Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

کرنے ، اس سے تکلیف دُور کرنے  اور اس کی عیب پوشی کرنے کی بڑی فضیلت ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا  عَبْدُ اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ رَسُولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظُلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے اللہ  عَزَّوَجَلَّ   اُس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ قِیامت کی تکالیف میں سے اُس کی تکلیف دُور  فرمائے گا اور جو کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی فرمائے گا ۔  ( [1] )  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غصّے سے اِجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سینے کو  کینہ ٔ  مُسلِم سے  پاک کر لیجیے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیرخواہانہ سلوک کیجیے ۔ ان کی خُوشی کو اپنی خُوشی اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف تصوُّر کیجیے کہ مسلمان آپس میں ایک جِسم کی طرح ہیں اگر جِسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جِسم وہ تکلیف محسوس کرتا ہے جیسا کہ بے چین دِلوں کے چین، رَحمتِ دَارَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ چین ہے : باہَم مَحَبَّت و رَحم و نرمی میں مؤمِنوں کی مثال ایک جِسم  کی سی ہے کہ جب اس کے ایک حصّے کو تکلیف پہنچتی ہے تو باقی جِسم بھی بخار اور بے خوابی کا شِکار ہوجاتا ہے ۔ ( [2] )  

مبتلائے دَرد کوئی عُضْوْ ہو روتی ہے آنکھ

کس قَدَر ہمدرد سارے جِسم کی ہوتی ہے آنکھ

مسلمانوں میں نفرت و عداوت ڈالنا کیسا؟

سُوال : مسلمانوں میں  دُشمنی و عداوت ڈالنا اور نفرتیں بڑھانا  کیسا ہے ؟ نیز نفرت و عداوت کے اَسباب بھی بیان فرما دیجیے ۔  

جواب :  مسلمانوں کے دَرمیان دُشمنی و عداوت ڈالنا ، نفرتیں پھیلانا اور انہیں آپس میں لڑانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام  ہے ۔  ایسے لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند نہیں فرماتا چنانچہ پارہ 20 سُوْرَۂ  قَصَص کی آیت نمبر77 میں خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  

وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور زمین میں فساد نہ چاہ بیشک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ۔

مسلمانوں میں  دُشمنی و عداوت ڈالنے اور نفرتیں بڑھانے کا ایک سبب ایک دوسرے کی بُرائیاں اُچھال کر ایک دوسرے  کو بَدنام کرنا بھی ہے ۔  اس سے بھی نفرت و عداوت پیدا ہوتی ہے ایسا کرنے والوں کو اپنی دُنیا وآخرت کی فِکر کرتے ہوئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے چنانچہ پارہ 18سُوْرَۃُ النُّور کی آیت نمبر 19 میںاللہ  عَزَّ وَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-

ترجمۂ کنزُ الایمان : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے اُن کے لیے دَردناک عذاب ہے دُنیا اور آخرت میں ۔

دوسروں کے بِلااِجازتِ شَرعی عُیُوب بیان کرنے اور انہیں لوگوں میں بَدنام کرنے کے سبب  اگر خُدا نخواستہ عذابِ الٰہی کا شِکار ہو گئے



[1]    مسلم، کتاب البر والصلة  والآداب ، باب تحریم الظلم ، ص۱۰۶۹، حدیث : ۶۵۷۸دار الكتاب العربی  بيروت

[2]    مسلم، کتاب البر والصلة  والآداب، باب تراحم المؤمنین...الخ ، ص۱۰۷۱، حدیث : ۶۵۸۶ 



Total Pages: 18

Go To