Book Name:Mufti e Dawateislami

چار یار رضی اللہ عنہم کی نسبت سے چارپلیٹیں ،وعلٰی ھذا القیاس ۔

الحمدللہ عزوجل !جب بھی مدنی قافلے میں سفر کرتے تو قافلے کا وقت خود بھی پوراکرتے اور دیگر شرکاء سے بھی کروایا کرتے تھے ۔اور اس طرح ذِہن بنایا کرتے کہ ڈاکٹرز کی دی ہوئی دوائی کاکورس اگر پورا نہ کریں تو فائدہ نہیں ہوتا ۔

ایک مرتبہ ان کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے بین الاقوامی اجتماع سے 30 دن کے لئے مدنی قافلے میں سفر کرنا نصیب ہوا ۔اجتماع کے اختتام پر شدید بارش ہوئی اور ہر طرف کیچڑ نظر آرہی تھی ۔ اتفاق دیکھئے کہ مدنی قافلے کے دیگر شرکاء سے ہماری ملاقات نہ ہوپائی ۔ انہوں نے مجھے ساتھ لیا اور چلنا شروع کردیا ۔ میں پریشان تھا کہ دیگر شرکائے قافلہ سے ہماری ملاقات کیونکر ہو پائے گی۔اس لئے میں نے گمان کیا کہ شاید ہم سفر نہ کر پائیں مگر مفتی فاروق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہفرمانے لگے کہ اپنا تو ذہن بنتاہے کہ ایک دفعہ 30 دن کے سفر کے ارادے سے نکل آئے ہیں تو اگر۳۰ دن ایک ہی مسجدمیں بھی گزارنے پڑیں تو گزارلوں گا مگر ۳۰ دن سے پہلے گھر نہیں جاؤں گا ۔ بہرحال پھر قافلے والے مل گئے اور یوں ہم مدنی قافلے میں سفر کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ

گلشنِ اقبال باب المدینہ( کراچی )کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ

’’مفتی محمد فاروق عطاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمدنی قافلوں سے قولاً وعملاً بہت پیار کیا کرتے تھے۔آپ ہر ایک کو ہر بات میں مدنی قافلے کی دعوت دیا کرتے تھے۔اگر ان سے


 

 



Total Pages: 89

Go To