Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

معافی مانگ لے تو اُمید ہے کہ وہ جہنّم کے عذاب سے بچ جائے گا بشرطیکہ  اُس کا خاتمہ اِیمان پر ہوا ہو۔

یاد رکھیے ! یہ جو زانی کی حَد ہے اس کے نافِذ کرنے کا ہر ایک کو اِختیار نہیں کیونکہ شرعی حُدُود کا نَفاذ وہاں ہوتا ہے جہاں اِسلامی سلطنت اور سُلطانِ اِسلام ہو جبکہ ہمارے یہاں اِسلامی سلطنت ہے نہ سُلطانِ اسلام۔  اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:زِنا کی سزا آخرت میں عذابِ نار ہے اور دُنیا میں حَد ہے جس کا سُلطانِ اِسلام کو اِختيار ہے ۔ ( [1] )

فی زمانہ زانی اور زانیہ کے لیے حکم بیان کرتے ہوئے فقیۂ ملت حضرتِ علّامہ مولانا مفتی جلالُ الدِّین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:یہاں اگر حکومتِ اِسلامیہ ہوتی تو زانی کو سو کوڑے مارے جاتے یا ( شادی شُدہ ہونے کی صورت میں )سنگسار کیا جاتا یعنی اس قدر پتھر مارا جاتا کہ وہ مر جاتا مگر اس حال میں زانی اور زانیہ کے لیے یہ حکم ہے کہ مسلمان ان کا پورے طور پر بائیکاٹ کریں،  ان کے ساتھ کھانا پینا،  اُٹھنا بیٹھنا،  سلام و کلام اور ہر قسم کے اِسلامی تعلقات ختم کر دیں تا وقتیکہ توبہ کر کے وہ اپنے گناہ سے باز نہ آ جائیں۔ اگر مسلمان ایسا نہیں کریں  گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے ۔ ( [2] )

زِنا سے توبہ کا طریقہ

سُوال:اگر کسی نے مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ  زِنا کر لیا تو اس  پر کوئی کفّارہ ہے یا نہیں؟ نیز توبہ کا طریقہ  بھی اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب:اگر مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی نے زِنا  کا اِرتکاب کیا تو اس  پر کوئی کفّارہ  نہیں کیونکہ  ”شرع مطہر میں کفارہ اس گناہ کا ہوتا ہے کہ وہ  بُرائی میں حَد سے بڑھ کر نہ ہو اور جو شخص اپنے گناہ میں حَد سے تجاوز کر جائے تو وہ کفارہ سے پاک نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ صِدقِ دِل سے توبہ نہ کرے تو اس گناہ سے پاک نہیں ہو سکتا۔ “( [3] ) لہٰذا زانی اپنے کیے پر نادِم ہو کر اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور آئندہ اس سے سختی سے اِجتناب کرے ۔ اس گناہ میں جس جس کی حق تلفی شامِل ہو اس سے بھی معافی مانگ کر اسے راضی کرنے کی کوشش کرے ۔ اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: اگر ایسی عورت سے  بغیر اس کی رضا کے بدکاری  کی جس کا شوہر ہو یا باپ بھائی وغیر ہ اولیاء جن کو اس  مُعاملے سے عار( غیرت ) پہنچے فرض کیجئے وہ دس شخص ہیں تو بارہ حقوق میں گرفتاری ہے ۔ ایک حق مولیٰ عَزَّ  وَجَلَّ کا کہ اس کی نافرمانی کی،  دوسرا اس عورت کا کہ اس کی عصْمَت خراب کی،  یوں ہی باقی دس حقداروں کا۔ جب تک یہ سب مُعاف نہ کریں مُعاف نہ ہو گا جب کہ ان کو اِطلاع پہنچ جائے ۔ اگر زِنا عورت کی رضا مندی سے ہے تو عورت اور یہ زانی دونوں گیارہ سخت حقوق میں گرفتار ہوئے ۔ ایک حق مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ  کا دس ان دسوں کے اِس صورت میں عورت کا حق نہ ہو گا کیونکہ وہ زِنا پر راضی ہے ۔ ( [4] )

اگر زِنا کی اِطلاع شوہر یا اَولیائے زَن کو پہنچ گئی تو بِلاشبہہ ان سے مُعافی مانگنا ضَروری ہے بے اُن کے مُعاف کئے مُعاف نہ ہو گا اور اگر اِطلاع نہ پہنچی تو مُعافی چاہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے مُعاف کر دیا تو اِطمینان کافی ہے مگر  طلبِ مُعافی میں نہ تو صاف  تصریحِ زِنا ہو کہ شاید اس  کے بعد مُعافی نہ ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس سے فتنہ پیدا ہو اور نہ اتنی ہی اِجمالی بات  پر قناعت کی جائے کہ ” مجھے اپنے سب حق مُعاف کر دے “ کہ اس میں عِنْدَ اللہ ( یعنی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے نزدیک ) اُتنے ہی حقوق مُعاف ہوں گے جہاں تک



[1]    فتاویٰ رضویہ ،  ۲۳/ ۳۲۶

[2]    انوارُ الحدیث، ص۳۲۷ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]    فتاویٰ رضویہ، ۱۳/ ۶۰۹

[4]    فتاویٰ رضویہ،  ٢۹/ ۸٣ ملخصًا 



Total Pages: 15

Go To