Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

عَنْہُ مسلمان سرداروں میں سے سردار ہیں ۔  (  [1])

سوال      حضورتاجدارِختمِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنٍٍَّ کی دیکھ بھال کس صحابی نے کی؟

جواب     یہ خدمت حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انجام دیا کرتے تھے ، آپ سَفْروحَضْر میں ازواجِ مطہرات  کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے ۔  حضورِ اکرم ، شفیعِ اعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے بعد میری اَزواج کی دیکھ بھال کرنے والا نیک وسچا انسان ہوگا ۔  (  [2])

صَحَابَۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان

سوال      صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کی تعداد کتنی ہے ؟

جواب     کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار (  124,000) ۔   (  [3])

سوال      کیا بعد میں آنے والے لوگ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے افضل ہوسکتے ہیں؟

جواب     ہرگز نہیں ، بلکہ حضرات صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے بعد کے تمام افراد سے افضل ہیں کیونکہ صحبت وزیارتِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُشَرف ہوکر مرتبۂ صَحابِیَّت پر فائز ہونے کی فضیلت کا مقابلہ کوئی بھی نیک عمل نہیں کرسکتا  ۔  (  [4])

سوال      حضورنبیِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حِبْرُ الْاُمَّۃ  کا لقب کسے عطا فرمایا؟

جواب     حضور نبیِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوحِبْرُ الْاُمَّۃ  (  یعنی امت کے بڑے عالم) کا لقب عطا فرمایا ۔  (  [5])

سوال      صَاحِبُ النَّعْلِ وَالْوِسَادَۃ  (  یعنی تکیہ ونَعْلَین والے ) کس صحابی کو کہا جاتا ہے ؟

جواب     حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوکہا جاتا ہے کیونکہ آپ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نَعْلَین شریفین اورمبارک تکیہ اٹھایا کرتے تھے ۔  (  [6])

سوال      بروزِ قیامت کس صحابی کو”اِمَامُ الْعُلَمَاء“ کہا جائے گا؟

جواب     حضور جانِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں فرمایا  : ’’قیامت میں ان کا لقب’’امام العلماء‘‘ ہے ۔  (  [7])

سوال      حضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کس وجہ سے اسلام قبول کیا تھا؟

جواب     ابو جہل لعین نے حضور نبی مکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بہت زیادہ برا بھلا کہا توحضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حرمِ کعبہ میں جاکرابوجہل کا سر پھاڑ دیا اورمسلمان ہوگئے ۔  [8])

سوال      ذاتُ النَّطاقِین (  یعنی دو پٹکوں والی) کس خاتون کو کہا جاتا ہے ؟

جواب     یہ حضرت سیِّدتُنا اسماء بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا لقب ہے ۔  (  [9])

سوال      رحمتِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس صحابی کوکشتی فرمایا؟

جواب     وہ حضرتِ ابوعبدالرحمٰن سفینہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔  ایک سفرمیں حضرات صحابۂ کرام نے اپنا ساراسامان ایک چادر میں باندھ دیا تو حضور نبیِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ سے فرمایا :  اِسے اٹھا لو تم تو کشتی ہو ۔ “آپ فرماتے ہیں  : اُس روز اگر میں ایک اونٹ سے لے کرسات اُونٹوں کا بوجھ بھی اٹھالیتا تو مجھ پر بھاری نہ ہوتا ۔  (  [10])

سوال      تعمیرِ مسجدِ نبوی میں ایک اینٹ اپنی طرف سے اور دوسری حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے لانے والے صحابی کا نام بتائیے ؟

جواب     وہ صحابی حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔  (  [11])

سوال      ہجرت سے پہلے حضور تاجدارِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ ٔمنورہ کیوں بھیجا؟

جواب   حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینۂ منورہ تشریف لے جانے سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینۂ منورہ اِس لیے بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی



[1]     الاستیعاب ، رقم۱۴۵۵ ، عبدالرحمن بن عوف ، ۲ /  ۳۸۸ ۔

[2]     الاصابة ، رقم۵۱۹۵ ، عبدالرحمن بن عوف ، ۴ /  ۲۹۲ ۔

[3]     مواھب اللدنیة ، المقصد السابع ، الفصل الثالث فی ذکر محبة اصحابہ      الخ ، ۲ /  ۵۴۴ ۔

[4]     حدیقة ندیة ، مقدمة الکتاب ، ۱ / ۷ ، ملتقطاً ۔

[5]     مستدرک حاکم ، کتاب معرفة الصحابة ، باب حبر ھذہ الامة عبداللہ بن عباس