Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

میں ہی ذبح کرنا ضروری نہیں بلکہ جس جگہ بھی زخمی کر دیا جائے کافی ہے ۔  (  [1]) گائے ، بیل ، اونٹ اگر بھاگ جائیں اور پکڑ میں نہ آئیں تو ان كے لئے بھی ذبح اِضْطراری ہوسکتا ہے ۔  (  [2])

قربانی

سوال      قربانی کی فضیلت اور باوجودِ اِستِطاعت نہ کرنے کی  کیا وعید ہے ؟

جواب     حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی ، تووہ آتشِ جہنّم سے حِجاب (  یعنی روک) ہو جائے گی ۔  (  [3]) نیزفرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے پاس  حاضررہو کیونکہ اِس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔  (  [4]) اوراِستطاعت کے باوجود نہ کرنے والوں کے مُتعلق فرمایا :  جس شخص میں قُربانی کرنے کی وُسعَت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔  (  [5])

سوال      قربانی کے وقت کیا نیّت ہونی چاہئے ؟

جواب     ذَبْح کرتے وَقْت یااپنی قُربانی ہو رہی ہو اُس کے پاس حاضِر رہتے وَقْت ادائے سنَّت کی نیَّت ہو نی چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی نیَّت کرے کہ میں جس طرح آج راہِ خدا میں جانور قربان کر رہاہوں ، بوقتِ ضَرورت اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّ  وَجَلَّاپنی جان بھی قربان کردوں گانیز یہ بھی نیَّت ہو کہ جانورذَبْح کرکے اپنے نفسِ اَمّارہ کو بھی ذَبْح کر رہا ہوں اور آئندہ گناہوں سے بچوں گا ۔  (  [6])

سوال      قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والا شخص قربانی کا ثواب کیسے حاصل کرسکتا ہے ؟

جواب     حکیمُ الاُمَّت مفتی احمدیار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں  : جو قربانی نہ کر سکے وہ بھی اس عَشَرَہ  (  ذو الحجۃ الحرام کے ابتِدائی دس ایّام) میں حجامت نہ کرائے (  بال وناخن نہ کاٹے ) ، بقرہ عید کے دن بعد ِنَمازِ عیدحجامت کرائے تو اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّوَجَلَّ  (  قربانی کا ) ثواب پائے گا ۔  (  [7])

سوال      کیا قربانی کے بجائے اُس کی رقم صدقہ کردینا کافی ہوگا؟

جواب     قربانی کے وَقْت میں قربانی کرنا ہی لازِم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مَثَلاًبجائے قربانی کے بکرا یااُس کی قیمت صَدَقہ (  خیرات) کردی جائے یہ ناکافی ہے ۔  [8])

سوال      چاندنظرآنے سے قربانی کرنے تک ناخن اور بال نہ  کاٹنے میں کیا حکمت ہے ؟

جواب     جو امیر وُجُوباً یا فقیر نَفلاً قُربانی کا ارادہ کرے وہ ذو الحجۃ الحرام کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخُن بال اور (  اپنے بدن کی) مُردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تا کہ حاجِیوں سے قَدْرے (  یعنی تھوڑی) مُشابَہَت ہو جائے کہ وہ لوگ اِحرام میں حجامت نہیں کرا سکتے اور تا کہ قربانی ہربال ، ناخُن  (  کے لیے جہنم سے آزادی) کافِدیہ بن جائے ۔  یہ حکم اِسْتِحْبابِی ہے وُجُوبی نہیں  (   یعنی واجِب نہیں ، مُسْتَحَب ہے ) ۔   (  [9])

سوال      صاحبِ نِصاب نہ ہونے کے باوجودکس شخص پر قربانی واجب ہے ؟

جواب     جو شخص مالکِ نِصاب نہیں ہے اس نے قربانی کی مَنّت مانی تو اس صورت میں اس پر قربانی واجب ہے یا اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا تو اس جانور کی قربانی واجب ہے ۔  (  [10])

سوال      کس صورت میں مالدار مالکِ نصاب پر قربانی واجب نہیں؟

جواب     مالدار مالکِ نِصاب اگر مسافر ہے تو اس صورت میں اس پر قربانی واجب نہیں کیونکہ قربانی واجب ہونے کے لئے مقیم ہونا شرط ہے ۔  (  [11])

سوال      ابتدائے وقت میں وجوبِ قربانی کی شرائط نہیں پائی گئیں اورآخر وقت  میں پائی گئیں تو قربانی کا کیا حکم ہے ؟

سوال    یہ ضَرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے ، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وَقْت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وَقت میں  اس کا اَہْل نہ تھا وُجُوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخرِ وَقْت میں  (  یعنی12ذُوالحِجّہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے ) اَہْل ہوگیا یعنی وُجُوب کے شرائط پائے گئے تو اُس پر واجِب ہوگئی اور اگر ابتدائے وَقْت میں



[1]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الذبائح ، ۹ /  ۵۰۵ ۔

[2]     ھدایة ، کتاب الذبائح ، ۲ /  ۳۵۰ ۔

[3]     معجم کبیر ، ۳ / ۸۴ ، حدیث :  ۲۷۳۶ ۔

[4]     سنن کبری للبیھقی ، کتاب الضحایا ، باب ما یستحب للمرء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ /  ۴۷۶ ، حدیث : ۱۹۱۶۱ ۔

[5]     ابن ماجہ ، کتاب الاضاحی ، باب الاضاحی واجبة ام لا ، ۳ /  ۵۲۹ ، حدیث : ۳۱۲۳ ۔

[6]     ابلق گھوڑے سوار ، ص۱۷ ۔

[7]     مرآۃ المناجیح ، ۲ /  ۳۷۰ ۔

[8]     فتاوی ھندیة ، کتاب الاضحیة ، الباب الاول فی تفسیرھا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ /  ۲۹۳ ۔

[9]     مرآۃ المناجیح ، ۲ /  ۳۷۰ ۔

[10]     فتاوی ھندیة ، کتاب الاضحیة ، الباب الاول فی تفسیرھا ورکنھا ۔ ۔ ۔  الخ ، ۵ /  ۲۹۱ ۔

[11]     فتاوی ھندیة ، کتاب الاضحیة ، الباب الاول فی تفسیرھا ورکنھا ۔ ۔ ۔  الخ ، ۵ /  ۲۹۲ ۔



Total Pages: 122

Go To