Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

وَسَلَّم کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِیذا دینے والوں، سَتانے والوں بلکہ اپنے جانی دُشمنوں کو بھی مُعاف فرما یا ہے ۔  

واہ رے حلم کہ اپنا تو جگر ٹکڑے ہو

پھر بھی اِیذائے ستم گر کے رَوا دار نہیں

ہماری حالت یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں سے ناراض  ہو جاتے ہیں، اس میں سرا سر  نُقصان اور شیطان کی خُوشی کا سامان ہے ۔  باہمی  رَنجشوں اور ناچاقیوں سے تنگ آ کر بالآخر فریقین میں سے کسی ایک کے مدنی ماحول سے دُور ہونے ، نمازیں چھوڑنے اور دِیگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ  بد مذہبوں کی صحبت اِختیار کرنے اور عَقائد بگڑنے کا بھی اَندیشہ ہوتا ہے لہٰذااگر بتقاضائے بَشَرِیَّت کسی سے  کوئی غَلَطی کوتاہی صَادِر ہو جائے تو اسے مُعاف کر دینا چاہیے ۔  یقیناً کوئی بھی جُرم  ناقابلِ مُعافی نہیں ہوتا ۔  اگر کسی اِنسان سے مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کُفر بھی سَرزد  ہو جائے تو وہ بھی  سچی توبہ سے مُعاف ہو جاتا ہے ۔  

فریقین کو صُلح کے فَضائل اور آپس کے اِختلافات کے سبب پیدا ہونے والے  لڑائی جھگڑے ، بُغض و حسد ، گالی گلوچ ، بے جا غصّے اور کینے وغیرہ کے دِینی و دُنیوی نُقصانات بیان کیے جائیں ۔  ظاہری صورت کو سُنَّتوں کے سانچے میں ڈھالنے اور سَنوارنے کے ساتھ ساتھ  اپنے باطِن کو بھی سَنوارنے اور اس کی اِصلاح کرنے کاذہن دیاجائے ۔  فریقین کے جَذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے  انہیں اس طرح سمجھائے کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا ۔  ہم اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج وغم دینے اور  جُدائیاں پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذَریعے جوڑ پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں   جیسا کہ مولانا روم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَیُّوْم فرماتے ہیں  :

تُو بَرائے وَصل کَردن آمدی

          نے بَرائے فَصل کَردن آمدی    ( [1] )

یعنی تو جوڑ پیدا کرنے  کے لیے آیا ہے ، توڑ پیدا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔

اگر ہم اپنی صفوں میں اِتحاد پیدا کریں گے تو بہت اچھے طریقے سے زیادہ سے زیادہ دِین کا کام کر سکیں گے ۔  باہمی محبت و اِتحاد سے جو کام ہو سکتا ہے وہ اکیلے رہ کر نہیں ہو سکتا ۔  پھر فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے دَرمیان صُلح میں سَبقت لے جانے کا جَذبہ پیدا کر کے انہیں آپس میں مِلوا دے ۔  حتَّی الاِمْکان کسی فریق کو دوسرے کے خِلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ  ہو کر بسا اوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے دَرمیان صلح کروانا اِنتہائی مُشکل ہو جاتا ہے ۔ آپس کی ناراضیوں، نااتفاقیوں  اور ناچاقیوں سے بچتے رہنا چاہیے کہ ان   کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے عظیم مدنی کام کو بھی شَدید نُقصان پہنچتا ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  نرمی اپنانے ، ایک دوسرے  کو مَنانے اور لڑائی جھگڑے سے خود کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

تُو نرمی کو اپنانا جھگڑے مٹانا   رہے گا سَدا خوشنما مَدنی ماحول

تُو غصّے جھڑکنے سے بچنا وَگرنہ           یہ بدنام ہو گا تِرا مَدنی ماحول

 



[1]   مثنوی مولوی  معنوی ، ۲ / ۱۷۳ مرکزالاولیا لاہور  



Total Pages: 18

Go To