کے طور پر دوسرے کی طرف سے حجِ فرض ادا کرناکہ جس سے اُس دوسرے شخص کا  فرض ادا ہوجائے ، یہ کچھ شرائط سے مشروط ہے جو ’’فتاویٰ رضویہ‘‘، ج۱۰، ص۶۵۹-۶۶۰ پر مذکور ہیں ۔

[9]     عُشر دسویں حصّہ کو کہتے ہیں اور شرعاً عشر سے مُراد وہ زکوۃ ہے جو عُشری زمین (یعنی وہ زمین جسے بارش وغیرہ کا پانی سیراب کرے ) میں زراعت سے منافع حاصل کرنے کی وجہ سے لازم  ہو تو اب اس پیداوار کی زکوٰۃ فرض ہے اور اس زکوٰۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصّہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصّہ فرض ہے اگرچہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصّہ  لیاجائے گا ۔ (’’بہارشریعت‘‘،  ج۱،  حصّہ ۵، ص ۹۱۶، ملخصاً) ۔

[10]     ایک نما ز کا کفارہ (فدیہ) ایک صدقۂ فطر ہے ایک صدقۂ فطر کی مقدار تقریباً دو کلو اور پچاس گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی رقم ہے ۔  ایک دن میں چھ نمازیں :  پانچ فرض اور ایک وتر واجب ہیں چنانچہ ایک دن کی نمازوں کے چھ فدیے دینے ہونگے اور ایک روزے کا فدیہ بھی ایک صدقۂ فطر ہے یاد رہے کہ نمازوں کا فدیہ بعد وفات ہی دیا جا سکتا ہے اور روزوں کا فدیہ زندگی میں بھی دیاجاسکتا ہے جبکہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا کہ اب صحتیاب ہونے کی امید نہ ہو یا بہت زیادہ بوڑھا ہو گیا ہو جسے ’’شیخ فانی ‘‘کہتے ہیں ۔

[11]     اسی پر مزید قیاس کرلیں ۔

[12]     ان کے ذمہ پر جو حقوق لازم ہیں ان سے چھٹکارا دلانے ۔



Total Pages: 50

Go To