Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

برائیاں  بیان کیں ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے اسی چیز کاخدشہ تھا۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب قولہ: من کان عدوّا لجبریل ،  ۳ / ۱۶۶ ،  الحدیث: ۴۴۸۰)

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِؕ-وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافروں  نے مسلمانوں  کو کہا اگر اس میں  کچھ بھلائی ہوتی تو یہ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے اور جب انہیں  اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں  گے کہ یہ پرانا بہتان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافروں  نے مسلمانوں  کے متعلق کہا:اگر اس ( اسلام)میں  کچھ بھلائی ہو تو یہ مسلمان اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے اور جب ان کہنے والوں  کو اس قرآن سے ہدایت نہ ملی تو اب کہیں  گے کہ یہ ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔

{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور کافروں  نے کہا۔} نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے والوں  میں  غریب لوگ سرِ فہرست تھے جیسے حضرت عمار،حضرت صُہیب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ وغیرہ، کفارِ مکہ نے ان کے بارے میں  کہا کہ اگر اُس قرآن اور دین میں  کچھ بھلائی ہوتی جو محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) لے کر آئے ہیں  تو یہ غریب مسلمان ہم سے پہلے اسلام قبول نہ کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب یہ بات کہنے والوں  کو اِس قرآن سے اُس طرح ہدایت نہ ملی جس طرح ایمان والوں  کو ملی ہے تو یہ صرف اسی بات پر اِکتفا نہیں  کریں  گے بلکہ عناد کی وجہ سے قرآنِ مجید کے بارے میں  اب کہیں  گے کہ یہ قرآن ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔(مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۱۱۲۵ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۸ / ۴۷۰ ،  ملتقطاً)

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے پیشوا اور مہربانی اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں  کہ ظالموں  کو ڈر سنائے اور نیکوں  کو بشارت۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ(قرآن) عربی زبان میں  ہوتے ہوئے تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے تاکہ ظالموں  کو ڈرائے اور نیکوں  کیلئے بشارت ہو۔

{وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔} اس سے پہلی آیت میں  کفار کا ایک اعتراض ذکر ہوا کہ اگر اس قرآن میں  کوئی بھلائی ہوتی تو ہم غریب لوگوں  سے پہلے ایمان لے آتے ،یہاں  اس اعتراض کا رد کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے حالانکہ قرآنِ مجید سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تورات کا نازل ہونا اور اس کتاب کا اللہ تعالیٰ کے دین کی پیروی کرنے والوں  کا پیشوا ہونا اوراس پر ایمان لانے والوں  اور اس کے تقاضوں  کے مطابق عمل کرنے والوں  کےلئے رحمت ہونا انہیں  خود تسلیم ہے اور یہ قرآن جس کے بارے میں کفارِمکہ ایسی بیہودہ گفتگو کرتے ہیں  ،اس کی شان تو یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب اور تمام آسمانی کتابوں  کی تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے جو اس لئے نازل ہوئی ہے تاکہ ظالموں  کو ڈرائے اور نیکوں  کیلئے بشارت کا ذریعہ ہو۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۸ / ۴۷۱)

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں  نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔  وہ جنت والے ہیں  ہمیشہ اس میں  رہیں  گے ان کے اعمال کا انعام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں  نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں  گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں  رہیں  گے ، انہیں  ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا: بیشک جنہوں  نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے۔} اس سے پہلی آیات میں  توحید اور نبوت کے دلائل بیان ہوئے ،منکروں  کے شُبہات ذکر کر کے ان کاجواب دیا گیا اور اب یہاں  سے توحید و رسالت پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدم رہنے والوں  کی جزابیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں  نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں  نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں  گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں  اور یہ ہمیشہ جنت میں  رہیں  گےاور انہیں  ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر  ،  الاحقاف  ،  تحت الآیۃ : ۱۳-۱۴  ،  ۱۰ / ۱۳-۱۴  ،  مدارک  ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ص۱۱۲۶ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ۸ / ۴۷۲ ،  ملتقطاً)

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةًۙ-قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ﱂاِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے آدمی کو حکم کیاکہ اپنے ماں  باپ سے بھلائی کرے ا س کی ماں  نے اُسے پیٹ میں  رکھا تکلیف سے اور جنی اس کو تکلیف سے اور اُسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں  ہے یہاں  تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا اور چالیس برس کا ہوا عرض کی اے میرے رب میرے دل میں  ڈال کہ میں  تیری نعمت کا شکر کروں  جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں  باپ پر کی اور میں  وہ کام کروں  جو تجھے پسند آئے اور میرے لیے میری اولاد میں  صلاح رکھ میں  تیری طرف رجوع لایا اور میں  مسلمان ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں  باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں  نے اسے پیٹ میں  مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کوجنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے یہاں  تک کہ جب وہ اپنی کامل قوت کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیاتو اس نے عرض کی: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں  تیری نعمت کا



Total Pages: 250

Go To