Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

کہ مکۂ  مکرَّمہ  زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً   کی پہاڑیاں گُونج اُٹھیں ۔ ( [1] )

نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِس پیاری پیاری سُنَّت کو اَدا کرتے ہوئے ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان و بُزُرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  الْمُبِیْن نے بھی  ”اِنفرادی کوشش“ کو  جاری رکھا اور دِینِ اِسلام کے پیغام کو دُنیا بھر میں عام کیا ۔ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اِیمان لاتے ہی اِسلام کی دَعوت پیش کرنا شروع کر دی ۔ آپ کی  ”اِنفرادی کوشش“ سے وہ پانچ صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی اَیمان سے مُشَرَّف ہوئے جو عَشَرَۂ مبشرہ میں داخِل ہیں ۔ جن کے اَسمائے گرامی یہ ہیں : ( 1 )حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 2 )اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عُثمان بِن عَفَّانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 3 ) حضرتِ سَیِّدُنا طَلحَہ بِن عُبَیْدُ اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 4 ) حضرتِ سَیِّدُنا سَعدبِن اَبی وَقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 5 ) حضرتِ سَیِّدُنا  عبدُالرحمٰن بِن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ ( [2] )

اِحساسِ کمتری اور جھجک کا عِلاج

سُوال : اِنفرادی کوشش کے دَوران اِحساسِ کمتری اور جھجک ہو تو کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : اِنفرادی کوشش کے دَوران نظر اَسباب پر رکھنے کے بجائے خالقِ اَسباب( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ) پر رکھیے ۔ اپنی کم مائیگی اور نااہلی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دِل ہی دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کیجیے کہ  ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا رَنگ ہے نہ رُوپ اور نہ ہی بات کرنے کا کوئی  ڈَھنگ ہے ، بس  تُو ہی دِلوں کو پھیرنے والا ہے ، اِن لوگوں کے دِل بھی اپنی اِطا عت کی طرف پھیر دے ۔ “ کئی ایسے اسلامی بھائی ہوتے ہیں جن میں  واقعی  بات کرنے کی اتنی صَلاحیت نہیں ہوتی لیکن بڑوں  بڑوں کو دَعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں لے آتے ہیں جبکہ کئی اسلامی بھائی ایسے بھی ہوتے ہیں  جن کو اچھا بولنا آتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ  کسی کو مدنی ماحول میں نہیں لا پاتے ۔ اس لیے جب بھی کسی کو نیکی کی دعوت دیں تو اپنے اچھا بولنے کے فَن پر ناز کرنے کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد اور اس کے پیارے مَحبوب ، دانائے  غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے کرم پر نظر رکھیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی جھجک اور اِحساسِ کمتری ختم ہو جائے گی ۔

مایوس کیوں ہو عاصیو! تم حوصلہ رکھو

                   رب کی عطا سے ان کا کرم ہے سبھی کے ساتھ          ( وسائلِ بخشش )

 ”مدنی  ماحول“ سے وَابستہ ہونے اور  چھوڑ نے کی وُجُوہات

سُوال : اسلامی بھائیوں کے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے اور پھرمدنی ماحول  چھوڑ دینے کی کیا  وُجُوہات ہیں ؟

جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرکتیں ظاہِر ہیں ۔ اِن بَرکتوں کو حاصِل کرنے ، اچھی صحبت اَپنانے ، بُری صحبت سے پیچھا چھڑانے ، نَمازوں کی عادت بنانے ، سُنَّتیں اَپنانے ، نیکیوں کی خَصلَت پانے ، گناہوں کی نَحُوسَت سے خود کو بچانے ، نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے اور اپنی دُنیا و آخرت کو  بہتر بنانے کے لیے اسلامی بھائی مدنی  ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ شیطان جب دیکھتا ہے کہ انہیں مدنی ماحول کی خُوب بَرکتیں نصیب ہو رہی ہیں ، ان کی دُنیا وآخرت سَنور  رہی ہے  تو وہ  ان کو مدنی ماحول



[1]     شرح الزرقانی ، اسلام الفاروق ، ۲ / ۵ تا ۸  ملخصاً دار الکتب العلمیة  بیروت 

[2]    البدایة  والنھایة ، فصل  فی  ذکر أول  من  أسلم...الخ ، ۲ /  ۳۶۸   ملخصاً دار الفکر بیروت 



Total Pages: 17

Go To