Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ان سے پہلے والے لوگ جیسے عاد اور ثمود وغیرہ جو کہ کافر امتوں  میں  سے تھے؟ ان لوگوں  کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے انہیں  ان کے کفر کے باعث ہلاک کردیا، بیشک وہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر لوگ تھے جس کی وجہ سے عذاب کے حقدار ٹھہرے۔جب یہ کفارِ مکہ سے زیادہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کفر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو کفارِ مکہ جو کہ کفر میں  ان کے شریک ہیں  ،انہیں  ہلاک کرنا کونسا دشوار کام ہے، حالانکہ یہ تو ان کے مقابلے میں  انتہائی کمزور ہیں ۔

            یاد رہے کہ اس آیت میں  جس تُبَّع کا ذکر ہے یہ تُبَّع حمِیْری تھے،یہ خود مومن اور یمن کے بادشاہ تھے لیکن ان کی قوم کافر تھی جو کہ انتہائی طاقت و قوت اور شان و شوکت کی مالک تھی اور ان کی تعداد بھی بہت کثیر تھی۔( روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۸ / ۴۱۸ ،  خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۴ / ۱۱۵ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۱۱۱۳ ،  ملتقطاً)

             حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد  فرمایا’’ تُبَّع کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے۔‘‘ (معجم الکبیر ، سہل بن سعد الساعدی ،  ابو زرعۃ عمرو بن جابر الحضرمی عن سہل بن سعد ، ۶ / ۲۰۳ ، الحدیث:۶۰۳۱)

            اسی تُبَّع نے مدینہ منورہ بسایا، اس تُبَّع نے حضورپرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو غائبانہ خط لکھ کر لوگوں  کو سپرد کیا تھا، کہ جب حضورِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جلوہ گر ہوں  تو میرا یہ خط پیش کر دیا جائے، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے مکان میں  جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہو ئے تو حضرت ابویعلیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے وہ خط پیش کیا۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو کھیل کے طور پرنہیں  بنایا۔

{وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ: اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو کھیل کے طور پرنہیں  بنایا۔}  ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو ایسے ہی کھیل کے طور پر بے مقصدنہیں  بنایا کیونکہ اگر مرنے کے بعد اٹھنا اور حساب و ثواب نہ ہو تو مخلوق کی پیدائش محض فنا کے لئے ہوگی اور یہ عبث و لعب ہے ،تو اس دلیل سے ثابت ہوا کہ اس دنیوی زندگی کے بعد اخروی زندگی ضرور ہے جس میں  اعمال کاحساب ہو گا اور ان کی جزا ملے گی۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۱۱۱۳ ،  بیضاوی ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۵ / ۱۶۳ ،  ملتقطاً)

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے اُنہیں  نہ بنایا مگر حق کے ساتھ لیکن ان میں  اکثر جانتے نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے انہیں  حق کے ساتھ ہی بنایالیکن ان میں  سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔

{مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ: ہم نے انہیں  حق کے ساتھ ہی بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھان کے درمیان ہے سب کوحق کے ساتھ ہی بنایا تاکہ لوگوں  کو فرمانبرداری کرنے پر ثواب دیں  اور نافرمانی کرنے پر عذاب  کریں  لیکن کفارِ مکہ میں  سے اکثر لوگ غفلت اور غورو فکر نہ کرنے کے باعث جانتے نہیں  کہ آسمان و زمین پید اکرنے کی حکمت یہ ہے اور حکیم کا کوئی فعل بیکار نہیں  ہوتا۔( خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۴ / ۱۱۶ ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۸ / ۴۲۳ ،  ملتقطاً)

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۴۰) یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْــٴًـا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ(۴۱) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی۔ مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک فیصلے کا دن ان سب کا مقرر کیا ہوا وقت ہے۔جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گااور نہ ان کی مددکی جائے گی ۔مگر جس پر اللہ مہربانی فرمائے ،بیشک وہی عزت والا، مہربان ہے۔

{اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ: بیشک فیصلے کا دن۔}  یعنی قیامت کا دن جس میں  اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی  اپنے بندوں میں  فیصلہ فرمائے گا، وہ ان سب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضری کیلئے مقرر کیا ہوا وقت ہے اور ا س دن اللہ تعالیٰ اگلوں  پچھلوں  سب کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔( خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۴ / ۱۱۶ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۱۱۱۳ ،  ملتقطاً)

{یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْــٴًـا: جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا۔ } اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا دن ایسا ہے کہ اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور رشتے داری اور محبت نفع نہ دے گی اور نہ ان کافروں  کی مددکی جائے گی البتہ مومنین اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک دوسرے کی شفاعت کریں  گے ۔بے شک وہی اللہ عَزَّوَجَلَّ عزت والا اور اپنے دشمنوں  سے انتقام لینے میں  غلبے والا ہےاور اپنے دوستوں  یعنی ایمان والوں  پر مہربان ہے ۔( خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲ ،  ۴ / ۱۱۶ ،  جمل ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲ ،  ۷ / ۱۳۰ ،  ملتقطاً)

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ(۴۳) طَعَامُ الْاَثِیْمِ ﳝ (۴۴)كَالْمُهْلِۚۛ-یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ(۴۵)كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک تھوہڑ کا پیڑ۔گنہگاروں  کی خوراک ہے۔گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں  میں  جوش مارے۔  جیسا کھولتا پانی جوش مارے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک زقوم کادرخت۔ گناہگار کی خوراک ہے۔گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں  میں  جوش مارتا ہوگا۔ جیسا کھولتا ہواپانی جوش مارتا ہے۔

{اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ: بیشک زقوم کادرخت۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جہنم کا کانٹے دار اور انتہائی کڑوازقوم نام کادرخت بڑے گناہگار



Total Pages: 250

Go To