Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہم تو ہلکی سی تکلیف بھی بَرداشت نہیں کر پاتے تو جہنم کا دَردناک عذاب کیسے بَرداشت کر پائیں گے ؟

اِسیطرح مسلمانوں میں نفرتیں بڑھانے کا ایک سبب بِلا مَصْلَحَتِ شَرعی گروہ بندی بھی ہے اَلبتہ اگر کسی سے دُور یاالگ رہنے کا حکمِ شَرعی ہو تو یہ اور بات ہے ۔  جب اپنے اپنے گروہ یا مَخْصُوص حلقے بنا لیے جاتے ہیں تو اس سے بھی ایک دوسرے  کی مُخالفت اور آپس میں نفرتیں جنم لیتی ہیں جس سے مسلمانوں میں محبت و اِتحاد پیدا نہیں ہو پاتا اور دِین کے کام کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر آپس  میں اِتفاق و اتحاد ہو گا تو ہم  نفس و شیطان کے وار سے بچ کر  دِین کا کام بھی زیادہ سے زیادہ کر سکیں گے کیونکہ اِتفاق و اِتحاد میں بَرکت اور سَلامتی ہے  اِس ضِمن میں ایک  حِکایت مُلاحظہ کیجیے : ”ایک حکیم نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد کو وَصِیَّت کرتے ہوئے چند لاٹھیاں لانے کو کہا ، جب وہ لاٹھیاں لائے تو انہیں ایک ساتھ باندھ کر  کہا :  ان لاٹھیوں کو توڑو ۔ سب نے لاٹھیاں  توڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔  پھر اس نے ان لاٹھیوں کو الگ الگ کیا اور ایک ایک لاٹھی سب کو  دیتے ہوئے کہا :  اب انہیں  توڑو ۔  دیکھتے ہی دیکھتے سب نے  لاٹھیاں توڑ  ڈالیں ۔  حکیم نے کہا  : تمہاری مثال بھی ان لاٹھیوں کی طرح  ہے کہ  اگر تم میرے بعد آپس میں اِتفاق و اِتحاد کے ساتھ رہو گے تو ( ان بندھی ہوئی لاٹھیوں کی طرح مَضبوط  ومستحکم رہو گے  ) دُشمن تم پر غالِب نہیں آ سکے گا اور اگر تم ایک دوسرے سے  جُدا ہو  گئے تو ( ان الگ الگ  کی  ہوئی لاٹھیوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاؤ گے اور )  تمہارا  دُشمن تم پر قابو پا کر تمہیں ہَلاک کر دے گا ۔ “ ( [1] )

مسلمانوں کو آپس میں اِتفاق پیدا کر کے محبتیں عام کرنی  اور نفرتیں  دُور  کرنی چاہییں اور ہراس کام سے بچنا چاہیے جو ایک دوسرے  کے لیے  نفرت و عداوت  اور اِیذا رسانی  کا باعِث بنتا ہو ۔  حدیثِ پاک میں ہے : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مُہاجِر وہ ہے جو بُرے کام چھوڑ دے ۔  ( [2] ) لہٰذا ہمیں  ہر طرح سے مسلمانوں کی عزت و عظمت اور جان مال  کا مُحافِظ بننا چاہیے ۔ اگر کوئی تکلیف دے تو اس کی تکلیف پر صبر کرتے ہوئے  اَجر و ثواب کا طالِب ہونا چاہیے ۔  

کوئی دُھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صبر کر

                          مت جھگڑ، مت بُڑبُڑا، پا اَجر رب سے صبر کر        ( وسائلِ بخشش )

مدنی کام کرتے وقت نیَّت

سُوال : دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرتے وقت کیا       نیَّت ہونی چاہیے ؟

جواب : دعوتِ اسلامی کا مدنی کام ہو یا کوئی سا بھی نیک عمل اس میں ثواب حاصل کرنے کے لیے حسبِ حال اچھی اچھی نیتیں کر لینی چاہئیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر ہر نیت پر ثواب ملے گا ۔  بَحر و بَر کے بادشاہ ، دو عالَم کے شہنشاہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ یعنی اَعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔   ( [3] ) اِس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری حضرتِ علّامہ مفتی شریفُ الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : حدیث  کا یہ مَطلب ہوا کہ اَعمال کا ثواب نیَّت ہی پر ہے ، بغیر نیَّت کسی عمل پر ثواب کا اِستحقاق ( یعنی حَقدار )  نہیں ۔  ( [4] )  لہٰذا ہر نیک و جائز  کام کرتے وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا و خوشنودی  حاصل کرنے

 



[1]    رو ح  البیان، پ ۲۵، الشوریٰ، تحت الآیة : ۱۳ ، ۸ / ۲۹۶ کوئٹه

[2]    بخاری، کتاب الرقاق ، باب الانتھاء عن المعاصی، ۴ / ۲۴۳، حدیث : ۶۴۸۴  

[3]    بخاری، کتاب بدء الوحی ، باب کیف کان بدء الوحی ...الخ، ۱ / ۶، حدیث : ۱ 

[4]    نزھۃ القاری، ۱ / ۲۲۷فرید بک سٹال مرکزالاولیالاہور



Total Pages: 18

Go To