Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

حدیث اور مُحَدِّثِیْن

سوال      حدیثِ مبارکہ لکھتے یا پڑھتے وقت کس چیز کی احتیاط کرنی چاہئے ؟

جواب     حدیثِ مبارکہ لکھتے یا پڑھتے وقت جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نامِ مبارک آئے وہاں’’عَزَّوَجَلَّ‘‘یا’’تَعَالٰی‘‘یا’’سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی‘‘یا’’تَبَارَک وَتَعَالٰی‘‘جیسے الفاظ اور جہاں حضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ مبارک  آئے وہاں درود شریف ، اسی طرح جہاں صحابۂ کرام وبزرگانِ دِین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا نام مبارک آئے وہاں کلماتِ تَرَضِّیْ وتَرَحُّمْ (  یعنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) لکھنا اور پڑھنا مستحب ہے ۔  (  [1])

سوال      حدیثِ قُدسی کسے کہتے ہیں؟

جواب     وہ حدیث شریف جس کے راوی  (  بات بیان فرمانے والے ) حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں اور اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو ۔  (  [2])

سوال      جب حدیثِ قدسی بھی فرمانِ الٰہی ہے تو قرآنِ پاک و حدیثِ قدسی  میں کیا فرق ہے ؟

جواب     حدیثِ قدسی اور قرآن میں فرق یہ ہے کہ حدیثِ قدسی خواب ، اِلہام سے بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ قرآن بیداری ہی میں آئے گا ۔ نیز قرآن کے لفظ بھی رب کے ہیں ، حدیث کا مضمون رب کا ، الفاظ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ۔  (  [3])

سوال      ”مُکْثِرِیْن صحابہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ“سے کون مراد ہیں  نیز ان میں سے چند کے نام بھی بتائیے ؟

جواب     وہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجن سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں ان کو ’’مُکْثِرِیْن صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ‘‘ کہاجاتاہے ، یہ وہ حضرات ہیں جن کی مَرْوِیّات  (  روایت کردہ احادیث) کی تعداد دوہزار سے زائد ہے ان (  میں سے چند) کے اسماءِ گرامی درج ذیل ہیں :   (  1) حضرت  سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ، آپ سے 5374 احادیثِ کریمہ مَروِی ہیں ۔  (  2) حضرت سیدنا عبدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ، آپ سے 2630 احادیثِ کریمہ مروی ہیں ۔  (  3) حضرت سیدنا جابر بن عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ، ان سے 2540 احادیثِ طیبہ مَروِی ہیں ۔  (  [4])

سوال      احادیثِ قدسیہ کی تعداد کتنی ہے ؟

جواب     احادیثِ قدسیہ کی تعداد200 سے زیادہ ہے  ۔  (  [5])

سوال      حدیثِ پاک یادکرکے دوسروں تک پہنچانے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حضور تاجدارِ ختم نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے  (  دوسروں تک) پہنچا دیا ۔  (  [6])

سوال      اپنے پاس سے حدیث گھڑنے کی کیا وعید ہے ؟

جواب     حضورِاکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : میری حدیث روایت کرنے سے بچو سوا اُن کے جن کو تم جانتے ہو کیونکہ جو جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا  جہنم میں بنالے ۔  (  [7]) حکیمُ الاُمَّت ، مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں :  اگرچہ ہر ایک پر جھوٹ باندھنا بُہتان اورگناہ ہے مگرحضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا بہت گناہ ہے کہ اس سے دِین بگڑتا ہے ۔  (  [8])

سوال      چالیس احادیث یاد کرنے یا کتابی شکل میں شائع کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب   حضرت  سیدناابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے حضورتاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ جو میری اُمّت پر چالیس احکامِ دین کی حدیثیں حفظ کرے اُسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفیع وگواہ ہوں گا ۔  (  [9]) حکیمُ الاُمَّت ، مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں :  اِس حدیث کے بہت پہلو ہیں :  چالیس حدیثیں یادکرکے مسلمان کو سُنانا ، چھاپ کر اُن میں تقسیم کرنا ، ترجمہ یا شرح کرکے لوگوں کوسمجھانا ، راویوں سے سُن کر کتابی شکل میں جمع کرنا ، سب ہی اس میں داخل ہیں یعنی جو کسی طرح دینی مسائل کی چالیس حدیثیں میری اُمَّت تک پہنچادے تو قیامت میں اس کا حشر علمائے دین کے زُمرے میں ہوگا اور میں اس کی خصوصی شفاعت اور اُس کے ایمان اور تقوے کی خصوصی گواہی دوں گا ورنہ عُمومی شفاعت اور گواہی تو ہرمسلمان کو نصیب ہوگی ۔ اسی حدیث کی بنا پر



[1]     شرح صحیح مسلم للنووی ، مقدمة الشارح ، ۱ / ۳۹ ، ملخصاً ۔

[2]     تیسیر مصطلح الحدیث ، الباب الاول ، الفصل الرابع ، ص۹۴ ۔

[3]     مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۲ ۔

[4]     تیسیر مصطلح الحدیث ، الباب الرابع ، الفصل الثانی ، ص۱۵۱ ۔

[5]     تیسیر مصطلح الحدیث ، الباب الاول ، الفصل الرابع ، ص۹۴ ۔

[6]     ابو داود ، کتاب العلم ، باب فضل نشر العلم ، ۳ / ۴۵۰ ، حدیث : ۳۶۶۰ ۔

[7]     ترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ماجاء فی الذی یفسر القراٰن برأیہ ، ۴ / ۴۳۹ ، حدیث : ۲۹۶۰ ۔

[8]