Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۚ-فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں  کا ٹھٹا بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں  فریب دیا تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں  اور نہ اُن سے کوئی منانا چاہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں  کا ٹھٹھا مذاق بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں  فریب دیا تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں  اور نہ ان سے اللہ کو راضی کرنے کا مطالبہ ہوگا۔

{ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا: یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں  کا ٹھٹھا مذاق بنایا۔} یعنی تمہیں  یہ سزااس لیے دی گئی ہے کہ تم نے دنیا میں  اللہ تعالیٰ کی آیتوں  کا ٹَھٹّھا مذاق بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں  فریب دیا کہ تم اس کے عاشق ہوگئے اور تم نے مرنے کے بعد اٹھنے اور حساب ہونے کا انکار کردیاتو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں  گے اور نہ ہی اب ان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ توبہ کرکے اور ایمان و طاعت اختیار کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں  کیونکہ اس دن کوئی عذر اور توبہ قبول نہیں ۔(خازن ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۴ / ۱۲۱ ،  مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۱۱۲۲ ،  ملتقطاً)

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۳۶)وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں  ہیں  آسمانوں  کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں  کا رب۔ اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں  اور زمین میں  اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ ہی کے لئے سب خوبیاں  ہیں  جو آسمانوں  کا رب اور زمین کا رب ، سارے جہان کارب ہے۔ اور آسمانوں  اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہی عزت و الا،حکمت والا ہے۔

{فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ: تو اللہ ہی کے لئے سب خوبیاں  ہیں ۔} اس کا معنی یہ ہے کہ تم اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرو جو تمہارا رب ہے،آسمانوں  اور زمینوں  میں  موجود تمام چیزوں  کا اور سارے جہاں  کا رب ہے کیونکہ جس کی ربوبیت ایسی عام ہو تو اس کی حمد و ثنا کرنا ہر اس چیز پر لازم ہے جس کا وہ رب ہے۔( مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۱۱۲۲)

{وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ: اسی کے لئے بڑائی ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کیونکہ آسمانوں  اور زمین میں  ا س کی عظمت، قدرت،سلطنت اور بڑائی کے آثار ظاہر ہیں  اور وہی عزت والا،حکمت والا ہے۔( مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۱۱۲۲ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۸ / ۴۵۹ ،  ملتقطاً)



Total Pages: 250

Go To