Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

دیدار نہ نصیب ہو ، مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو ۔  (  [1])

سوال      اگریہ کہا کہ” خدا کی قسم کہ اس سے بڑھ کر کوئی قسم نہیں !  میں یہ کام نہیں کروں گا  ۔ “کیااس صورت میں قسم ہوجائے گی ؟

جواب     اگر کہا  : خدا کی قسم کہ اس سے بڑھ کر کوئی قسم نہیں یااُس کے نام سے بزرگ کوئی نام نہیں یا اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں  ! میں اس کام کو نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگئی ۔  (  [2])

سوال      اگر کوئی شخص کسی حلال چیز یا کام کو اپنے اوپر حرام کرلے تو کیا حکم ہے ؟

جواب     جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ) نے جس چیز کو حلال کیا اُسے کون حرام کرسکے مگر اُس کے برتنے سے کفارہ لازم آئے گا یعنی یہ بھی قسم ہے ۔  (  [3])  (  اسی طرح اگر کسی نے یہ کہا کہ) تجھ سے بات کرناحرام ہے یہ یمین  (  یعنی قسم) ہے بات کرے گا تو کفارہ لازم ہوگا ۔  (  [4])

سوال      اگر کسی کام کے لیے چند قسمیں کھائیں تو توڑنے کی صورت میں کیا حکم ہے ؟

جواب     اگر کسی کام کی چند قسمیں کھائیں اور اُس کے خلاف کیا تو جتنی قسمیں ہیں اُتنے ہی کفارے لازم ہوں گے مثلاً کہا  : میں یہ نہیں کروں گا خدا کی قسم ، پروردگار کی قسم تو یہ دو قسمیں ہیں ۔  کسی کام کے بارے میں  قسم کھائی کہ ”میں اسے کبھی نہ کروں گا ۔ “ پھر دوبارہ اُسی مجلس میں قسم کھا کر کہا کہ” میں اس کام کو کبھی نہ کروں گا ۔ “ پھر اُس کام کو کیا تو دو کفارے لازم ہونگے ۔  (  [5])

سوال      اگر کہا کہ”میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہیں کروں گا ۔ “توکیا حکم ہے ؟

جواب     اگر کہا :  ”میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہ کروں گا ۔ “ اور واقعی قسم کھائی ہے تو قسم ہے اور جھوٹ کہا تو قسم نہیں ، جھوٹ بولنے کاگناہ ہوا ۔  (  [6])

سوال      کسی نے دوسرے سے دو مرتبہ کہا : خدا کی قسم ! تمہیں یہ کام کرنا ہوگا ۔ اور دوسرے نے ”ہاں“ کہا تو یہ قسم کس کی طرف سے ہوگی؟

جواب     اگر پہلے کا مقصود قسم کھاناہے اور دوسرے کا بھی ”ہاں“ کہنے سے قسم کھانا مقصود ہے تو دونوں کی قسم ہوگئی اور اگر پہلے کا مقصود قسم کھلانا ہے اور دوسرے کا قسم کھانا تو دوسرے کی قسم ہوگئی اور اگر پہلے کا مقصود قسم کِھلا نا ہے اور دوسرے کا مقصود” ہاں“ کہنے سے قسم کھانا نہیں بلکہ وعدہ کرنا ہے تو کسی کی قسم نہ ہوئی ۔  (  [7])

لُقْطَہ

سوال      مسلمان بھائی کی گری ہوئی چیز بدنیتی سے اٹھانے پر کیا وعید ہے ؟

جواب     حضور نبیِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشاد فرمایا :  مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی چنگاری ہے ۔  (  [8]) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  اس کی شرح میں فرماتے ہیں :  جو مسلمان کی گمی چیز بدنیّتی سے اٹھائے کہ مالک کو پہنچانے کاارادہ نہ ہو خیانت کی نیت ہو وہ  دوزخی ہے اگرچہ ذِمِّی کافر کا لقطہ بھی کھانا جائز نہیں مگر مسلمان کے لقطہ میں ڈبل عذاب ہے اس لیے خصوصیّت سے اس کا ذکر ہوا ۔  (  [9])

سوال      جس کی کوئی چیز گم ہوئی اس نے تلاش کرنے والے کیلئے رقم کا اعلان کیا تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب      جس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہے اُس نے اعلان کیاکہ جو اُس کا پتا بتائے گا اُس کو اتنا مال دوں گا تو تلاش کرنے والے کوبطورِ اجرت نہیں دے سکتا البتہ اگر بطور ِ انعام دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔  (  [10])

سوال      اگر لقطہ  (  گری پڑی شے ) کی تشہیر کے باوجود مالک نہ ملے تو کیا کیا جائے ؟

جواب     اگر بازاروں ، عام شاہراہوں اور مساجد میں اعلان کرتا رہا اور یہ گمان غالب ہو گیا کہ اب مالک اسے تلاش نہیں کرتا ہوگا تو اَب اسے اختیار ہے کہ چاہے تو لقطہ کی حفاظت کرے یا کسی مسکین پر صدقہ کردے ۔  (  [11]) نیز مَصارفِ خَیْر مثلاً مَساجِد ، مدارس واہل ِسنّت کے طباعتی اداروں وغیرہ میں بھی صَرف کر سکتا ہے ۔  (  [12]) اور اگر اُٹھانے  والاخودفقیر ہے تو مذکورہ مدت تک اعلان کے بعد اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے ۔  (  [13])

 



[1]      بہار شریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۱-٣٠٢ ۔

[2]     فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۵۷ ، بہار شریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۲ ۔

[3]     تبیین الحقائق ، کتاب الایمان ، ۳ /  ۴۳۶ ملتقطاً ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۳۰۲ ۔

[4]     فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۵۸ ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۲ ، ملتقطاً ۔

[5]     فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۵۸، ملتقطاً ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۳ ، ماخوذا ۔

[6]     فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۵۷ ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۲ ، ماخوذاً ۔

[7]     فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۶۰ ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ /  ۳۰۴ ، ملتقطاً ۔

[8]     دارمي ، کتاب البیوع ، باب فی الضالة ، ۲ / ۳۴۴ ، حدیث : ۲۶۰۲ ۔

[9]     مرآۃ المناجیح ، ۴ /  ۳۶۵ ۔

[10]     البحرالرائق مع منحۃ الخالق ، کتاب اللقطۃ ، ۵ / ۲۵۹ ، بہار شریعت ، حصہ۱۰ ، ۲ / ۴۸۳ملخصا ۔

[11]     مجمع البحرین ، کتاب اللقطة ، ص۴۹۱ ماخوذا