Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

میں  عقل مندوں  کے لئے نشانیاں  ہیں ۔

{وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  کہ ان میں  سے ایک جاتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے، کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور دن بڑا اور کبھی دن چھوٹا ہوتا ہے تو رات بڑی، کبھی یہ گرم ہوتے ہیں  اور کبھی سرد،رات اندھیری ہوتی ہے اور دن روشن،اسی طرح آسمان کی جانب سے اللہ تعالیٰ جو بندوں  کی روزی کاسبب یعنی بارش کا پانی نازل فرماتا ہے اور ا س سے خشک اور بنجر زمین کو سیراب کر کے اسے سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے ،یونہی ہواؤں  کی جو گردش ہے کہ کبھی جنوب کی طرف چلتی ہیں  اور کبھی شمال کی طرف، کبھی مشرق اور کبھی مغرب کی طرف چلتی ہیں ، کبھی گرم چلتی ہیں کبھی سرد ،کبھی نفع پہنچاتی ہیں  تو کبھی نقصان،ان سب چیزوں  اور ان کےاحوال میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  کیونکہ یہ سب کسی قادر، مختار، واحد، حکمت والی اور مہربان ہستی کے وجود اور تصرف کے بغیر ممکن نہیں  اور یہ نشانیاں ان لوگوں  کے لئے ہیں  جو عقل مند ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۹ / ۶۷۰ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۸ / ۴۳۶ ،  ملتقطاً)

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعا لیٰ کی قدرت کے دلائل جاننے کی نیت سے سائنس اورریاضی کا علم حاصل کرنا عبادت ہے۔

قدرت کی نشانیوں  سے فائدہ اٹھانے والے لوگ:

            یہاں کائنات میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پردلالت کرنے والی مختلف نشانیاں  بیان فرمانے کے بعد ایک جگہ فرمایا’’ایمان والوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ‘‘ دوسری جگہ ارشاد فرمایا’’یقین کرنے والوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ‘‘ اور تیسری جگہ ارشاد فرمایا’’عقل مندوں  کے لئے نشانیاں  ہیں  ‘‘ اس کے بارے میں  امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میرے گما ن کے مطابق اس ترتیب کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو ان دلائل کو سمجھ جاؤ گے اور اگر تم فی الحال مومن نہیں  بلکہ حق اور یقین کے طلبگار ہو تو ان دلائل کو سمجھو اور اگر تم نہ ایمان والے ہو اور نہ یقین کرنے والے ، لیکن کم از کم عقلِ سلیم رکھنے والوں  میں  سے ہو تو ان دلائل کی معرفت حاصل کرنے کی خوب کوشش کرو۔( تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۹ / ۶۷۱)

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّۚ-فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اللہ کی آیتیں  ہیں  کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں  پھر اللہ اور اس کی آیتوں  کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ کی آیتیں  ہیں  جو ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں  پھر لوگ اللہ اور اس کی آیتوں  کو چھوڑ کر کون سی بات پر ایمان لائیں  گے؟

{تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ: یہ اللہ کی آیتیں  ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے لوگوں  کے سامنے اپنی قدرت کے یہ دلائل بیان فرمائے ہیں  اور یہ دلائل جھوٹ اور باطل پر مشتمل نہیں  بلکہ ہم آپ کو حق کے ساتھ ان کی خبر دیتے ہیں  تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کے بیان کئے ہو ئے دلائل کو جھٹلاکر مشرکین کونسی بات پر ایمان لائیں  گے ۔

            یاد رہے کہ یہ آیت ِمبارکہ حدیثِ پاک کا انکار کرنے والوں  کی دلیل ہر گز نہیں  بن سکتی کیونکہ یہاں  ’’حدیث‘‘ سے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان مراد نہیں  بلکہ کفار کی اپنی باتیں  مراد ہیں ،اگر یہاں  ’’حدیث‘‘ سے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان مراد لیا جائے تو یہ آیت اُن تمام آیات کے خلاف ہو گی جن میں  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیاگیا ہے ، نیز یہ ویسے بھی جہالت ہوگی کہ حدیث کا لفظ یہاں  اپنے لغوی معنٰی کے اعتبار سے بیان ہوا تو اسے فنِّ حدیث کی اصطلاح پر کیسے مُنْطَبِقْ کیا جاسکتاہے۔

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ(۷) یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے۔ اللہ کی آیتوں  کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں  پھر ہَٹ پر جمتا ہے غرور کرتا گویا انھیں  سُناہی نہیں  تو اُسے خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر بڑے بہتان باندھنے والے، گناہگار کے لئے خرابی ہے۔ (جو)اللہ کی آیتوں  کو سنتا ہے کہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں  پھرتکبر کرتے ہوئے ضد پر ڈٹ جاتا ہے گویااس نے ان آیتوں  کو سنا ہی نہیں  تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔

{وَیْلٌ: خرابی ہے۔} اس سے پہلی آیت میں  بیان فرمایاگیا کہ کافر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں  کو چھوڑ کر کو ن سی بات پر ایمان لائیں  گے ، اور جب وہ ایمان نہ لائے تو اس آیت سے ان کے لئے بہت بڑی وعید بیان کی جا رہی ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر بڑے بہتان باندھنے والے، گناہگار کے لئے خرابی ہے اور یہ وہ شخص ہے جس کے سامنے قرآن کی آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  تو وہ انہیں  سن کر ایمان لانے سے تکبر کرتے ہوئے اپنے کفر پراصرار کرتا ہے اور وہ ایسا بن جاتا ہے گویااس نے ان آیتوں  کو سنا ہی نہیں  ،تو اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ایسے شخص کو قیامت کے دن جہنم کے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔

            مفسّرین نے اس آیتِ مبارکہ کا شان نزول یہ بھی بیان کیاہے کہ نَضْر بن حارِث عجمی لوگوں  (جیسے رستم اور اسفندیار) کے قصے کہانیاں  سنا کر لوگوں  کو قرآنِ پاک سننے سے روکتا تھا ،اس کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی ۔

            یاد رہے کہ اس آیت کا نزول اگرچہ نَضْر بن حارِث کے لئے ہے لیکن اس وعید میں  ہر وہ شخص داخل ہے جو دین کو نقصان پہنچائے اور ایمان لانے اور قرآن سننے سے تکبر کرے۔( تفسیرطبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ۱۱ / ۲۵۴ ،  مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ص۱۱۱۷ ،  ملتقطاً)

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْــٴَـاﰳ اتَّخَذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ(۹) مِنْ وَّرَآىٕهِمْ جَهَنَّمُۚ-وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْــٴًـا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ(۱۰) هٰذَا هُدًىۚ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠(۱۱)

 



Total Pages: 250

Go To