Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبنی ہاشم میں سے پہلے خلیفہ تھے ۔  (  [1])

سوال      سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کتنی احادیث مَروِی ہیں؟

جواب     حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے پانچ سو چھیاسی (  586) احادیث مروی ہیں جن میں بیس مُتَّفَق عَلَیْہ ہیں نو بخاری کی ہیں اور پندرہ مسلم میں ۔  (  [2]) اور بقیہ دیگر کتبِ حدیث میں ہیں ۔  

سوال      مدینے والوں میں سے کون فیصلے کرنے اور علمِ مِیْراث میں  بڑے ماہر تھے ؟

جواب     اہلِ مدینہ میں سے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو  مُقَدَّمات کے فیصلے کرنے اور علمِ میراث میں مَہارَت حاصل تھی ۔  (  [3])

سوال      حضرت سیدناعلی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو ”اَبُو تُراب “کی کنیت کیسے ملی؟

جواب     نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد تشریف لائے  تووہاں  حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس حال میں لیٹے ہوئے تھے  کہ آپ کی ایک جانب سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور وہاں مٹی لگی ہوئی تھی تورسولِ کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلٰوةِ وَالتَّسْلِيْم نے مِٹّی جھاڑتے ہوئے دو مرتبہ ارشادفرمایا :  قُمْ اَبَا تُرَابٍیعنی اٹھو !  اے مٹی والے  ۔  (  [4])

سوال      غزوۂ تبوک کے  وقت کس صحابی کو مدینۂ منورہ میں رہنے کا حکم دیاگیا؟

جواب     غزوۂ تبوک کے موقع پرحضور نبیِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو مدینۂ منورہ میں چھوڑ دیا ۔ انہوں نے عرض کی :  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ مجھے بچوں اورعورتوں میں چھوڑ کرجارہے ہیں؟ ارشاد فرمایا :  کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکے لئے حضرت سیِّدُناہارون عَلَیْہِ السَّلَامتھے ! البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔  (  [5])

سوال      حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا مُجاہَدۂ نَفْس کیسا تھا ؟

جواب     ایک بار امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو کسی نے فالودہ پیش کیا تو آپ نے اسے سامنے رکھ کر ارشاد فرمایا : ’’بے شک تیری خوشبو عُمدَہ ، رنگ اچھا اور ذائقہ لذیذ ہے لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے نفس کو اس چیز کا عادی بناؤں جس کا وہ عادی نہیں ۔ ‘‘ اور آپ نے اسے تناوُل نہیں فرمایا ۔  (  [6])

سوال      حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن کیوں لگایاتھا؟

جواب     جنگِ خیبر کے موقع پر حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی آنکھوں میں آشوب تھا (  یعنی آنکھیں دُکھ رہی تھیں) ، دو عالَم کے مالک و مختارنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لُعابِ دہن لگا کر دعا فرما ئی جس سے وہ  فوراً شفایاب ہوگئے گویا انہیں کبھی آشوبِ چَشْم ہوا ہی نہیں تھا ۔  پھر آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا عطا فرمایا اور خیبر کا میدان اسی دن ان کے ہاتھوں سے سَر ہوگیا ۔  (  [7])

سوال      حضرت سیدناعلیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوحضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَامسے کونسی مناسبت ہے ؟  

جواب     امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ حضور سرورِ دو جہاں ، مالکِ کون و مکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا  : تمہیں حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام سے ایک مناسبت ہے ، یہودیوں نے ان سے اتنا بُغْض کیا کہ ان کی والدۂ ماجدہ پر تہمت لگادی اورعیسائی اُن کی محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کے خداہونے کا عقیدہ بنالیا ۔ “ پھر حضرت سیدنا علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : ہوشیار ہوجاؤ  ! میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے :  (  1) حدسے بڑھی ہوئی محبت کرنے والے جو میرے بارے میں حد سے تجاوُز کرجائیں گے اور (  2) بے جا نفرت کرنے والے جو میری عداوت میں مجھے ذلیل وبے حیثیت کریں گے ۔  (  [8])

سوال      قاتلانہ حملہ ہواتو سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زبان سے کیا الفاظ نکلے ؟

جواب     جب عبدالرحمٰن بن ملجم خارجی نے آ پ  کے سر مبارک پر تلوار ماری اور آپ کی مقدس پیشانی اور چہرهٔ انور پر شدید زخم لگا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ اداہوئے : ”فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ یعنی ربِّ کعبہ کی قسم  ! میں کامیاب ہوگیا ۔ “    حضرت سیدنا محمدبن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما  کابیان ہے کہ آپ نے اپنے صاحبزادوں کو بُلا کر کچھ وَصِیَّتیں فرمائیں ، اس کے بعد لَا اِلٰہَ اِلّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے سوا کوئی دوسرا لفظ آپ  کی زبان مبارک سے نہیں نکلا اور کلمہ پڑھتے ہوئے آپ کی روحِ اَقْدَس عالمِ قُدس کو روانہ ہوگئی ۔  (  [9])

سوال      امیر المؤمنین شیرِِ خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا مزار شریف کہاں واقع ہے ؟

 



[1]      اسد الغابة ، رقم۳۷۸۳ ، علی بن ابی طالب ، ۴ /  ۱۰۰ ۔

[2]      اجمال ترجمہ اکمال ہامش علی مرآۃ المناجیح ، علی بن ابی طالب ، ۸ /  ۴۷ ۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ، علی بن ابی طالب ، ۴۲ /  ۴۰۵ ، رقم۴۹۳۳ ۔

[4]     بخاری ، کتاب الصلاة ، باب نوم الرجال فی المسجد ، ۱ /



Total Pages: 122

Go To