Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

کیلئے جَمْع ہوتے ہیں ، البتہ! مکہ و بصرہ والے جب جَمْع ہوتے ہیں تو ان کا طریْقِ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص 10 آیات پڑھتا ہے اور باقی لوگ خاموشی سے سنتے ہیں پھر دوسرا شخص پڑھتا ہے اور لوگ خاموشی سے سنتے ہیں ، یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے یہاں تک کہ سب اپنی اپنی باری پر 10 ، 10آیات پڑھ لیتے ہیں۔[1]

(5) پیر مہر علی شاہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول

حضرت سَیِّدُنا پیر سیِّد مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ (مُتَـوَفّٰی ۲۹ صفر المظفر ۱۳۵۶ھ بمطابق 11 مئی 1937ء) کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے :  نَمازِ فَجْر کی ادائیگی کے بعد آیةُ الکُرْسى ، سُبْحٰنَ الله ، اَلْحَمْدُ لِلّٰه اور اَلله اَکۡبَر پڑھ کر دُعا مانگا کرتے تھے ، پھر ذِکْرِ جَھْر(یعنی بُلَند  آواز سے ذِکْر)[2] فرماتے اور تىن۳ چار۴ بار کلمہ شرىف پڑھ کر دوبارہ دُعا فرماتے ، پھر مکرّر ذِکْر کلمہ شرىف بِالْـجَھْر فرما کر تىسرى دَفْعَہ دُعا مانگا کرتے ، اس کے بعد عادَت مُبارَک تھى کہ10 بجے تک اوراد و وظائف مىں مَشْغُول رہتے ، کبھى ىہ شَغْل مَسْجِد مىں ہى ادا ہوتا اور کبھى حُجرہ شرىف مىں ، اس شَغْل کے دوران کسى کے ساتھ کلام نہىں فرماتے تھے۔[3]

(6) حُضُور مُحَدِّثِ اَعْظَم کا معمول

حُضُورمُحَدِّثِ اَعْظَم پاکستانحضرت علامہ مولانامُفتی سرداراحمدچشتی قادِری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ(مُتَـوَفّٰی یکم شعبان المعظم۱۳۸۲ھ بمطابق 1962ء) فَجْر کا وَقْت شروع ہونے سے پہلے بىدار ہوتے اور ضَرورىات سے فارِغ ہو کر ذِکْر و مُنَاجَات میں مَصْرُوف ہو جاتے ، شاہى مَسْجِد مىں نَمازِ باجَمَاعَت تکبىرِ اُولىٰ کے ساتھ ادا کرتے اور صُبْح سے دوپہر تک پھر ظہر سے عَصْر تک پڑھاتے رہتے۔[4]

(7) مفتی احمد یار خانرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول

مَشْہُور مُفَسِّرقرآن ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مَعمولات میں بھی صُبْح کا دَرْس شامِل تھا ، آپ نَمازِ فَجْر سے فارِغ ہو کر آدھا گھنٹہ قرآنِ کریم کا اور 15 منٹ مِشْکَاۃ شریف کا دَرْس دیتے تھے۔[5]

 مدنی حلقے کے 4 معمولات کی وضاحت

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!مدنی حلقہ ان 4قسم کے معمولات پر مُشْتَمِل ہے :  

٭3 آیات کی تلاوت ، ترجمہ و تفسیر           ٭فیضانِ سنّت کے ترتیب وار4 صفحات کا درس

٭مَنْظُوم شجرہ شریف                               ٭اور دُعا

آئیے! اب ان چاروں معمولات کے مُتَعَلِّق مُـخْتَصَرًا جانتے ہیں :  

1- تین آیات کی تلاوت ، ترجمہ و تفسیر

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!جس زمانے میں قرآنِ کریم عربی زبان میں نازِل ہوا ، اس وَقْت عربی کی فَصَاحَت و بلاغت[6]کے ماہرین مَوجُود تھے ، وہ اس کے ظاہِر اور اسکے اَحْکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غورو فکر کرنے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہِر ہوتی تھیں۔جیسا کہ جب یہ آیَتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی : اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (پ۷ ، الانعام :  ۸۲)

ازِل م سننافحات ت یںں ات کی کوعفجر محافل اریاں کے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں عَرْض کی :  ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظُلْم نہیں کرتا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہاں ظُلْم سے مُراد شِرک ہے اور اس پر اس آیت اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) (پ۲۱ ، لقمان :  ۱۳) سے اِسْتِدْلَال فرمایا۔(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب میدانِ فَصَاحَت و بلاغت کے شہسواروں کو قرآن کے مَعَانی سمجھنے کے لئے اَلفاظ ِقرآنی کی تفسیر کی حاجَت ہوئی) تو ہم تو اُس چیز کے زیادہ مُحتَاج ہیں ، جس کی انہیں ضَرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے مُحتَاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت کے  معانی و مَفَاہیم اور اسکے مَرَاتِب مَعْلُوم نہیں ہو سکتے۔[7] چُنَانْچِہ جو لوگ قرآنِ کریم پڑھتے ہیں مگر اس کی تفسیر  



[1]     جامع العلوم والحکم ، الحدیث السادس والثلاثون ، ص ۳۵۲ملتقطًا

[2]     بلند آواز سے ذِکْر کرنا جائز ہےمگر یہ اِحْتِیاط پیشِ نَظَر رہے کہ سوتے ہوئے لوگوں کی نیند میں خَلل نہ آئے یا مریض ، نَمازی یا تِلاوَت کرنے والے کو تشویش نہ ہو۔ (بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت ، ص۱۱۳-۱۱۴ ملتقطاً بتغیر قلیل)

[3]      فیضانِ پیر مہر علی شاہ ، ص۱۶

[4]      فیضانِ محدث اعظم ، ص۲۲

[5]    حالات زندگی حکیم الامت...الخ ، ص۱۸۰ بتصرف

[6]    کلام میں ایسے الفاظ لانا جو روز مرہ اور محاورے کے خلاف نہ ہوں اور موقع و محل کے مطابق ہوں ، فصاحت کہلاتا ہے۔(فیروز اللغات ، ص۹۹۳)جبکہ کلام میں انتہائی درجے تک پہنچنا اور حَسْبِ موقع گفتگو کرنے کو بلاغت کہتے ہیں۔ (فیروز اللغات ، ص۲۱۲)