Book Name:Subh e Baharan

جشنِ ولادت منانے کی نیّتیں

          بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیثِ مبارک ہے:  اِنَّما الْاَعمالُ بِالنِّیَّات یعنی اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔   (صَحیح بُخاری ج۱ ص۵) یاد رکھئے! ہر نیک عمل میں ثوابِ آخِرت کی نیّت ہونا ضَروری ہے ورنہ ثواب نہیں ملیگا۔  جشنِ ولادت منانے میں بھی ثواب کمانے کی نیّت ضَروری ہے۔ ثواب کی نیّت کیلئے عمل کا شریعت کے مطابِق اور زیورِ اِخلاص سے مُزَیَّن ہونا شَرط ہے۔  اگر کسی نے دِکھاوے اور واہ واہ کروانے کی خاطر جشنِ ولادت منایا،  اِس کیلئے بجلی کی چوری کی، بِالجبر چندہ وُصول کیا، بِلا اِجاز تِ شَرعی مسلمانوں کو ایذاء دی اور حُقوقِ عامّہ تَلَف کئے،  مریضوں ، سونے والوں اور شِیر خوار  (یعنی دودھ پیتے ) بچّوں کو تکلیف ہو نے کا علم ہونے کے باوجود اونچی آواز سے لاؤڈ اسپیکر چلایا تو اب ثواب کی نیّت بے کار ہے بلکہ گنہگار ہے۔  جس قَدَر اچّھی اچّھی نیّتیں زِیادہ ہو ں گی اُسی قَدَر ثواب بھی زِیادہ ملیگا۔  چُنانچِہ 18نیّتیں پیش کی جاتی ہیں مگر یہ نا مکمّل ہیں ، علمِ نیّت رکھنے والا ثواب بڑھانے کی غَرَض سے مزید نیّتوں کا اِضافہ کر سکتا ہے۔  حسبِ حال یہ نیّتیں کر لیجئے:

 ’’جشنِ میلاد ُالنَّبی مرحبا‘‘     کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے جشنِ ولادت منانے کی18نیّتیں

         {۱} حکمِ قراٰنی وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ (۱۱)   (ترجَمۂ کنز الایمان:  اور اپنےربّ کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔  (پ۳۰،  الضُّحٰی: ۱۱) )  پر عمل کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی سب سے بڑی نِعمت کا چرچا کروں گا  {۲}  رِضائے الہٰیعَزَّ وَجَلَّپانے کیلئے جشنِ ولادت کی خوشی میں چَراغاں کروں گا  {۳}  جبرئیلِ امینعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے شبِ ولادت جوتین جھنڈے گاڑے تھے اِس کی پیروی میں جھنڈے لہراؤں گا  {۴} سبز گُنبدکی نسبت سے سبز پرچم لگاؤں گا  {۵} دھوم دھام سے جشنِ ولادت منا کر کُفّار پر عَظَمتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا سکّہ بٹھاؤں گا  (گھرگھر چَراغاں اور سبز جھنڈے دیکھ کر کُفّار یقیناً حیران ہوتے ہوں گے کہ مسلمانوں کو اپنے نبی کی ولادت سے والِہانہ پیار ہے)   {۶}  جشنِ ولادت کی دھوم مچا کر شیطان کو پریشان کروں گا  {۷}  ظاہِری سجاوٹ کے ساتھ ساتھ توبہ و اِستِغفار کے ذَرِیعے اپنا باطِن بھی سجاؤں گا  {۸}  بارھویں رات کو اِجتماعِ میلاداور  {۹} عیدِ میلادُ النّبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دن نکلنے والے جُلوسِ میلاد میں شرکت کر کے ذکرِ خدا و مصطَفٰےعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سعادتیں اور  {۱۰} عُلَماء و  {۱۱}  صُلَحا کی زیارتیں اور {۱۲}  عاشِقانِ رسول کے قُرب کی بَرکتیں حاصِل کروں گا  {۱۳} جُلوسِ میلاد میں باعمامہ اور حتَّی الامکان  {۱۴}  باوُضو رہوں گا اور  {۱۵}  جُلوس کے دَوران بھی مسجِد کی نَمازِ با جماعت تَرک نہیں کروں گا  {۱۶} حسبِ توفیق ’’لنگرِ رسائل ‘‘ کی ترکیب بناؤں گا  ( یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل و پمفلٹ نیز سنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں اجتِماع مِیلاد اور جُلوسِ میلاد میں تقسیم کروں گا)   {۱۷}  اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے کم از کم 12 اسلامی بھائیوں کو مَدَنی قافِلے میںسفر کی دعوت دوں گا  {۱۸}  جُلوسِ میلاد میں حتَّی الوَسع سارا راستہ زَبان و آنکھ کا قفلِ مدینہ لگائے ،  نعتوں کی سماعت اور دُرُود وسلام کی کثرت کروں گا۔

          یاربِّ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہمیں خوش دلی اور اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ جشنِ ولادت منانے کی توفیق مرحمت فرما اور جشنِ ولادت کے صدقے ہمیں جنّتُ الفردوس میں بے حساب داخِلہ عنایت کر۔

بَخش دے ہم کو الہٰی! بہرِ مِیلادُالنّبی

نامۂ اعمال عِصیاں سے مِرا بھر پُور ہے

 (وسائلِ بخشش ص۴۷۷)

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 16

Go To