Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

ہے تو وہ بھی سر یا چہرے پر اور ضربِ شدید کے ساتھ نہیں مار سکتے۔انسان تو انسان جانور کے سر اور چہرے پر مارنے کی بھی ممانعت ہے چنانچہ رَدُّالمحتار میں  ہے:بِلاوجہ جانور کو  نہ مارے اور سر یا چہرہ پر کسی حالت میں ہرگز نہ مارے کہ یہ بِالاجماع  (یعنی بالاتفاق)    ناجائز ہے۔ جانور پر ظلم کرنا ذِمّی کافر ([1]پر ظلم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیونکہ جانور کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی مددگار نہیں اس غریب جانور کو اس ظلم سے کون بچائے۔ ([2]اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ظلم وستم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ([3]

ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسِطے اُٹّھیں

بچانا ظلم و ستم سے مجھے سَدا یاربّ

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دَم

کریں نہ رُخ مرے پاؤں گناہ کا یاربّ        (وسائلِ بخشش

وَلدیت تبد یل کرنے کا حکم

سُوال:جو جان بُوجھ کر اپنے آپ کو اپنے والِد کے بجائے کسی اور کا بیٹا بتائے،  اُس کے لیے  شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب:اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کواپنا باپ بتانا یا اپنے خاندان و نَسَب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان سے اپنا نَسَب جوڑنا  ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے چنانچہ نبیوں کے سلطان ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ فُلاں شخص میرا حقیقی باپ نہیں ہے پھر بھی اس کی طرف اپنی نسبت کی تو اس پر جنَّت حرام ہے۔ ([4]ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا:جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعویٰ کرے یا کسی غیر والی  (یعنی اپنے آقا کے علاوہ کسی اور)   کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے قیامت کے دن فرائض اور نوافل قبول نہیں فرمائے گا۔ ([5]

شادی کارڈ میں قصداً کسی اور  کا نام بطورِ باپ لکھناکیسا؟

سُوال:ماں کو طَلاق دے دینے والے باپ کے بجائے شادی کارڈ وغیرہ میں کسی اور کا نام بطورِ باپ لکھ  سکتے ہیں؟

 



[1]    ذِمّی: اس کافر کو کہتے ہیں جس کے جان و مال کی حفاظت کا بادشاہِ اسلام نے جزیہ کے بدلے ذِمَّہ لیا ہو۔ (فتاویٰ فیض الرسول، ۱ / ۵۰۱ شبیر برادرز مرکز الاولیا لاہور)

[2]    ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة ، ۹ / ۶۶۲ دارالمعرفه بیروت

[3]    مزید تفصیلات جاننے کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رِسالے”ظلم کا اَنجام “ کا مطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ظلم سے بچنے کا ذہن بنے گا ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[4]     بخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعٰی ...الخ ، ۴ / ۳۲۶، حدیث: ۶۷۶۶دار الکتب العلمیه بیروت

[5]     مسلم، کتاب العتق، بابُ تَحْرِيمِ تَولي الْعَتِيق...الخ ، ص۶۲۳، حدیث: ۳۷۹۴  دار الکتاب العربی  بیروت



Total Pages: 21

Go To