Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: ایمان وا لوں  سے فرماؤ درگزریں  اُن سے جو اللہ کے دنوں  کی امید نہیں  رکھتے تاکہ اللہ  ایکقوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم ایمان وا لوں  سے فرماؤکہ ان لوگوں سے درگزرکریں  جو اللہ کے دنوں  کی امید نہیں  رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو ان کی کمائی کا بدلہ دے۔

{قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: تم ایمان وا لوں  سے فرماؤ۔} اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت ،قدرت اور حکمت کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اس آیت سے مسلمانوں  کی اخلاقی تربیت فرمائی ہے۔اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کے دنوں  سے مراد وہ دن ہیں  جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کی مدد کے لئے مقرر فرمائے ہیں  یا ان دنوں  سے وہ واقعات مراد ہیں  جن میں  وہ اپنے دشمنوں  کی پکڑ فرماتا ہے اوران دنوں  کی امید نہ رکھنے والوں  سے مراد کفار ہیں  ۔

            آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ کفار سے جو ایذا پہنچے اور ان کے کلمات جو تکلیف پہنچائیں  مسلمان ان سے در گزر کریں  اور ان سے جھگڑا نہ کریں  تاکہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو ان کے احسانات کا بدلہ دے جنہوں  نے دشمنوں  کی طرف سے ملنے والی اذیتوں  پر صبر کیا۔

            اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  کئی قول ہیں ،ان میں  سے 3درج ذیل ہیں ۔

(1)… غزوۂ بنی مُصْطَلَقْ میں  مسلمان بِیر مُرَیْسِیعْ پر اُترے، یہ ایک کنواں  تھا، عبداللہ بن اُبَیْ منافق نے اپنے غلام کو پانی کے لئے بھیجا اوروہ دیر سے واپس آیا تو اس نے غلام سے سبب دریافت کیا ۔ اس نے کہا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کنوئیں  کے کنارے پر بیٹھے تھے ،جب تک نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اور حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی مَشکیں  نہ بھر گئیں  اس وقت تک انہوں نے کسی کو پانی بھرنے نہ دیا۔ یہ سن کر اس بدبخت نے ان حضرات کی شان میں  گستاخانہ کلمے کہے۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تلوار لے کر تیار ہوئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔اس شانِ نزول کے مطابق یہ آیت مدنی ہوگی۔

 (2)…مقاتل کا قول ہے کہ قبیلہ ٔبنی غِفار کے ایک شخص نے مکہ مکرمہ میں  حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو گالی دی تو آپ نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا ،اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(3)…جب آیت ’’مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا‘‘ نازل ہوئی تو فِنْحَاص یہودی نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا رب محتاج ہوگیا۔ (مَعَاذَاللہ تَعَالٰی  ) اس کی یہ بات سن کر حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے تلوار کھینچی اور اس کی تلاش میں  نکلے ، لیکن حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آدمی بھیج کر انہیں  واپس بلوالیا۔(تفسیرکبیر ، الجاثیۃ ، تحت الآیۃ: ۱۴ ،   ۹ / ۶۷۳-۶۷۴ ،  مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۱۱۱۸ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۴۱۳ ،  ملتقطاً)

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا٘-ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور بُرا کرے تو اپنے بُرے کو پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے (ہی کرتا ہے)اور جوبرائی کرے تو وہ اسی پر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔

{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ: جو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے۔} یعنی جو شخص ایسے نیک کام کرے جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہو تو وہ اپنی ذات کیلئے ہی کرتا ہے کہ ان نیک اعمال کا فائدہ اور ثواب اسے ہی ملے گااور جوبرے کام کرے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے کہ وہی اپنے برے کاموں  کا نقصان اورعذاب برداشت کرے گا ،پھر تم مرنے کے بعد اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے جو تمہارے تمام اُمور کا مالک ہے، وہ نیکوں  اور بدوں  کو اُن کے اعمال کی جزا دے گالہٰذا تم اس ملاقات کی تیاری کرو۔( روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۸ / ۴۴۲)

ہر شخص اپنے اعمال اور انجام پرغور کرے:

            اس آیت میں  نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور برے اعمال کرنے سے ڈرایا بھی گیا ہے لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور ان کے انجام پر غور کرے ،اگر کوئی نفس و شیطان کے بہکاوے میں  آ کر برے اعمال میں  مصروف ہو تو اسے چاہئے کہ برے اعمال سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال شروع کر دے تاکہ ان کی سزا سے بچ سکے اور جو برے اعمال سے بچتے ہوئے نیک اعمال میں  مشغول ہو تو اسے چاہئے کہ مزید نیک اعمال کرے تاکہ آخرت کا توشہ زیادہ سے زیادہ جمع ہو جائے۔نیکی کا فائدہ اور گناہ کا نقصان نیکی اور گناہ کرنے والے کو ہونے کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ- وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا‘‘(بنی اسرائیل:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر تم بھلائی کرو گے تو تم اپنے لئے ہی بہتر کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تو تمہاری جانوں  کیلئے ہی ہوگا۔

            اور ارشاد فرماتاہے:

’’ مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ‘‘(روم:۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں  وہ اپنے ہی کے لئے تیاری کر رہے ہیں ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی اور ہم نے اُنھیں  ستھری روزیاں  دیں  اور اُنھیں  اُن کے زمانہ والوں  پر فضیلت بخشی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی اور ہم نے انہیں  ستھری روزیاں  دیں  اور انہیں  ان کے زمانے والوں  پر فضیلت بخشی۔

{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب عطا فرمائی۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کے کفر پر غمزدہ نہ ہوں  اور(اپنی تسلی کے لئے بنی اسرائیل کے حالات میں  غور فرمائیں  کہ)ہم نے بنی اسرائیل کو تورات عطا



Total Pages: 250

Go To