Book Name:Aaqa ka jadwal

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جدول

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:مجھ پر کَثْرَت سے دُرُودِ پاک پڑھو، بے شک تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مَغْفِرَت ہے۔[1]

حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عَبْدُالْحَق مُحَدِّثِ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی فرماتے ہیں: اُس مومن پر نہایت تَعَجُّب ہے کہ وہ دن اور رات کی ساعات یعنی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی بھی اُس عِبَادَت  (یعنی دُرُودِ پاک) پر صَرف نہ کرے جو مَنْبَعِ اَنْوَار و برکات اور تمام بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھولنے والی ہے۔[2]

عَبَث گناہوں کی شامَت میں مارے پھرتے ہو                                  خدا کی تم پہ ہو رَحْمَت اگر دُرُود پڑھو

ہزار دَرْد کو یہ ایک دوا كِفَایَت ہے                     جو پیش آئے ذرا بھی خَطَر دُرُود پڑھو

خدا وہ دن کرے بیدلؔ  کہ تم کھڑے ہو کر

حُضور رَوضۂ خَـیْـرُ الْـبَـشَـر دُرُود پڑھو[3]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                    صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آقاکا جدول

کاشانۂ اقدس کا جدول

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ طیبہ کے حالات و واقعات پر مُشْتَمِل حضرت سَیِّدُنا اِمام حُسَین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والِد ماجِد حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے پوچھا کہ آقائے دو۲ جہاں، مکینِ لامکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جو وَقْت اپنے دولت خانہ میں گزرتا تھا آپ اس میں کیا کیا کر تے تھے؟  انہوں نے بتایا کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں داخِل ہوتے تو اس میں قِیام کے وَقْت کے تین۳ حصّے کر لیتے تھے:٭…ایک حِصّہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   (کی عِبَادَت)  کے لئے٭دوسرا اپنے اَہْل  (یعنی گھر والوں)  کے لئے اور ٭…تیسرا اپنی ذاتِ اَقْدَس کے لئے۔

پھر اپنے ذاتی حِصّہ کو اپنے اور عام لوگوں کے درمیان تقسیم کر لیتے:

٭…قریبی  صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو دولت خانہ میں حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتے،آپ ان کے وسیلے سے عوام کو جو دولت خانہ میں حاضِر نہ ہوا کرتے تبلیغِ اَحْکام فرماتے اور نصیحت و ہِدَایَت کی کوئی بات عام وخاص سے پوشیدہ  نہ رکھتے۔

٭…حِصّۂ اُمَّت  میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ یوں تھا کہ اَہل فَضْل[4] کو ترجیح دیتے تاکہ حاضِرِ خِدْمَت ہو کر دوسرے لوگوں کو زیادہ  نَفْع پہنچا سکیں اور اس حِصّۂ اُمَّت  کو دینی ضَرورتوں کے مُطابِق تقسیم فرماتے۔

٭…اَہْلِ فَضْل میں سے کسی کو ایک دینی مسئلہ دَرْیَافْت کرنا ہوتا،کسی کو دو۲ اور بعض کو بَہُت سے مَسَائِل کی ضَرورت ہوتی،تو حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان اَصْحَابِ حاجات کی طرف تَوَجُّہ فرماتے اور ان کو وُہی اُمُور دَرْیَافْت کرنے دیتے جن میں اُمَّت  کی بہتری ہوتی،پھر ان کے مُناسِبِ حال اَحْکام بیان فرماتے۔

٭…اسکے بعد آپ حاضِرِینِ مَـجْلِس سے اِرشَاد فرماتے کہ تمہیں چاہئے کہ بقیہ اُمَّت کو جو حاضِر نہیں یہ اَحْکام پہنچا دو اور جو لوگ  (مثلاً عورتیں،بیمار، غائب وغیرہ)  اپنی حاجتیں مجھ تک پہنچا نہیں سکتے، تم ان کی حاجتوں کو مجھ پر پیش کرو کیونکہ جو شخص ایسےآدمی کی حاجَت بادشاہ تک پہنچاتا ہے جسے وہ خود نہیں پہنچا سکتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قِیامَت کے دن اس کے قَدَم  (پُل صِراط پر) ثابِت رکھے گا۔

٭…اسی طرح کے ضَروری اُمُور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں پیش ہوا کرتے کہ جن میں کچھ فائدہ ہوتا اور ایسے اُمُور کی سَماعَت نہ ہوتی جن میں کچھ فائدہ نہ ہوتا۔

 



[1]      تاریخ مدینه دمشق، ۷۸۱۲-ناشب بن عمرو ...الخ، ۶۰/۳۸۱، حدیث: ۱۲۶۶۱

[2]      جذبُ القلوب، ص۲۳۲

[3]      نورِ ایمان، ص۵۷

[4]     یہاں اَہْلِ فَضْل سے  تین۳ قسم کے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  مُراد ہو سکتے ہیں:  (1) خاندانی شرافت کے اِعْتِبَار سے اَرْفَع و اَعلیٰ (۲) اسلام لانے میں سَبْقَت لے جانے والے یا (3) زیادہ متقی و پرہیزگار۔ (المواھب اللَّدُنِیَّه عَلَی الشَّمَائِلِ الْمُحَمَّدِیَّه، باب ما جاء فی تَواضُعِ رَسولِ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ص ۵۳۱)



Total Pages: 20

Go To