Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ نے کس لیے تَبَسُّم فرمایا : اِرشاد فرمایا  : میرے دو  اُمَّتی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بار گاہ میں دو زانُو گر پڑیں گے ، ایک عرض کر ے گا : یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اس سے میرااِنصاف دِلا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ مُدَّعی ( یعنی دعویٰ کرنے والے )  سے فرمائے گا : اب یہ بے چارہ  ( یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ )  کیا کرے اِس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں ۔  مَظلُوم  ( مُدَّعی )  عرض کریگا  : ”میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈال د ے ۔ “ اتنا اِرشاد فرما کر سرورِ کائنات، شاہِ موجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رو پڑے ، فرمایا :  وہ دن بَہُت عظیم دن ہوگا کیونکہ اُس وقت  ( یعنی بروزِ قِیامت ) ہر ایک اس بات کا ضَرورت مند ہو گا کہ اس کا بو جھ ہلکا ہو ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ مَظلُوم  ( یعنی مُدَّعی ) سے فرمائے گا : دیکھ تیرے سامنے کیا ہے ؟ وہ عرض کرے گا : اے پَروردگار عَزَّوَجَلَّ  ! میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے  مَحلَّات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے آراستہ ہیں یہ شہر اور عُمدہ مَحلَّات کس پیغمبر یا صِدّیق یا شہید کے لیے ہیں؟اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :  یہ اُس کے لیے ہیں جوان کی قیمت ادا کرے ۔  بندہ عرض کرے گا : ان کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : تُو ادا کر سکتا ہے ۔   وہ عرض کرے گا :  کس طرح ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : اِس طرح کہ تُو اپنے بھائی کے حُقُوق مُعاف کر دے ۔  بندہ عرض کرے گا : یَااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے سب حُقُوق مُعاف کیے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور دونوں اِکٹھے جنَّت میں چلے جاؤ ۔  پھر سرکار ِنامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور مخلوق میں صُلح کرواؤ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی بروزِ قِیامت مسلمانوں میں صُلح کروائے گا ۔  ( [1] )  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِن آیات و رِوایات سے صُلح کروانے کی اَہمیت اور اس کے فَضائل وبَرکات  معلوم ہوئے  لہٰذا جب کبھی مسلمانوں میں ناراضی ہو جائے تو ان کے دَرمیان صُلح کروا کر یہ فَضائل و بَرکات حاصِل کرنے چاہئیں ۔  بعض اوقات شیطان یہ  وَسوسہ ڈالتا ہے کہ انہوں نے صُلح پر آمادہ ہونا ہی نہیں لہٰذا انہیں سمجھانا بیکار ہے ۔  یاد رکھیے ! مسلمانوں کو سمجھانا بیکار نہیں بلکہ مفید ہے جیسا  کہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ( پ۲۷، الذّٰریٰت : ۵۵ )

ترجمۂ کنز الایمان : اورسمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں  کو فائدہ دیتا ہے  ۔

صلح کروانے کا طریقہ

سُوال :  مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی اگر کسی وجہ سے آپس میں ناراض ہو جائیں تو ان میں صُلح کیسے کروائی جائے ؟

جواب : مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا کروا کر ان کی آپس میں پُھوٹ ڈَلوانا اور نفرتیں بڑھانا یہ شیطان کے اَہم اَہداف میں سے ہے ۔  بسا اوقات شیطان مَدَنی ماحول سے وَابستہ نیکی کی دعوت عام کرنے والوں کے دَرمیان پُھوٹ ڈلوا کر  بُغض و حَسد کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتا ہے جسے صُلح کے ذَریعے مسمار کرنا اِنتہائی مُشکل ہوتا ہے ۔  صُلح کروانے والے کو چاہیے کہ وہ  صُلح کروانے سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کامیابی کی  دُعا کرے پھر ان  دونوں کو اَلگ اَلگ بٹھا کر ان کی شِکایات سُنے اور اَہم نِکات لکھ لے ۔  ایک فریق کی بات سُن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کرے کہ  ہو سکتا ہے  جس کی بات اس نے  سُنی وہی غَلَطی پر ہو، اس طرح  دوسرے فریق کی حَق تلفی کا قَوی اِمکان ہے ۔  فریقین  کی بات سننے کے بعد انہیں صُلح پر آمادہ کرے اور سمجھائے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ



[1]    مُسْتَدْرک حاکم، کتاب الاھوال، باب اذا لم یبق من الحسنات...الخ ، ۵ / ۷۹۵، حدیث :  ۸۷۵۸  دار المعرفة  بیروت



Total Pages: 18

Go To