Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

خوب کما کر لائے ، اَلغرض بچپن ہی سے والدین اور  بچوں پر مال و دولت کمانے کی  ایسی دُھن  سُوار ہو جاتی ہے جو قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتی اور اسی مال کی محبت کی وجہ سے قبر و آخرت کو فَراموش کر دیا جاتا ہے جبکہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ مال و دولت  کی جستجو کے بجائے دِین و اِیمان کی سلامتی کے بارے میں فِکر مند رہتے اور اس کے لیے دُعائیں مانگا کرتے تھے  مگر عشق کی سلامتی سے بے خبر تھے تو ان کے بارے میں سلطانُ العارفین حضرتِ سَیِّدُنا سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

ایمان سلامت ہر کوئی منگے

عشق سلامت کوئی ہو

وہ زمانہ تو  پھر بھی  غنیمت تھا کہ لوگ اِیمان کی سلامتی کے لیے کُڑھتے اور دُعائیں مانگا کرتے تھے مگر اب تو شاذ و نادِر ہی مسلمان ایسے ہوں گے جو اِیمان کی سلامتی کے لیے  فِکرمند رہتے اور دُعائیں  کرتے ہوں گے ، اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مال و دولت مل جائے اور روزی میں خوب خوب برکت ہو حالانکہ ہر ایک کی روزی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِمَّۂ  کر م پر  ہے جیسا کہ  پارہ 12 سورۂ  ہود کی آیت نمبر6 میں اِرشادِ ربّ العباد ہے :

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا                ترجمۂ کنزالایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ( جاندار ) ایسا نہیں جس کا رِزق اللہ کے   ذِمَّۂ  کرم پر نہ ہو۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے  کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ہر ایک کی روزی تو اپنے ذِمَّۂ کرم پر لی ہے مگر ہر ایک کی مغفرت کا ذِمَّہ نہیں لیا ۔ وہ مسلمان کس قَدَر نادان ہے جو فراخیٔ رِزق کے لیے تو مارا مارا پھرے مگر مغفرت کی حسرت میں دِل نہ جلائے ۔ جتنا اِنسان تنگدستی سے ڈرتا اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اتنا اگر جہنم سے ڈرتا اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا تو دونوں سے نَجات پا لیتا جیسا کہ مکاشفۃ القلوب میں ہے کہ ایک دانشمندکا قول ہے کہ اِنسان جتنا تنگدستی سے ڈرتا ہے اگر اتنا جہنم سے ڈرتا تو دونوں سے نَجات پا لیتا اور جتنی اِسے دولت سے مَحَبَّت ہے اگر جنَّت سے اتنی مَحَبَّت ہوتی تو دونوں کو پا لیتا اور جتنا ظاہِر میں لوگوں سے ڈرتا ہے اگر اتنا باطِن میں اللہتعالیٰ سے ڈرتا تو دونوں جہانوں میں سعادت مند ہو جاتا۔ ( [1] ) لہٰذا رِزق میں بَرکت کی جستجو کے  ساتھ ساتھ اپنی قبر و آخرت کو بہتر سے بہترین  بنانے اور زیادہ سے زیادہ  نیکیاں  کمانے کی بھی آرزو  ہونی  چاہیے ۔

رِزق میں بَرکت کی تو ہے جستجو

آہ! نیکی کی کرے کون آرزو!   ( وسائلِ بخشش )

قرض کی اَدائیگی کا وَظیفہ

سُوال: قرض سے خَلاصی پانے  کا کوئی وَظیفہ اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 568 صَفحات پر مشتمل کتاب ”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ 439 پر اعلیٰ حضرت،  امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  نے قرض سے خَلاصی پانے  کا یہ وَظیفہ اِرشاد فرمایا ہے :اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ  بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ یعنی اے اللّٰہ! مجھے حلال چیزوں میں کفایت کر حرام چیزوں سے دُور رکھ اور



   [1]    مُکاشَفة الْقُلوب،  ص۱۲۹ دار الکتب العلمیة  بیروت  



Total Pages: 15

Go To