Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( پ۵، النسآء : ۵۹ )

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! حکم مانو اللہ  کا اور حکم مانو  رسول کا ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کے لیے  کافی تھا لیکن اس کے باوجود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایسا اعلیٰ کِردار پیش کیا کہ ہر شخص خُود بخود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف  کھنچتا ہوا  روئے  تاباں پر فَریفتہ ہو کر گیسوئے پاک کا اَسیر ہو گیا ۔ یقیناً ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ اور مَشعَلِ راہ  ہے ۔  ذِمَّہ داران کو چاہیے کہ وہ عِلم وعمل کے پیکر بنیں اور اپنے کِردار و گُفتار کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کریں ۔  اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ نَرمی اور حُسنِ اَخلاق  سے پیش آئیں اور ان کے دُکھ دَرد میں شَریک ہوں تاکہ ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں ان کی محبت پیدا ہو اور وہ ان کی اِطاعت کرنے پر مَجبور ہو جائیں ۔   

عُہدہ واپس لیے جانے پر کیا کرنا چاہیے ؟

سُوال : عُہدہ واپس لیے جانے پر ایک ذِمَّہ دار کا ردِّ عمل کیسا ہونا چاہیے ؟

جواب : اگر کسی ذِمَّہ دار سے عُہدہ واپس لے لیا جائے تو اُسے چاہیے کہ دِل میں کَدُورَت  ( رَنجش )  لائے بغیر اپنے عُہدے سے سَبُکدُوش ہو کر پہلے کی طرح مدنی کاموں میں مَشغول رہے ۔ یاد رکھیے ! عُہدہ دے کر کسی کی وَفا کو نہیں جانچا  جاتا بلکہ عُہدہ لے کر ہی اسے جانچا جا سکتا ہے ۔ جس سے عُہدہ واپس لے لیا جائے تو دَراصل یہ اس کے اِمتحان کا وقت ہے ۔  اس اِمتحان میں کامیاب ہونے کے لیے اس سابقہ ذِمَّہ دار کو چاہیے کہ جس طرح پہلے وہ  مدنی کام کرتا تھا اب بھی  اسی طرح مدنی کام کرتے ہوئے اپنے نئے ذِمَّہ دار کی اِطاعت کرے اور کبھی بھی یہ شِکوہ و شِکایت  نہ کرے کہ مجھ سے ذِمَّہ داری کیوں واپس لے لی گئی؟ کیونکہ کسی کو ذِمَّہ داری دیتے وقت یہ ضَمانت  ( Guarantee )  تو نہیں دی جاتی کہ”اب زندگی بھر آپ ہی ذِمَّہ دار  رہیں گے ۔ “ ا یسے وقت میں صبر و شکر کے ساتھ بدستور کام کیے جانا ہی اِطاعت ہے ۔ اگر کوئی ذِمَّہ دار ایسا نہ کرے بلکہ مُخالفت  شروع کر دے یا مدنی کام چھوڑ دے تو یہ وَفا کے اُصُولوں کے خِلاف ہے ۔  عُہدے سے جب  دَھکا لگتا  ( یعنی عُہدہ واپس لیا جاتا )  ہے تو اس وقت اندر کا حال ظاہِر ہوتا ہے کہ کون  کتنا وفادار اور مُخلص ہے اس ضِمن میں  ایک دِلچسپ حِکایت پیشِ خدمت ہے  :

مختلف زبانوں کا ماہِر پروفیسر

ایک رِیاست کا بادشاہ اَدیبوں کا  بہت مَدّاح  تھا ۔  اس کی سَلطَنت میں مختلف زبانوں کا ماہِر ایک پروفیسر آیا اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ ”میں بہت سی زبانوں کا جاننے والا ہوں اور آپ کے مُلک کے سب اَدیبوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی بھی میری مادری زبان  ( Native Language )  پہچان کر دکھائے ۔ “بادشاہ نے مختلف زبانوں کے ماہر اَدیبوں کو بُلا لیا ۔ سب ایک جگہ جمع ہو گئے اور مُقابلہ بَصُورَتِ مُکالمہ شروع ہوا ۔  سب سے پہلے عَرَبی لُغَت کا ماہِر آیا ، دونوں کا آپس میں عَرَبی زبان میں مُکالمہ ہوا ۔  دونوں کی گفتگو مکمل ہوئی تو پروفیسر کی عَرَبی زبان پر دَسترس سے مُتأثر ہو کر اس ماہرِ عربی نے کہا : ”تمہاری مادری زبان عَرَبی ہے ۔  “پروفیسر نے جواباً کہا : جی نہیں ۔ پھر انگریزی کا ماہِرآیا، اس نے بھی پروفیسرسے انگریزی میں مُکالمے  کے بعد کہا : ”تمہاری مادری زبان اِنگلش ہے ۔ “پروفیسر نے حَسبِ سابِق نَفی میں سَر ہلا دیا ۔ اس طرح بہت سے اَدیب آتے رہے ، جو جس زبان میں گفتگو کرتا تو اس میں پروفیسر کی مہارت دیکھ کر  یہی سمجھتا کہ اس کی مادری زبان یہی  ہے لیکن پروفیسر ہر ایک کو نَفی میں جواب دیتا یہا ں تک کہ کوئی



Total Pages: 18

Go To