Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

کچھ  نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے

                            کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندگی کا         ( وسائلِ بخشش )

ہفتہ وار اِجتماع کا دَورانیہ

سُوال : ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شرکت کرنے والے اکثر اسلامی بھائی رات حلقوں کے بعد واپس لوٹ جاتے ہیں، یہ اِرشاد فرمائیے کہ ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کا اِختتام کب ہوتا ہے ؟ نیز اَوَّل تا آخر اِجتماع میں شرکت کرنے کی بَرکتیں بھی بیان فرما دیجیے ۔   

جواب : دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سُنَّتوں بھرا اِجتماع مَغرِب کی نماز  کے فوراً بعد شروع ہو کر صبح  اِشراق و چاشت کی نماز کے بعد صلوٰۃ و سلام  پر ختم ہوتا ہے ۔  تمام اسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کی بَرکتیں سمیٹنے کے لیے اوَّل تا آخر  ضَرور اس میں شِرکت فرمائیں ۔  ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کے جَدول میں ساری رات مسجد اِعتکاف بھی ہے ۔  اِجتماع میں ساری رات اِعتکاف کی بَرکت سے عشا کی نماز باجماعت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نمازِ فجر بھی بآسانی  باجماعت ادا کر کے ساری رات عبادت کا ثواب حاصِل کیا جا سکتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سُنا : جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے ساری رات قیام کیا ۔  ( [1] )  

اِسی طرح اِجتماع میں ساری رات اِعتکاف کرنے والے وہ اسلامی بھائی جو نمازِ تہجد ادا کرنے کی سعادت حاصل  کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے الگ حصّے میں آرام کرنے کی تَرکیب ہوتی ہے ، ذِمَّہ داران انہیں نمازِ تہجد کے لیے بیدار کرتے ہیں اور نمازِ تہجد دِیگر اسلامی بھائیوں کے آرام کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کی جاتی ہے ،  اس کے بعد بغیر مائیک کے بارگاہِ الٰہی میں گِڑ گِڑا کر دُعائیں   مانگنے  کا بھی موقع ملتا ہے اور یہ وقت بھی قبولیت کا ہوتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عظیم ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہر رات تہائی رات گزر جانے کے بعد آسمانِ دُنیا پر تجلی فرماتا ہے اور اِرشاد فرماتا ہے کہ میں مالِک ہوں، میں مالِک ہوں، کون ہے جو مجھے پُکارے تو میں اس کی دُعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اُسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش کا سُوال کرے تو میں اس کو مَغفرت کا پَروانہ عطا فرماؤں؟ یہ صَدا  طُلُوعِ فجر تک جاری رہتی ہے ۔  ( [2] )  

پچھلی راتی رَحمت رب دی کرے بلند آوازاں

بخشش منگن والیاں کارن کُھلا ہے دروازہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ساری فضیلتیں اور بَرکتیں پانے کے لیے تبلیغِ قرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے  ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں اوَّل تا آخر شِرکت کیجیے ، مدنی اِنعامات پر عمل اور سُنَّتوں کی تربیت کے لیے عاشقانِ رسُول کے ہمراہ مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا مَعمول بنا لیجیے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ دِین و دُنیا کی بے شمار  بَرکتیں نصیب ہوں گی ۔   

ہر دِلعزیز ذِمَّہ دار

 



   [1]    مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة العشا...الخ، ص۲۵۸، حدیث :  ۱۴۹۱

   [2]    مسلم، کتاب صلاة المسافرين  و قصرھا، باب الترغیب  فی الدعاء...الخ، ص۲۹۷، حدیث : ۱۷۷۳ 



Total Pages: 18

Go To