Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

بلکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ دُعا عِبَادَت کا مغز ہے۔[1] اپنے کریم رب کی عظیم بارگاہ سے مُرادیں پانے اور دُنْیَوی و اُخْرَوِی مَصَائِب و مُشکلات کے حل کیلئے اس سے بڑھ کر مُؤَثِّر ذریعہ کوئی نہیں۔ اس لئے اِخْتِتامِ مدنی حلقہ پر بارگاہِ خداوندی میں دُعا بھی مانگی جاتی ہے ، کہ قرآنِ کریم اور اَحادیثِ مُبارَکہ میں جگہ جگہ دُعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ جیسا کہ پارہ 2 ، سُورۂ بقرہ کی آیت نمبر 186 میں اِرشَاد ہوتا ہے :  

اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ

ترجمۂ کنز الایمان : دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے۔

ایک مقام پر اِرشَاد ہوتا ہے :

اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ       (پ۲۴ ، المؤمن : ۶۰)

ترجمۂ کنز الایمان : مجھ سے دُعا کرو میں قبول کروں گا۔

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!اللہ پاک کے نزدیک کوئی شے دُعا سے بزرگ تر نہیں۔[2] دعا مسلمانوں کا ہتھیار ہے ، دِین کا ستون اور آسمان وزمین کا نورہے۔[3]دعا ایک عجیب نعمت اور عُمْدَہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالیٰ(پاک اور بلند وبالا)نے اپنے بندوں کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی ، حَلِّ مشکلات میں اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں ، اور دَفْعِ بلا و آفت میں کوئی بات اس سے بہتر نہیں۔[4]لِہٰذا مصیبتوں سے نجات چاہتے ہیں تو دُعا مانگتے رہئے ، جیسا کہ مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُشْکبار ہے : بَلا اُترتی ہے تو دُعا اُس سے جا ملتی ہے ، پھر دونوں قِیامَت تک جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔[5] یعنی دُعا اس بَلا کو اُترنے نہیں دیتی۔

اسی طرح رِزْق میں وُسْعَت درکار ہے تو بھی دعا مانگئے۔ جیسا کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا :  کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نَجات دے اور تمہارا رِزْق وسیع کرے ، رات دن اللہ پاک سے دُعا مانگتے رہو کہ دُعا مومِن کا ہتھیار ہے۔[6]

دُعا کے 3 فائدے

اس پُر فتن دور میں ہر شخص پریشان ہے ، طرح طرح کی مصیبتوں میں مُبْتَلا ہے ، اسی سوچ و بچار میں دن رات گزرتے ہیں ، اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہر شخص کوشش کرتا ہے ، اس سلسلے میں اللہ پاک کے مَـحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں ان چیزوں سے چھٹکارا حاصِل کرنے کے لئے دُعا کی ترغیب اِرشاد فرمائی۔چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا : جب کوئی مسلمان ایسی دُعا مانگتا ہے ، جس میں گناہ ہو نہ قَطْع رِحْـمی تو اللہ پاک اسے 3 عَطاؤں میں سے ایک ضَرور دیتا ہے : اس کی دُعا قبول کرلیتا ہے یا آخِرَت میں اس کے لئے ذخیرہ کر دیتا ہے یا اس جیسی مُصِیْبَت ٹال دیتا ہے۔ [7]

جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو

درِ کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا

میٹھےمیٹھے اِسْلَامی بھائیو!دُعا کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی اِس کا دُنیا میں اگر اثر ظاہِر نہ بھی ہو تو آخِرت میں اَجْر و ثواب مِل ہی جائے گا۔ لہٰذا دُعا میں سُستی کرنا مُناسِب نہیں۔

ذکر کے فضائل

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!بعدِ فَجْرمدنی حلقے کی اختتامی دُعا کے بعدنَمازِ اِشْرَاق و چاشت کے اِنتِظار میں اگر کچھ وَقْت بچ جائے تو اسے ضائع مت کیجئے بلکہ ذِکْرِ الٰہی میں مَشْغُول ہو جائیے کہ حضرتِ سیِّدُنا کَعْبُ الْاَحْبَار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک شخص مَسْجِد کے دروازے پر چِت کَبرے گھوڑے پر سامان لاد کر اسے راہِ خُدا میں دیدے اور خوش دِلی کے ساتھ مال تقسیم کر دے اور دوسرا شخص نَمازِ فَجْر کے بعد مَسْجِد میں سُورَج نکلنے تک ذِکْرِ الٰہی میں مَشْغُول رہے تو ذِکْرُاللہ میں مَشْغُول رہنے



[1]      ترمذی ، کتاب الدعوات ، ۲- باب منه ، ص۷۷۷ ، حديث : ۳۳۷۱

[2]      ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی فضل الدعاء ، ص۷۷۷ ، حدیث :  ۳۳۷۰

[3]      مستدرك ، کتاب الدعاء والتکبیر...الخ ، الدعاء سلاح...الخ ، ۲ / ۱۶۲ ، حدیث :  ۱۸۵۵

[4]      فضائل دعا ، ص۵۴

[5]     مستدرك ، کتاب الدعاء...الخ ، الدعا ء ینفع...الخ ، ۲ / ۱۶۲ ، حدیث : ۱۸۵۶

[6]