Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

بسطام کا پھل نہیں کھاؤں گا۔ ([1])   

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا! آپ نے کہ ”لَطِيْف“ کا ایک لفظی معنیٰ ”عمدہ“ہے مگر چونکہ یہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کا صِفاتی نام بھی ہے اس لیے حضرتِ سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السَّامِی کو تنبیہ کی گئی تو اسی طرح ”حَلِیْم“بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا صفاتی نام ہےلہٰذا اسے”کھچڑے“کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔جتنا زیادہ ادب کریں گے اتنی ہی زیادہ برکتیں نصیب ہوں گی ۔ بہرحال اگر کسی نے اس غذاکو حلیم کہا تو  اسے گناہگار نہیں کہا جائے  گا، حضرتِ سیِّدُنا  بایزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السَّامِی کو ان کے منصبِ ولایت کی وجہ سے تنبیہ فرمائی  گئی تھی۔

جو ہے باادب وہ بڑا بانصیب اور

جو ہے بے ادب وہ نہایت بُرا ہے  (وسائلِ بخشش

تفریحاً شکار کرنا کیسا؟

سُوال :کیا شکار کرنا      سُنَّت ہے؟نیز تفریحاً شکار کرنا کیساہے؟

جواب:شِکار اگر غِذا یا دَوا یا تجارت کی غرض  کے لیے کیا جائے تو یہ جائز ہےجبکہ بطورِ تفریح شکار کرنا حرام ہے ۔ حدیثِ پاک  میں ہے:جوشکار کے پیچھے رہا وہ غافِل ہوگیا۔ ([2]اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الْامَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:یعنی جو شکار کا شغل اپنا وَطیرہ بنا لے کہ محض شوقیہ شکار کھیلتا رہے وہ اللہ کے ذِکر، نماز و جماعت،  جمعہ، رِقَّتِ قلب سے محروم رہتا ہے۔حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے کبھی شکار نہ کیا۔بعض صحابہ نے شکار کیا ہے مگر شکارکرنا اور ہے اور شکار کا مشغلہ وہ بھی محض شوقیہ کچھ اور،  شکار کا ذِکر تو قرآنِ کریم میں ہے یہاں مشغلۂ شوقیہ کا ذِکر ہے لہٰذا یہ حدیث حکمِ قرآن کے خلاف نہیں۔ ([3]

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حدیثِ پاک اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ نہ تو  شکار کرنا سنَّت ہے اور  نہ ہی تفریحاً شکار کرنے کی اجازت۔ بہرحال اگر کسی نے تفریحاً شکار کیا تو اس کا یہ فعل  (یعنی شکار کرنا)  حرام ہے مگر جو مچھلی یا حلال جانورجس کا شکارکیا گیا اُسے  کھانا حلال ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:کسی جانور کا شِکار اگر غِذا یا دَوا یا دَفع ِایذا یا تجارت کی غرض سے ہو جائز ہے اور جو تفریح کے لئےہو جس طرح آج کل رائج ہے اور اسی لئے اسے شکار کھیلنا کہتے اور کھیل سمجھتے ہیں اور وہ جو اپنے کھانے کے لئے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا  عار جانیں،  دُھوپ اور لُو میں خاک اُڑاتے  (یعنی آوارہ پھرتے)   ہیں، یہ مطلقاً حرام ہے۔ رہی شکار کی ہو ئی مچھلی اس کا



[1]    تذکرةُ الاولیا، باب چھار دھم، ذکر بایزید بسطامی، ص۱۳۴ اِنتشارات گنجینہ تھران

[2]    مشکاة المصابیح ، کتاب الامارة  والقضاء، الفصل الثانی ، ۲ / ۹، حدیث: ۳۷۰۱  دارالکتب  العلمیه  بیروت

[3]    مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۶۱  ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور



Total Pages: 21

Go To