Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

سوال      مُفَسِّرِینِ کرام نے اسمِ جلالت ’’ اللہ‘‘کے کیا معانی بیان فرمائے ہیں؟

جواب   مُفَسِّرِین نے اِس لفظ کے یہ معانی بیان فرمائے ہیں :  (  1) عبادت کا مستحق  (  2) وہ ذات جس کی مَعْرِفَتْ میں عقلیں حیران ہیں  (  3) وہ ذات جس کی بارگاہ میں سُکون حاصل ہوتاہے (  4) وہ ذات کہ مصیبت کے وقت جس کی پناہ تلاش کی جائے ۔  (  [1])

سوال      اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دو صفاتی ناموں’’رَحمٰن‘‘ اور ’’رحیم‘‘کے کیا معنی ہیں؟

جواب     رحمٰن کا معنی ہے :  نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات جو بہت زیادہ رحمت فرمائے اور رحیم کا معنی ہے  :  بہت رحمت فرمانے والا ۔  (  [2])

سوال      کسی کو ’’رحمٰن‘‘ یا ’’رحیم‘‘ کہنا کیسا ہے ؟

جواب            اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو رحمٰن کہنا جائز نہیں جبکہ رحیم کہا جا سکتا ہے جیسے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی رحیم فرمایا ہے ۔  (  [3])

سوال      توحید سے کیا مراد ہے ؟

جواب     توحید سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی وَحدانیّت کو ماننا ہے یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک ہے [4]) اور کوئی بھی اس کا شریک نہیں[5]) ، نہ ذات میں نہ صفات میں ، نہ اَفعال  (  کاموں) میں[6]) نہ اَسماء  (  یعنی ناموں ) میں[7]) اور نہ ہی اَحکام میں  ۔  (  [8])

سوال      اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اپنی قدرت سے پیدا کرنے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب     قدرت سے پیداکرنے کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کرنے کا اِرادہ فرمایا اس کے لیے لفظ کُنْ  (   یعنی ہوجا) فرمادیا اور وہ چیز اُس کی مرضی کے مطابق وجود میں آگئی ، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے  : (اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۸۲)) (  پ۲۳ ، یٰسٓ : ۸۲) ترجَمۂ کنزالایمان : اس کا  کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے (  کہ پیدا کرے ) تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے ۔  

سوال      اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے زمین وآسمان کو کتنے دن میں تخلیق فرمایا؟

جواب     زمین وآسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں تخلیق فرمایا ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّقرآنِ پاک میں فرماتا ہے : (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﳓ) (  پ۲۶ ، قٓ :  ۳۸) ترجمۂ کنزالایمان : اور بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا ۔

سوال      عبادت کا معنی بتائیے ؟

جواب     عبادت اُس انتہائی تعظیم کا نام ہے جو بندہ اپنی عَبْدِیَّتْ یعنی بندہ ہونے اور معبود کی اُلُوہیَّت یعنی معبود ہونے کے اِعتقاد اور اِعْتِراف کے ساتھ بجا لائے ۔  (  [9])

سوال      عبادت اور تعظیم میں مثال کے ساتھ فرق بیان کیجئے ؟

جواب     عبادت کامفہوم بہت واضح ہے ، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہوئے اُس کی کسی قِسْم کی تعظیم کرنا’’عبادت‘‘کہلاتاہے اور اگر عبادت کے لائق نہ سمجھیں تو وہ مَحْض”تعظیم“ہوگی عبادت نہیں کہلائے گی ، جیسے نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا عبادت ہے لیکن یہی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا اُستاد ، پِیر یا ماں باپ کے لئے ہو تومَحض تعظیم ہے عبادت نہیں ۔  (  [10])

سوال      بارگاہِ خداوندی میں اپنی حاجت سے پہلے وسیلہ پیش کرنے کی کیا برکت حاصل ہوتی ہے ؟

جواب     سورۂ فاتِحَہ کی پانچویں آیت کے تحت امام عبد اللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : عبادت کو مدد طلب کرنے سے پہلے ذکر کیاگیا کیونکہ  حاجت طلب کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قَبُولِیَّت کے زیادہ قریب ہے ۔  (  [11]) اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔  (  [12])

 



1     تفسیر بیضاوی ، پ۱ ، الفاتحة ، تحت الآیة : ۴ ، ۱ /  ۳۲ ۔

2     تفسیر صراط الجنان ، پ۱ ، الفاتحۃ ، تحت الآیۃ : ۲ ، ۱ /  ۴۴ ۔

3     تفسیر صراط الجنان ، پ۱ ، الفاتحۃ ، تحت الآیۃ : ۲ ، ۱ /  ۴۶ ۔

4   پ۳۰ ، الاخلاص : ۱ ۔

5     پ۸ ، الانعام : ۱۶۳ ۔

6    تفسیر صاوی ، پ۳۰ ، الاخلاص ، تحت الآیة : ۱ ، ۶ /  ۲۴۵۱ ۔

7     التفسیر الکبیر ، پ۱۶ ، مریم ، تحت الآیة : ۶۵ ، ۷ /

Total Pages: 122

Go To