Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

سے توبہ کرنے ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے  ، گناہوں بھری زندگی سے توبہ کر کے نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن ہونے ، نمازیں پڑھنے اور سنتوں پر عمل کرنے، چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ شریف کا تاج سجانے ،مختلف اَمراض سے شِفا پانے ،فلمیں ڈرامے دیکھنے اورگانے باجے سننے وغیرہ سے نفرت کرنے کی مدنی بہاریں موصول ہوتی رہتی ہیں ۔آپ بھی دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اجتِماعی اعتکاف میں شامل ہو جائیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی زندگی میں مَدَنی انقِلاب  برپا  ہو جائیگا۔

آئیں گی سنّتیں جائیں گی شامتیں                   مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

تم سدھر جاؤ گے، پاؤ گے برکتیں            مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

مرضِ عصیاں سے چھٹکارا چاہو اگر                    مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

چوٹ کھا جائے گا ا ِک نہ اِک روز دل                     مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

نیکیوں کا تمہیں خوب جذبہ ملے             مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

عمر آیندہ گزرے گی سنَّت بھری             مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

اعتکاف کی تعریف

      ”مسجِدمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضا کے لیے بہ نیّتِ اِعتِکاف ٹھہرنا اِعتِکاف ہے۔“اس کے لیے مسلمان کا عاقِل اور جَنابت اور (عورت کا) حَیض ونفاس سے پاک ہوناشرط ہے۔بُلوغ شرط نہیں نابالِغ بھی جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّتِ اعتِکاف مسجِد میں ٹھہرے تو اُس کا اعتِکاف صحیح ہے۔  ([1])

اعتکاف کے لغوی معنیٰ

     اِعتِکاف کے لغوی معنیٰ ہیں”دَھرنامارنا“ مطلب یہ کہ مُعْتَکِف اللہ  ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ عظمت میں اُس کی عبادت پرکمَرَ بَستَہ ہو کر دھرنا  مارکر پڑا رہتا ہے۔ اس کی یِہی دُھن ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا پَروردگار عَزَّ وَجَلَّ  اس سے راضی ہو جائے ۔حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی  قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: مُعتَکِف کی مِثال اس شخص کی سی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے در پر آپڑا ہو اور یہ کہہ رہا ہو:یا اللہ عَزَّوَجَلَّ  ! جب تک تُو میری مغفِرت نہیں فرما  دے گا میں یہاں سے نہیں اُٹھوں گا۔  ([2])  

اعتکاف کی اَقسام

      اِعتِکاف کی تین اَقسام ہیں: (۱) اعتِکافِ واجِب (۲)  اعتِکافِ سُنّت (۳) اِعتِکافِ نَفل۔

     اعتکافِ واجب:اِعتِکاف کی نَذر (یعنی مَنّت) مانی یعنی زَبان سے کہا:”میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے لیے فُلاں دن یا اتنے دن کا اِعتِکاف کروں گا۔“ تو اب جتنے بھی دن کا کہا ہے اُتنے دن کا اِعتِکاف کرنا واجِب ہوگیا۔ یاد رکھیے! جب بھی کسی  قسم کی مَنَّت مانی جائےاُس میں یہ شَرط ہےکہمَنَّت کے اَلفاظ زَبان سے ادا کیے جائیں صِرْف دل ہی دل میں مَنَّت کی نیَّت کر لینے سے مَنَّت صحیح  نہیں ہوتی۔ (اور ایسی مَنَّت کاپوراکرنا بھی واجِب نہیں ہوتا۔)  ([3])  اِس میں روزہ بھی شَرْط ہے۔مَنَّت کااعتِکاف مَردمسجِد میں کرے اورعورت مسجدِ بَیْت میں۔ (عورت گھرمیں جوجگہ نَمازکے لیے مخصوص کر لے اسے ”مسجدِ بَیت“کہتے ہیں۔) یاد رکھیے! اگر کسی نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنتِ اعتکاف توڑ دیا تو  اس کی ایک دن کی قضا بھی واجب ہی میں شمار ہوتی ہے۔

        اعتکافِ سنت:رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخِری عَشرے کا اعتکافسنَّتِ مُؤَکَّدَہ عَلَی الْکِفَایَہ“ہے۔ ([4]) یعنی پورے شَہر میں کسی ایک نے کر لیا توسب کی



1     فتاویٰ ھندیة،  کتاب الصوم،  الباب السابع فی الاعتکاف، ۱ /۲۱۲ ملتقطاً

2     شُعَبُ الایمان، باب فی الاعتکاف، ۳ /۴۲۶، حدیث: ۳۹۷۰

3     رَدُّالمُحْتار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف، ۳ /۴۳۰

1     دُرِّمختار ، کتابُ الصوم ، باب الاعتکاف، ۳ /۴۳۰



Total Pages: 43

Go To