Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

اور قریش ان تجارتوں میں خوب نفع اٹھاتے تھے ۔  (  [1])

قرض اور سود

سوال      کس طرح کی چیزیں قرض لی اور دی جاسکتی ہیں؟

جواب     جو چیز قرض دی جائے لی جائے اُس کا مثلی ہونا ضروری ہے یعنی ماپ کی چیز ہویا تول کی ہو یا گنتی کی ہو مگر گنتی کی چیز میں شرط یہ ہے کہ اُس کے افراد میں زیادہ تفاوت (  یعنی فرق) نہ ہو ، جیسے انڈے ، اخروٹ ، بادام اور اگر گنتی کی چیز میں تَفاوُت زیادہ ہو جس کی وجہ سے قیمت میں اختلاف ہو جیسے آم ، امرود ، ان کو قرض نہیں دے سکتے ۔  یونہی ہر قیمی چیز جیسے جانور ، مکان ، زمین ، ان کا قرض دینا صحیح نہیں ۔  (  [2])

سوال      قرض کا لین دین کرتے وقت حکمِ قرآنی کیا ہے ؟

جواب     ارشادِباری تعالیٰ ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- )  (  پ۳ ، البقرة : ۲۸۲) ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو ۔ “تفسیر صراط الجنان میں ہے : جب اُدھار کا کوئی معاملہ ہو ، خواہ قرض کا لین دین ہو یا خریدوفروخت کا ، رقم پہلے دی ہو اور مال بعد میں لینا ہے یا مال اُدھار پر دیدیا اور رقم بعد میں وصول کرنی ہے ، یونہی دکان یا مکان کرایہ پر لیتے ہوئے ایڈوانس یا کرایہ کا معاملہ ہو ، اس طرح کی تمام صورتوں میں مُعاہَدہ لکھ لینا چاہئے ۔  یہ حکم واجب نہیں لیکن اس پر عمل کرنا  بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے ۔  (  [3])

سوال      قرض کی ادائیگی کاکوئی وظیفہ بتائیے ؟

جواب     یہ دعا”اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَترجمہ :  اے اللہ مجھے حلال چیزوں میں کفایت کر ، حرام چیزوں سے دور رکھ اور تیرے ماسوا سے مجھے اپنے فضل سے غنی کر دے ۔ “ہر نماز کے بعد ۱۱ ، ۱۱ بار اور صبح و شام سو ، سو بار روزانہ اوّل و آخر درود شریف ۔ اِسی دعا کی نسبت مولیٰ علی  کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ اگر تجھ پر مِثل پہاڑ کے بھی قرض ہوگا تو اسے ادا کردے گا ۔  (  [4])

سوال      کن کاموں میں جلد بازی شیطان کی طرف سے نہیں؟

جواب     منقول ہے کہ جلدبازی شیطان کی طرف سے ہے مگر اِن چھ کاموں میں جلدی کرنا شیطان کی طرف سے نہیں :  (  1) جب نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں جلدی کرنا  (  2) مہمان آئے تو اس کی مہمان نوازی کرنا (  3) کسی کے مرنے پر اس کی تجہیز و تکفین کرنا  (  4) بچی کے بالغ ہونے پر اس کی شادی کرنا  (  5) قرض کی ادائیگی کا وقت آجائے تو اُسے جلد ادا کرنا اور (  6) کوئی گناہ ہوجائے توفوراً توبہ کرنا ۔  (  [5])

سوال      اپنے مسلمان بھائی کا قرض اداکرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حضور تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا ، آپ نے ارشاد فرمایا :  اس پر دَین  (  قرض) ہے ؟ لوگوں نے کہا :  ہاں ۔  فرمایا :  دَین ادا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ عرض کی :  نہیں ۔  ارشاد فرمایا :  تم لوگ اس کی نماز پڑھ لو ۔  حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی :  اس کا دَین میرے ذمہ ہے ۔ تب  حضورِاَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھا ئی ۔  ایک روایت میں ہے کہ اِس موقع پر  فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے نفس کو آگ سے آزاد کرے جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی جان چُھڑائی ، جومسلمان اپنے بھائی کا دَین ادا کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی جان كو چھوڑدے گا ۔  (  [6])

سوال      قرض کی وصولی میں  نرمی کرنے کی کیافضیلت ہے ؟

جواب     حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہُر یر ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا  : ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتاتھا اور اپنے غلام سے کہا کرتاتھا کہ جب تم کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اس سے نرمی کیاکرو شاید اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم پر نَرْمی فرمائے ۔  (  مرنے کے بعد) جب وہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے بخش دیا ۔  (  [7])

سوال      ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لینے پر کیا وعیدیں آئی ہیں ؟

جواب   (  1) حضورتاجدارِختمِ نبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جس نے ادا نہ کرنے کے ارادے سے قرض ليا اور مر گيا تو قيامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس سے ارشاد فرمائے گا :  تو نے يہ گمان کياکہ میں اپنے بندے کوکسی دوسرے کے حق کی وجہ سے نہیں پکڑوں گا ۔ پس اس کی نيکياں لے لی جائيں گی اور دوسرے کی  نیکیوں میں ڈال دی



[1]     خزائن العرفان ، پ۳۰ ، قریش ، تحت الایۃ : ۱ ، ص ۱۱۲۱ ، ماخوذاً ۔

[2]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب البیوع ، فصل فی القرض ، ۷ /  ۴۰۷ ، بہارشریعت ، حصہ۱۱ ، ۲ /  ۷۵۵ ۔

[3]     تفسیرصراط الجنان ، پ۳ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۸۲ ، ۱ /  ۴۲۲ ۔

[4]     ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب۱۱۰ ، ۵ /  ۳۲۹ ، حدیث : ۳۵۷۴ ، ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۴۳۹ ۔

[5]     الروض الفائق ، المجلس الثالث عشر فی ذکر جھنم ، باب صفۃ الفقیر ، ص۸۶ ۔

[6]     شرح السنة ، کتاب البیوع ، باب ضمان الدین ، ۴ /  ۳۶۰ ، حدیث : ۲۱۴۸ ۔

[7]     مسلم ، کتاب المساقاة ، باب فضل انظار المعسر ، ص۶۵۰ ، حدیث : ۳۹۹۸ ۔



Total Pages: 122

Go To