Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تشویش اور سخت تشویش والا مُعاملہ ہے ۔ آہ! نہ جانے نزع کے وقت ہمارا کیا بنے گا! ہم میں سے ہر  ایک کو اپنے اِیمان کی فِکر کرنی چاہیے کہ جس شخص کو زندگی میں اپنے اِیمان کی فِکر نہیں ہوتی ،  اَندیشہ ہے کہ مَرتے وقت اُس کا اِیمان سَلب کر لیا جائے چنانچہ دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتیاِدارے مکتبۃ المدینہ کی 568 صَفحات پر مشتمل کتاب  ”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ 495 پر ہے :عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: ”جس کو ( زندگی میں ) سلبِ ایمان کا خوف نہ ہو،  مَرتے وقت اُس کا اِیمان سَلب ہو جانے کا اَندیشہ ہے ۔ “اِیمان کے مُعاملے میں ہر وقت لَرزاں و ترساں رہنا چاہیے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خُفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے اِیمان کی سلامتی کی دُعا کرتے رہنا چاہیے ۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ہمارے بارے میںاللہ عَزَّوَجَلَّ  کی خُفیہ تدبیر کیا ہے ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے حالِ زَار پر رحم فرمائے ،  نزع کے وقت ہمارے پاس شَیاطین نہ آئیں بلکہ رَحْمَۃٌ  لِّلْعٰلَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کرم فرمائیں۔   

نَزع کے وقت مجھے جَلوۂ محبوب دِکھا

                              تیرا کیا جائے گا میں شاد مَروں گا یا ربّ        ( وسائلِ  بخشش )

اِیمان کی حفاظت کے مختلف ذَرائع

سُوال:اِیمان کی حفاظت کے کیا کیا ذَرائع  ہیں؟

جواب:دُنیا سے اِیمان سلامت لے جانا یہ  بہت دُشوار گزار گھاٹی ہے جسے ہم سب نے  عُبُور کرنا ہے ۔ قابلِ رَشک ہے وہ مسلمان جو اِیمان سلامت لے کر قبر کے اندر داخِل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اِیمان کی حفاظت کے مختلف ذَرائع ہیں جن میں سے ایک بہترین ذَریعہ کسی مُرشدِ کامِل( یعنی جامع شرائط پیر ) سے مُرید ہونا بھی ہے ۔ اِسی طرح اِیمان کی حفاظت و سلامتی کا ایک اور ذَریعہ اچھی صحبت  اپنانا

اور بُری صحبت سے خود کو بچانا بھی ہے کیونکہ  ”اَلصُّحْبَۃُ مُؤَثِّرَۃٌ یعنی صحبت اَثر انداز ہوتی ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا  علّامہ جلالُ الدِّین  رُومی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:

صُحْبَتِ صَالِحْ تُرَا صَالِحْ کُنَد

صُحْبَتِ طَالِحْ تُرَا طَالِحْ کُنَد

یعنی اچھوں کی صحبت تجھے اچھا بنا دے گی اور بُروں کی صحبت تجھے بُرا  بنا دے گی۔

بُری صحبت سے اِیمان بَرباد ہو جاتا ہے اور بندے کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی لہٰذا  بُری صحبت سے ہر دَم بچتے رہیے ۔ بُری  صحبت کس قدر تباہ کُن ہے اس کا اَندازہ اس واقعے سے لگائیے چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 568 صفحات پر مشتمل کتاب ،  ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صَفْحَہ 301پر ہے :عمران بن حِطَّان رَقَاشی اکابر عُلمائے مُحدِّثین سے تھا، اس کی ایک چچا زاد بہن خارجیہ  تھی،  اس سے نکاح کر لیا۔ عُلمائے کرام نے سُن کر طعنہ زنی کی، ( اس نے ) کہا: ”میں نے تو اس لیے نکاح کر لیا ہے کہ اس کو اپنے مذہب پر لے آؤں گا۔ “ ایک سال  نہ گزرا تھا کہ خود خارجی ہو گیا۔ ( [1] )

شد غلام کہ آب جو آرد

آب جو آمد و غلام ببرد

 



   [1]    الاصابة  فی تمییز الصحابة، حرف العین، ۵/ ۲۳۳ دار الکتب العلمیة  بیروت



Total Pages: 15

Go To