Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

٭ اِشْرَاق و چاشت کا وَقْت [1]شروع ہوتے ہی نَمازِ اِشْرَاق و چاشت ادا کی جائے اور مُـخْتَصَر دُعا کی جائے۔

٭ آخِر میں مُبَلِّغ اِسْلَامی بھائی سب سے خندہ پیشانی سے مُلَاقَات کریں۔

مدنی حلقہ مسجد میں لگانے کی حکمت

مَسْجِد اللہ پاک کا مُبارَک گھر ہے ، جس میں مسلمان اپنے کریم و رحیم رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں ، جب کوئی شخص اس میں داخِل ہوتا ہے تو بَہُت سارے گناہوں سے بچ جاتا ہے ، بظاہِر اس کا دنیا سے تَعَلّق خَتْم ہو جاتا ہے اور شیطان کے وار کا زور بھی کم ہو جاتا ہے ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مَعْقِل رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  شیطان سے بچنے کے لئے مَسْجِد ایک مَضْبُوط قَلعہ ہے۔ [2]اور مَسْجِد میں یادِ الٰہی کرنے والوں سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے اور ان پر نُور کی رَحْمَت برستی ہے۔ایک رِوایَت میں ہے :  جو مسلمان مَسْجِد کو نَماز اور ذِکْر کے لئے ٹھکانہ بنا لیتا ہے تو اللہ پاک اس کی طرف رَحْمَت کی نَظَر فرماتا ہے۔[3]

اَسلاف کے مَدَنی حلقے

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! ہمارے اَسلاف (یعنی بزرگوں)کی عادَتِ مُبارَکہ تھی کہ وہ بعدِ فَجْر مَسْجِد میں ہی تشریف فرما ہو جاتے اور اپنے اَوراد و وظائف میں مَصْرُوف رہتے یا پھر دَرْس و تدریس میں مَشْغُول ہو جاتے۔ آئیے! چند ایک بُزُرْگانِ دِیْن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کے بعدِ فَجْر کے مَعْمُولات مُلَاحَظہ کرتے ہیں :  

(1) امام اعظم کا معمول

سِرَاجُ الْاُمَّہْ ، کَاشِفُ الْغُمَّہْ ، [4]  حضرت سَیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابِت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی پوری زِنْدَگی دِیْنِ اِسْلَام کی خِدْمَت میں گزری ، آپ کے شاگردوں نے اِسْلَامی تعلیمات کی حقیقت کو اُجاگَر کیا اور ان کو پھیلانے میں دن رات مَصْرُوف رہے ، آپ کے دَرْس کا سلسلہ نَمازِ فَجْر کے فوراً بعد شروع ہو جاتا اور پورا دن جاری رہتا ، صِرف نَماز وغیرہ کے لئے وقفہ ہوتا۔[5]

ہو نائبِ سرورِ دو۲ عالم ، امامِ اعظم ابوحنیفہ      سراجِ اُمّت فقیہِ اَفخم ، امامِ اعظم ابو حنیفہ

جو بے مثال آپکا ہے تقویٰ ، تو بے مثال آپکا ہے فتویٰ            ہیں علم و تقویٰ کے آپ سنگم ، امامِ اعظم ابوحنیفہ[6]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(2) امام شافِعِی کا معمول

حضرت سَیِّدُنا اِمام ابو عبداللہمحمد بن اِدریس شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی اپنی زِنْدَگی دِیْنِ اِسْلَام کی خِدْمَت کیلئے وَقْف کر رکھی تھی ، تصنیف و تالیف[7] کے ساتھ ساتھ دَرْس و تدریس سے بھی بے پناہ مَحبَّت تھی کہ صُبْح ہوتے ہی اسی کام میں مَشْغُول ہو جاتے اور صُبْح کی نَماز کے بعد ہی دَرْس شروع کر لگتے۔[8]

 (3)امام وكیع کا معمول

حضرت سَیِّدُنا اِمام وکیع رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ صَائِمُ الدَّہر تھے ، (یعنی عِیْدَیْن و اَیّامِ تَشریق کے عِلاوہ 12 ماہ روزہ رکھتے تھے)صُبْح سویرے حدیث شریف کا دَرْس دیتے ، جب دن چڑھ جاتا تو گھر تشریف لے جاتے۔[9]

(4) دمشق ، حمص ، مکہ اور بصرہ والوں کا طریقہ

حضرت سَیِّدُنا حرب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے دِمَشْق ، حمص ، مکہ اور بصرہ والوں کو دیکھا کہ وہ صُبْح کی نَماز کے بعد اجتماعی طور پر قرآنِ کریم پڑھنے



[1]     سُورَج طُلُوع ہونے کے کم از کم 20 یا 25 مِنَٹ بعد سے لے کر ضَحْوَۂ کُبریٰ تک نَمازِ اِشْرَاق کا وَقْت رہتا ہے۔جبکہ نَمازِ چاشت کا وَقْت آفتاب بُلَند ہونے سے زَوال یعنی نِصْفُ النَّہَار شَرْعِی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔(بہار شریعت ، سنن و نوافل کا بیان ، ۱ / ۶۷۶( نَمازِ اِشْرَاق کے فوراً بعد بھی چاہیں تو نَمازِ چاشت پڑھ سکتے ہیں۔(مدنی پنج سورہ ، ۲۷۷-۲۷۸ملتقطاً)

[2]     مصنف ابن ابی شیبه ، کتاب الزھد ، ماجاء فی لزوم المساجد...۸ / ۱۷۲ ، حديث : ۴

[3]     ابن ماجه ، کتاب المساجد...الخ ، باب لزوم المساجد...الخ ، ص۱۳۶ ، حدیث : ۸۰۰

[4]    امت کے چراغ اور مُبْھَمْ و پیچیدہ معاملات کو کھولنے والے۔

[5]    اخبار ابی حنیفه ، ذکر ما روی فی تهجدہ ...الخ ، ص۵۳ مفهومًا

[6]    وسائِلِ بخشش(مرمّم) ، ص۵۷۳ملتقطاً

[7]    تصنیف کا مَطْلَب کتاب لکھنا اور مضمون بناناہے جبکہ تالیف مُـخْتَلِف کتابوں سے مَضامین چُن کر نئے پیرائے میں ترتیب دینے کو کہتے ہیں۔ (فیروز اللغات ، ص۳۳۹-۳۶۲)

[8]    مناقب الشافعی للبیھقی ، باب ما يؤثر من خضاب الشافعی الخ ، ۲ / ۲۸۵ ملتقطًا