Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

معلوم نہ ہو کہ یہ بے نمازی ہے یا بِلا اِجازتِ شرعی جماعت چھوڑنے ولا ہے تو اس پر بد گمانی نہ کیجیے اور نہ تجسس کیجیے  اور نہ ہی  اس سے نماز پڑھنے کے مُتعلق سوال کریں ۔ نماز باجماعت ادا کرنے اور پہلی صف کی فضیلت پر کچھ نہ کچھ روایات زبانی حَرف بہ حَرف یاد کر لیجیے مگر اپنی طرف سے  اس کی کوئی شَرح وغیرہ ہر گز بیان نہ کیجیے تاکہ آپ کو تَرغیب دِلانے میں آسانی رہے اور شَرعی غَلَطیاں بھی نہ ہوں ۔ اسی طرح موقع کی مُناسَبت سے کچھ نہ کچھ سُنَّتیں بتا ئیے ، ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کی دعوت دیجیے ، مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافِلوں میں سفر کی تَرغیب دِلا کر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ کرنے کی کوشش کیجیے ۔ مُلاقات کے دَوران موقع کی مُناسَبت سے مثلاً دَورانِ  گفتگو کوئی بات ذہن سے نکل گئی یاد نہیں آ رہی تو  ”صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب“بول کر خود بھی دُرُود شریف پڑھیے اور سامنے والے کو بھی پڑھنے کی تَرغیب دیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دُرُود شریف پڑھنے كی بَرکت سے ثواب ہاتھ آنے کے ساتھ ساتھ بُھولی ہوئی بات بھی  یاد آ جائے گی جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : جب تم کسی چیز کو بُھول جاؤ تو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھو  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہ چیز تمہیں یاد آجائے گی ۔ ( [1] )

خُوشی کی خبر پر مُبارکباد

اگر سامنے والا خُوشی کی کوئی خبر سُنائے  مثلاً وہ کہے کہ میرے ہاں بچے کی وِلادت ہوئی تو آپ اس کو اس طرح  مُبارکباد دِیجیے : مَا شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  مُبارک ہو ، اللہتعالیٰ آپ کی نسلوں کو قیامت تک قائِم رکھے ، آپ کے مدنی مُنّے کو مدینے کا شَیدائی بنائے ۔ پھر اِستِطاعت ہو اور شَرعی رُکاوٹ بھی نہ ہو  تو  112 روپے یا جتنی گنجائش ہو مدنی مُنّے کے لیے دے دیجیے ۔ اگر وہ لینے سے اِنکار کرے تو کہیں : بھائی! لے لیجیے ، یہ مدنی مُنّے کی آمد پر آپ کے لیے تُحفہ ہے ۔ آپ کا اس طرح کرنا اُس کو عمر بھر یاد رہے گا ۔ اسی طرح وہ شادی یا منگنی کی خُوشخبری سُناتا ہے تو اس  پر بھی  خُوب خُوب مُبارکباد دِیجیے ۔

غمی کی خبر پر تعزیَت

اگر وہ کوئی اَفسوس ناک خبر سُنائے مثلاً کسی عزیز  کے اِنتقال کی  خبر دے تو اس سے تعزیَت کیجیے ، والدین یا اپنی بیماری وغیرہ کا ذِکر کرے تو  اُسے بیماری کے فَضائل بتا کر ہمت اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے  اس کی اور اس کے  والدین کی صحتیابی کے لیے دُعا کیجیے ۔ اگر اس کے  جسم پر کہیں پٹی بندھی ہوئی نظر آئے اور وہ خُود نہ بھی بتائے تو آپ رضائے الٰہی کی نیَّت سے  اُس کی غمخواری کرتے ہوئے  اُس سے پوچھ لیجیے کہ پیارے اسلامی  بھائی ! آپ کو یہ کیا ہوا ہے ؟ سامنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ مجھے پٹی بندھے ہوئے اتنے  دِن گزر گئے ،  میرے گھر والوں نے  بھی مجھ سے نہیں پوچھا لیکن  دعوتِ اسلامی والے کتنے ہمدرد اور غمخوار ہیں کہ دیکھتے ہی مجھ سے پوچھ لیا ۔ پھر دوبارہ جب مُلاقات ہویا وقت نکال کر اس کے گھر جا کر غمخواری کیجیے اور پوچھیئے   کہ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ اس طرح اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  وہ ضَرور آپ سے مُتأثر ہو گا ۔

دوسروں کی نفسیات کو پیشِ نظر رکھنا

دَورانِ مُلاقات سامنے والے کی نفسیات کو پیشِ نظر رکھنا اِنتہائی ضَروری ہے ۔ اگر اُس کی نوکری کا ٹائم ہویا  بھوک کی شِدَّت ہو یا اِستنجے کی حاجت  ہو یا وہ  کسی اور تکلیف وغیرہ کی وجہ سے اِضطراب( یعنی پریشانی )  میں ہو اور بار بار گھڑی دیکھ رہا ہو تو آپ اس کو



[1]    القول البدیع ، الباب الخامس  فی الصلا ة  علیه صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ...الخ ، ص ۴۲۷  مؤسسة  الریان بیروت



Total Pages: 17

Go To