Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

خالق نے مجھے یوں بخش دیا،  سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ بُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  الْمُبِیْن  سے عقیدت و محبت رکھنے ان کی تعظیم وتوقیر کرنے کی کتنی بَرکتیں ہیں لہٰذا اپنے بُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  سے عقیدت و محبت رکھیے اور ان سے حُسنِ خاتمہ کی دُعائیں بھی کرواتے رہیے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِیمان پرخاتمہ ہو گا۔ ( شیخِ طریقت، اَمیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: ) میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کو اپنے بُزرگوں سے کیسی  عقیدت ومحبت تھی باوجود ولیٔ  کامل ہونے کے بارگاہِ غوثیت مآب میں عرض کرتے ہیں :

رضا کا خاتمہ بالخیر ہو گا

                                      تری رَحمت اگر شامِل ہے یا غوث   ( حدائقِ بخشش )

اپنے دادا پیر حضرت سیِّد شاہ آلِ احمد اچھے میاں مارہروی قادریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے بارے میں فرماتے ہیں:

نامہ سے رضا کے اب مِٹ جاؤ  بُرے کامو

دیکھو مِرے پَلّہ پر وہ اچھے میاں آیا

خوش کار رضا خوش ہو سب  کام بھلے ہوں گے

                               وہ اچھے میاں پیارا اچھوں کا میاں آیا   ( حدائقِ بخشش )

اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے اپنے اِس  کلام کے مَقْطَع کے پہلے مصرعے  میں عاجزی و اِنکساری فرماتے ہوئے خود کو  ”بدکار“فرمایا  ہے ،  میں نے اس کی جگہ  ”خوش کار“ کر دیا ہے اور ’’بدکام‘‘  کو ’’سب کام‘‘ سے بدل دیا ہے ۔ اب اسی  مَقْطَع کو میں اپنے لیے عرض کرتا ہوں :

بدکار گدا خوش ہو بد کام بھلے ہوں گے

دیکھو میرے پَلّہ پر وہ احمد رضا خاں آیا

نماز میں کیا تصوُّر  ہونا چاہیے ؟

سُوال: نماز میں کیا تصوُّر ہونا چاہیے ؟ کیا اپنے پیر و مُرشد کا تصوُّر  کر سکتے ہیں؟

جواب:نماز میں اپنے پیر و مُرشد کا تصوُّر نہ کیجیے بلکہ جب نماز پڑھیں تو اپنے دِل و دماغ کو غیر کے تصوُّر( [1] ) سے خالی کر  کے اس نماز  کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھتے  ہوئے اس طرح پڑھیے کہ گویا اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھ رہے ہو،  اگر یہ نہ ہو سکے تو کم ازکم یہ تصوُّر کیجیے کہ جس معبودِ برحق کی عبادت کر رہے ہیں وہ یقیناً ہمیں دیکھ رہا ہے جیسا کہ امامُ العابدین،  سیِّدُ الصَّالحین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے :تم اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت ایسے  کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو،  پس اگر تم اسے نہ دیکھ سکو  تو بیشک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ( [2] ) آئیے اِس ضمن میں حضرتِ سیِّدُنا حاتمِ اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکْرَم کی نماز کا حال مُلاحظہ فرمائیے :

حاتمِ اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکْرَم کی نماز کا حال

 



[1]    اَلبتہ نماز میں حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا تصوُّر آنے سے نماز اپنے کمال کو پہنچتی ہے کیونکہ ان کے تصوُّر  کے بغیر نماز پڑھنا ممکن ہی نہیں  بلکہ ”حق تو یہ ہے نماز، روزہ  اورحج وغیرہ محبوب عَلَیْہِ السَّلَام کی محبوب اَداؤں کا نام ہے۔“( شانِ حبیب  الرحمٰن ، ص۸ نعیمی کتب خانہ گجرات )

   [2]    بخاری ، کتاب الایمان، باب سؤال جبریل...الخ، ۱/  ۳۱ ، حدیث: ۵۰  دار الکتب العلمیة  بیروت



Total Pages: 15

Go To