Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

کی قضا ہوگئی تو فرض ہے کہ اسے پڑھ کر عصر پڑھے اگر یاد ہوتے ہوئے عصر پڑھ لی تو ناجائز ہے ۔  (  [1])  البتہ جس کی  چھ نمازیں قضا ہوگئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیا اس پر ترتیب فرض نہیں ، اب اگرچہ وقت میں گنجائش ہو اور وہ پچھلی نمازادا کئے بغیر وقتی نماز پڑھے تو ہوجائے گی ۔  (  [2])

سجدۂ تلاوت ، سجدۂ شکر

سوال      کس صورت میں آیتِ سجدہ پڑھے اور سنے بغیر سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے ؟

جواب     امام نے آیتِ سجدہ پڑھی تو اس صورت میں اگرچہ مقتدی نے آیتِ سجدہ نہ پڑھی اور نہ سنی مگر امام کے ساتھ اس پر بھی سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے ۔  (  [3])

سوال      سجدۂ تلاوت میں دوسنت اوردو مستحب کون سے ہیں ؟

جواب     سجدۂ تلاوت سے پہلے اور بعد دونوں بار اَللہُ اَکْبَر کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب ہیں ۔  (  [4])

سوال     وہ کیا صورت ہے کہ آیتِ سجدہ سنی اور سجدہ کئے بغیر اس کا سجدہ ہوگیا؟

جواب     اگر امام سے آیت سنی مگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد اسی رکعت میں شامل ہوا تو امام کا سجدہ اس کے ليے بھی ہے اور دوسری رکعت میں شامل ہوا تو نماز کے بعد سجدہ کرے ۔  (  [5])

سوال     نماز میں آیتِ سجدہ پڑھی تو سجدہ کرنے میں کتنی تاخیر کرنے سے گنہگار ہوگا؟

جواب     تین آیت سے زیادہ دیر لگاناگناہ ہے ۔  تراویح یا کسی بھی نماز میں اگر آیتِ سجدہ پڑھے تو فوراً سجدہ واجب ہے ۔  (  [6])

سوال     کیانماز کے علاوہ آیتِ سجدہ پڑھتے ہی فورا ًسجدہ  واجب ہوجاتا ہے ؟

جواب     آیتِ سجدہ بیرونِ نماز پڑھی تو فوراً سجدہ کرلینا واجب نہیں ، ہاں بہتر ہے کہ فوراً کرلے اور وضو ہو تو تاخیر مکروہِ تنزیہی ہے ۔  (  [7])

سوال     نماز میں سجدۂ تلاوت کے بعد کھڑے ہوکربغیر کچھ تلاوت کئے رکوع کرنا کیسا؟

جواب     ایسی صورت میں سجدہ ادا تو ہوجائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے  ۔  (  [8])

سوال     اگر کسی پر بہت سے سجدۂ تلاوت ہوں اور وہ انہیں ادا کئے بغیر مرجائے یا ادا کرنے سے عاجز ہوجائے تو اس کی سبکدوشی کی کیا صورت ہوگی؟

جواب     شریعت میں سجدۂ تلاوت کا کوئی بدل یا فدیہ نہیں ہے اسی لئے جو ادا نہ کرسکا اس پر مرتے وقت اس بارے میں کوئی وصیت کرنا لازم نہیں  ۔ یا تو ادا کرلے اور ادا کرنے سے عاجز ہو تو توبہ ۔  اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ۔  (  [9])

سوال      کیا سجدۂ تلاوت میں ”سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکے علاوہ بھی کچھ پڑھا جاسکتا ہے ؟

جواب     فرض نماز میں سجدۂ تلاوت کیا تو ”سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھے اور نفل نماز میں سجدہ کیا تو چاہے یہ پڑھے یا اور دُعائیں جو احادیث میں وارد ہیں وہ پڑھے [10]) ۔  (  [11])

سوال      اگر آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے والا فوراً سجدہ نہ کرسکے تو اسے کیا کہہ لیناچاہیے ؟

جواب     اُس وقت اگر کسی وجہ سے سجدہ نہ کرسکے تو تلاوت کرنے والے اورسننے والے کو یہ کہہ لینا مستحب ہے ”سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ “ ۔  (  [12])

سوال      سجدۂ شکر کسے کہتے ہیں؟

جواب     حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں  : دینی یا دنیوی خوشی کی خبرسن کر سجدہ کرنے کو سجدۂ شکر کہا جاتا ہے ۔  (  [13])

سوال      کن مواقع پرسجدۂ شکر کرنا مستحب ہے ؟

 



[1]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی عشر فی قضاء الفوائت ، ۱ /  ۱۲۱ ۔

[2]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، ۲ /  ۶۳۷ ۔

[3]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوة ، ۱ /  ۱۳۳ ۔

[4]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوة ، ۱ /  ۱۳۵ ۔

[5]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب سجود التلاوة ، ۲ /  ۶۹۶ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۷۲۸ ۔

[6]     ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ۸ /  ۲۳۹ ۔

[7]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب سجود التلاوة ، ۲ /  ۷۰۳ ۔

[8]     ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ۸ /  ۲۳۵ ۔

[9]     ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ۸ /  ۲۳۸ ۔

[10]     مثلایہ دعا پڑھے : سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْ لِہٖ وَقُوَّ تِہٖ فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ (  ترجمہ : میرے چہرے نے سجدہ کیا اس کے ليے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اپنی طاقت وقوت سے کان اور آنکھ کی جگہ پھاڑی برکت والا ہے اللہعَزَّ  وَجَلَّجو اچھا پیدا کرنے والا ہے ۔ ) يایہ کہہ لے : سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا  (  ترجمہ : پاک ہے ہمارا رب ، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ ہو کر رہے گا ۔ )  (  بہار شریعت ، ۱ / ۷۳۲)

[11]     ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب سجود التلاوة ، ۲ /  ۷۰۰ ۔

[12]     فتاوی تاتارخانیة ، کتاب الصلاة ، الفصل الحادی والعشرون فی سجدة التلاوة ، ۱ /