Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

سوال      وہ کون سا پتھر ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں دو جگہ  فرمایا گیا ہے ؟

جواب     تعمیرِ خانۂ  کعبہ کے وقت جب دیواریں سر سے اونچی ہوگئیں تو حضرت سَیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک پتھر پر کھڑے ہوکر دیواروں کو مکمل فرمایا ، آپ کا معجزہ تھا کہ پتھر موم کی طرح نرم ہوگیااور قدموں کے نشان اس پر نَقْش ہوگئے  اور یوں اِس پتھر کی فضیلت وعظمت کوچار چاند لگ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دو جگہ اس کی عظمت کا خطبہ ارشاد فرمایا ، اسے مقامِ ابراہیم کہتے ہیں ۔  (  [1])

سوال      کس خاتون نے رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مکانِ عالیشان کے پاس مسجد بنوائی تھی؟

جواب     خلیفہ ہارون رشید کی والدہ نے ۔  (  [2])

سوال      سَیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا مکانِ رحمت نشان کہاں واقع ہے ؟

جواب     صد کروڑ افسوس ! اب اِس کے نشان تک مٹادئیے گئے ہیں اور لوگوں کے چلنے کے لیے یہاں ہموار فرش بنادیا گیاہے ۔ مَروہ کی پہاڑی کے قریب واقع ’’بابُ المَرْوَہ‘‘سے نکل کر بائیں طرف  (  Left Side) ۔  (  [3])

سوال      غارِ حرا افضل ہے یا غارِ ثور؟

جواب     ’’غارِ حرا‘‘غارِ ثور سے افضل ہے کیونکہ غارِ ثور نے تین دن تک سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدم چومے جبکہ غارِ حرا سلطانِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت بابَرَکت سے زیادہ عرصہ مُشَرَّف ہوا ۔  (  [4])

سوال      قابیل نے سیدنا ہابیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کہاں شہید کیا تھا؟

جواب     جَبَلِ ثورپرشہید کیا ۔  (  [5])

سوال      محض زیارتِ روضۂ اَقدس کی نیت سے سفرِمدینہ کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حضورِ اَکرم ، شفیعِ اعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  جوشخص بالقصد میری زیارت کو آیا وہ قیامت کے دِن میری محافظت میں رہے گا ۔  (  [6])

سوال      دنیا کا سب سے افضل قبرستان کون سا ہے ؟

جواب     مدینۂ منوّرہ کا قبرستان ”جنّت البقیع“یہ مکہ مکرمہ کے قبرستان”جنَّتُ المَعْلیٰ“ سے بھی افضل ہے کیونکہ یہاں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے مزارات زیادہ ہیں یااِس لیے افضل ہے کہ یہ حضورامامُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  روضۂ اَنور سے قریب ہے ۔  (  [7])

سوال      جنّت البقیع میں کتنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آرام فرما ہیں؟

جواب     تقریباً دس ہزارصحابۂ کرام رِضْوَان اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  ۔  (  [8])

سوال      مکہ مکرمہ کے ’’محلّہ مَسفَلہ‘‘ کو تاریخی حیثیت کیوں حاصل ہے ؟

جواب     کیونکہ حضرت سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام ، حضراتِ صدیق و فاروق و حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اِسی محلۂ مبارکہ میں رہا کرتے تھے ۔  (  [9])

سوال      ”غارِ مُرسلات“ کی کیا خصوصیت ہے ؟

جواب     یہ وہ غار ہے جس میں پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا سرِ مبارک غار کے اوپر کے پتھر سے مَسTouch) ہوا تو وہ پتھر نرم ہوگیااور وہاں سرِ پاک کا نشان بن گیا ۔  (  [10])

سوال      ’’اُسطُوانۂ عائشہ‘‘کے پاس نماز پڑھنے کے متعلق حدیث میں کیافرمایا گیا؟

جواب     حضورتاجدارِختم نبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا  : ایک جگہ (  یعنی اسطوانۂ عائشہ) بہت زیادہ برکت والی ہے ، اگرلوگوں کو عِلم ہوجائے تو انہیں وہاں نماز پڑھنے کے لیے ہجوم کی وجہ سے قُرعہ ڈالنا پڑے ۔  (  [11])

 



[1]     خزائن العرفان ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۱۲۵ ، ص۴۲ ، پ۴ ، اٰل عمران ، تحت الآیۃ : ۹۷ ، ص ۱۲۶ ۔

[2]     السيرة النبوية لابن كثير ، باب مولد رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم ، ۱ / ۲۰۰ ۔

[3]     عاشقان رسول کی 130 حکایات ، ص۲۴۰ ۔

[4]     عاشقان رسول کی 130 حکایات ، ص۲۴۲ ۔

[5]     تفسیر قرطبی ، پ۶ ، المائدة ، تحت الآیة : ۳۰ ، ۳ /  ۷۶ ۔

[6]     شعب الایمان ، باب فی المناسک ، فضل الحج والعمرة ، ۳ /  ۴۸۸ ، حدیث : ۴۱۵۲ ۔

[7]     مرقاة المفاتیح ، کتاب المناسک ، باب حرم المدینة حرسھا اللہ تعالی ، ۵ /  ۶۳۰ ، تحت الحدیث : ۲۷۵۰ ۔

[8]     شرح المواھب ، المقصد العاشر ، الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۲ / ۲۶۲ ماخوذا ۔

[9]     عاشقان رسول کی 130 حکایات ، ص۲۴۳ ۔