Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان:(اے حبیب! یاد کریں ) جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانہ جاہلیت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمادیا اور مسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔

            اور وہ کلمہ ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ‘‘ ہے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۳۴۹، الحدیث: ۱۲۷۲)

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  بلکہ وہ تو حق لائے ہیں  اور انہوں  نے رسولوں  کی تصدیق فرمائی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  بلکہ وہ تو حق لائے ہیں  اور انہوں  نے رسولوں  کی تصدیق فرمائی ہے۔

{بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ: بلکہ وہ تو حق لائے ہیں ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے کفار کی بات کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ نبی دیوانے اور شاعر نہیں ،بلکہ وہ تو حق لائے ہیں  اور انہوں  نے دین، توحید اورشرک کی نفی میں  اپنے سے پہلے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصدیق فرمائی ہے۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴ / ۱۷، روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۳۷، ۷ / ۴۵۷، ملتقطاً)

اِنَّكُمْ لَذَآىٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ(۳۸) وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ(۳۹) اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تمہیں  ضرور دکھ کی مار چکھنی ہے۔تو تمہیں  بدلہ نہ ملے گا مگر اپنے کئے کا۔ مگرجواللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تم ضرور دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔ تو تمہیں  تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔ مگر جو اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں ۔

{اِنَّكُمْ: بیشک تم۔} اس آیت اور اس کے بعدوالی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن کافروں  نے تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف شاعری اور جنون کی نسبت کی ،ان سے فرمایا گیا کہ بیشک تم ضرور آخرت میں  دردناک عذاب چکھنے والے ہو اور تم جو دنیا میں  شرک اور تکذیب کر آئے ہو تمہیں  اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔( تفسیر طبری، الصافات، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰ / ۴۸۳، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹،۴ / ۱۷، ملتقطاً)

{اِلَّا: مگر۔} اس آیت میں  مخلص بندوں  کا عذاب کے حکم سے اِستثناء کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ البتہ جو اللہ تعالیٰ کےچنے ہوئے یعنی ایمان اوراخلاص والے بندے ہیں  وہ درد ناک عذاب نہیں  چکھیں  گے اور ان کے حساب میں  سوال وکلام نہ ہو گا بلکہ اگر ان سے کوئی خطا سرزد ہوئی ہو گی تو ا س سے در گزر کر دیا جائے گا اور انہیں  ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا یا اس سے جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ چاہے دیا جائے گا۔( ابن کثیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷ / ۱۰)

اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ(۴۱) فَوَاكِهُۚ-وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ(۴۲) فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ(۴۳) عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں  ہے۔میوے اور ان کی عزت ہوگی۔ چین کے باغوں  میں۔  تختوں  پر ہوں  گے آمنے سامنے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے لیے وہ روزی ہے جو معلوم ہے۔ پھل میوے ہیں  اور وہ معزز ہوں  گے۔ چین کے باغوں  میں ۔ تختوں  پر آمنے سامنے ہوں  گے۔

{اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ: ان کے لیے روزی ہے۔} اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت قبول کرنے سے انکار کرنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے انکار پر قائم رہنے والوں  کا حال بیان کرنے کے بعد یہاں  سے ایمان والے مخلص بندوں  کے ثواب کی کیفِیَّت بیان کی جا رہی ہے،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی 3آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان والے مخلص بندوں  کے لئے جنت میں  وہ روزی ہے جو (قرآن کے ذریعے) معلوم (ہوچکی) ہے یا جو ہمارے علم میں  ہے اور وہ روزی پھل میوے ہیں  جو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے لئے جنت میں  پیدا فرمائے ہیں  اور وہ انتہائی نفیس، لذیذ،خوش ذائقہ، خوشبودار اور خوش منظر ہوں  گے اور یہ روزی انتہائی عزت و تعظیم کے ساتھ انہیں  پیش کی جائے گی اور وہ چین کے باغوں  میں  ایک دوسرے سے مانوس اور مَسرورتختوں  پر آمنے سامنے ہوں  گے۔( تفسیر کبیر، الصافات ، تحت الآیۃ: ۴۱- ۴۴، ۹ / ۳۳۲ ، تفسیر طبری ، الصافات ، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۴، ۱۰ / ۴۸۴، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۴، ص۱۰۰۱، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۴، ۴ / ۱۷، ملتقطاً)

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ(۴۵) بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ(۴۶) لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  ان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا۔ سفید رنگ پینے والوں  کے لیے لذت۔  نہ اس میں  خُمار ہے اور نہ اس سے ان کا سر پھرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  خالص شراب کے جام کے ان پر دَور ہوں  گے۔سفید رنگ کی شراب ہوگی، پینے والوں  کے لیے لذت بخش ہوگی۔ نہ اس میں  عقل کی خرابی ہوگی اور نہ وہ اس سے نشے میں  لائے جائیں  گے۔

{یُطَافُ عَلَیْهِمْ: ان پر دَور ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  ا یمان والے مخلص بندوں  کو جنت میں  ملنے والی شراب اور ا س کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں  ،چنانچہ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جنتی شراب کی پاکیزہ نہریں  ان کی نگاہوں کے سامنے جاری ہوں  گی اور وہ خالص شراب ہوگی جس کے جام کے ان پر دَور ہوں  گے، اس شراب کے اوصاف یہ ہیں  ۔(1)دودھ سے بھی زیادہ سفید رنگ کی شراب ہوگی۔(2)پینے والوں  کے لیے لذت بخش ہوگی، جبکہ دنیا کی شراب میں  یہ وصف نہیں  بلکہ وہ بدبودار اور بدذائقہ ہوتی ہے اور پینے والا اس کو پیتے وقت منہ بگاڑ تا رہتا ہے۔(3) جنتی شراب میں  خُمار نہیں  ہے جس سے عقل میں  خَلَل آئے۔(4) جنتی اس شراب سے نشے میں  نہیں آئیں  گے۔ جبکہ دنیا کی شراب میں  یہ اوصاف نہیں  بلکہ اس میں  بہت سے فسادات اور عیب ہیں  ،اس سے پیٹ میں  بھی درد ہوتا ہے اور سر میں  بھی، پیشاب میں  بھی تکلیف ہوجاتی ہے، طبیعت متلانے لگتی ہے، قے آتی ہے، سر چکراتا ہے اور عقل ٹھکانے نہیں  رہتی۔(خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ۴ / ۱۷-۱۸، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ص۳۷۵، ملتقطاً)

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ(۴۸) كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ(۴۹)

 



Total Pages: 250

Go To