Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کر دے، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روانہ ہوئے اور دریا پر پہنچ کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا مارا تو دریا میں  بارہ خشک راستے پیدا ہوگئے اور آپ بنی اسرائیل کے ساتھ دریا میں  سے گزر گئے۔( روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۸ / ۴۱۱)

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًاؕ-اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ(۲۴)كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۲۵) وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۲۶) وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے کھلاچھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو یا جائے گا۔کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے۔ او رکھیت اور عمدہ مکانات ۔اور نعمتیں  جن میں  فارغُ الْبال تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا ۔وہ کتنے باغ اور چشمے چھوڑ گئے۔ او رکھیت اور عمدہ مکانات۔ اور نعمتیں  جن میں  وہ عیش کرنے والے تھے۔

{وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا: اور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر آرہا تھا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چاہا کہ پھرعصا مار کر دریا کو ملادیں  تاکہ فرعون اس میں  سے گزر نہ سکے تو آپ کو حکم ہوا: دریا کو جگہ جگہ سے گزرنے کیلئے کھلا ہواچھوڑ دو تاکہ فرعونی ان راستوں  سے دریا میں  داخل ہوجائیں ، بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔یہ حکم سن کرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اطمینان ہوگیا اور جب فرعون اور اس کے لشکر دریامیں  داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے دریا کے پانی کو ملا دیا جس سے وہ سب غرق ہوگئے اور وہ کتنے باغ ، چشمے، کھیت،آراستہ و پیراستہ عمدہ مکانات، اور وہ نعمتیں  جن میں  وہ عیش کرنے والے تھے، چھوڑ گئے الغرض ان کا تمام مال و متاع اور سامان یہیں  رہ گیا۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷ ،  ص۱۱۱۲ ،  جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷ ،  ص۴۱۱ ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷ ،  ۸ / ۴۱۱-۴۱۲ ،  ملتقطاً)

             معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعونیوں  کی موت کے وقت ، جگہ اور کیفیت سے مُطّلع فرما دیا تھا اور یہ سب چیزیں  ان پانچ علوم میں  سے ہیں  جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے،معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ اپنے مقبول بندوں  کو علومِ خمسہ سے بھی نوازتا ہے۔

كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے یونہی کیا اور ان چیزوں  کا دوسری قوم کو وارث بنادیا۔

{كَذٰلِكَ: ہم نے یونہی کیا۔} یعنی ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کے ساتھ اسی طرح کیا کہ ان کا تمام مال و متاع سلب کر لیا اور ان چیزوں  کا دوسری قوم یعنی بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا جو ان کے ہم مذہب تھے نہ رشتہ دار اور نہ دوست تھے۔( روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۸ / ۴۱۲ ،  ملخصاً)

آیت ’’ كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)… کفارکی بستیوں  اور ان کے مکانات میں  رہنا منع نہیں ، ہاں  جہاں  عذابِ الہٰی آیا ہو وہاں  رہنا منع ہے اور چونکہ فرعون کی قوم پر مصر میں  عذاب نہ آیا بلکہ انہیں  وہاں  سے نکال کر دریا میں  غرق کیا گیا لہٰذا مصر میں  رہنا درست ہوا ۔

(2)… فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد مصر میں  خود بنی اسرائیل آباد ہوئے تھے۔اس کی تائید قرآنِ پاک کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے،چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا:

’’ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ‘‘(اعراف:۱۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں  زمین میں  جانشین بنا دے گاپھروہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

             اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ بِمَا صَبَرُوْاؕ-وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ‘‘(اعراف:۱۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں  اور مغربوں  کا مالک بنادیا جس میں  ہم  نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیااور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں  جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ  عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں  مہلت نہ دی گئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں  مہلت نہ دی گئی۔

{فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے۔ } ارشاد فرمایا کہ فرعون اور ا س کی قوم پر آسمان اور زمین نہ روئے کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور انہیں  عذاب میں  گرفتار کرنے کے بعدتوبہ وغیرہ کے لئے مہلت نہ دی گئی۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۱۲ ،  خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۱۱۴ ،  ملتقطاً)

مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں :

 



Total Pages: 250

Go To