Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     حکیمُ الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :  مسجد بنانے یااسے آباد کرنے یاوہاں باجماعت نماز اداکرنے کا شو ق صحیح مومن ہونے کی علامت ہے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے لوگوں کا خاتمہ ایمان پر ہو گا ۔  (  [1])

سوال      محلے کی مسجد میں نماز افضل ہے یا جامع مسجد میں ؟

جواب     مسجد محلہ میں نماز پڑھنا ، اگرچہ جماعت قلیل ہو مسجدِ جامع سے افضل ہے ، اگرچہ وہاں بڑی جماعت ہو ، بلکہ اگر مسجدِ محلہ میں جماعت نہ ہوئی ہو تو تنہا جائے اور اذان واِقامت کہے ، نماز پڑھے ، وہ مسجد جامع کی جماعت سے افضل ہے ۔  (  [2])

کسب اور تجارت

سوال      رزقِ حلال کے لیے جائز پیشہ اختیار کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     (  1) حضرت سَیِّدُناابوہُریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبیِ پاک ، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے ، پھر کوئی اسے دے یا کوئی منع کر دے ۔  (  [3])  (  2) حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبیِ رحمت ، شَفِیْعِ اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی پیشے کے ذریعے طَلَبِ مَعَاش میں مشغول مومن کومحبوب رکھتا ہے ۔  (  [4])

سوال      کون سا عمل وہ گناہ مٹاتا ہے جنہیں  نماز ، روزے  اور حج نہیں مٹاتے ؟

جواب     حضور تاجدارِ ختمِ نبوّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں نماز مٹاتی ہے نہ روزہ اور نہ ہی حج و عمرہ مٹاتے ہیں ۔  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْنے عرض کی :  یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  پھر کون سی چیز ان گناہوں  کو مٹاتی ہے ؟ ارشاد فرمایا : تلاش ِرزق میں غمزدہ ہونا ۔  (  [5])

سوال      عیب ظاہر کئے بغیرشے کو فروخت کردینے پر کیا وعید آئی ہے ؟

جواب     (  1) حضورنبیِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحِیْمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  جس نے عیب بیان کئے بغیرعیب دار چیز فروخت کی وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے ۔  (  [6])  (  2) اورایک حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور ِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غَلَّہ کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو اپنا ہاتھ مبارک اس میں ڈال دیا ، آپ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی تو ارشاد فرمایا : اے غلہ والے  ! یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا  : تونے گیلا غلہ  اوپر کیوں نہ کردیا تاکہ لوگ اُسے دیکھ لیتے ۔ جس نے  دھوکا دیاوہ ہم میں سے نہیں ۔  (  [7])

سوال      بیچتے وقت وزن  پورا کرنے کا شرعی حکم اور صحیح ناپ تول کے فوائد بتائیے ؟

جواب     دیتے وقت ناپ تول پورا کرنا فرض ہے بلکہ کچھ نیچا تول دینا یعنی بڑھا کر دینا مستحب ہے ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے خود اس کی فضیلت بیان فرمائی کہ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے ، آخرت میں تو یقیناً اچھا ہی انجام ہے ، دنیا میں بھی اس کا انجام اچھا ہوتا ہے کہ لوگوں میں نیک نامی ہوتی ہے جس سے تجارت چمکتی ہے ۔  آج دنیا بھر میں لوگ ان ممالک سے خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں جہاں سے صحیح مال صحیح وزن سے ملتا ہے اور جہاں سیب کی پیٹیوں کے نیچے آلو پیاز نکلیں یا پہلی تہ اعلیٰ درجے کی نکلنے کے بعد نیچے سڑا ہوا مال نکلے وہاں کا جو انجام ہوتا ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں ۔  (  [8])

سوال      قسمیں کھاکر چیز فروخت کرنے کا کیا نقصان ہے ؟

جواب     مُعلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  قسم  سامان بِکوادیتی ہے اور برکت مٹادیتی ہے ۔  (  [9]) حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کے تحت فرماتے ہیں :  ممکن ہے کہ یہاں قسم سے مرادجھوٹی قسم ہو (  اور) برکت  (  مٹنے ) سے مراد آئندہ کاروبار بند ہو جانا ہو یا کیے ہوئے بیوپار میں گھاٹا پڑ جانا یعنی اگر تم نے کسی کو جھوٹی قسم کھا کر دھوکے سے  خراب مال دے دیا  وہ ایک بار تو دھوکہ کھا جائے گا مگر دوبارہ نہ آئے گا نہ کسی کو آنے دے گا یا جو رقم تم نے اس سے حاصل کرلی اس میں برکت نہ ہوگی کہ حرام میں بے برکتی ہے ۔  (  [10])

سوال      بھیک مانگنا اور بھکاریوں کو دینا کیسا ہے ؟

 



[1]     تفسیر نعیمی ، پ۱۰ ، التوبۃ ، تحت الآیۃ : ۱۸ ، ۱۰ /  ۲۰۴ ۔

[2]     بہار شریعت ، حصہ ۳ ،  ۱ / ۶۵۰ ۔

[3]     بخاری ، کتاب البیوع ، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ ، ۲ /  ۱۱ ، حدیث : ۲۰۷۴ ۔

[4]     معجم اوسط ، ۶ /  ۳۲۷ ، حدیث : ۸۹۳۴ ۔

[5]     معجم اوسط ، ۱ /  ۴۲ ، حدیث : ۱۰۲ ۔

[6]     ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا فلیبینہ ، ۳ /  ۵۹ ، حدیث : ۲۲۴۷ ۔

[7]     مسلم ، کتاب الایمان ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا ، ص۶۴ ، حدیث : ۲۸۴ ۔

[8]     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۵ ، بنی اسرائیل ، تحت الآیۃ : ۳۵ ،  ۵ / ۴۶۰ ۔

[9]     بخاری ، کتاب البیوع ، باب یمحق اللہ الربا ۔ ۔ ۔  الخ ، ۲ /  ۱۵ ، حدیث : ۲۰۸۷ ۔

[10]      مرآۃ المناجیح ، ۴ /  ۲۴۴ ۔



Total Pages: 122

Go To