Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہو جاتے ہیں  اُسی طرح بہت سے بدنصیب مسلمانوں  کا بھی ایمان سے پھر جاناثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اولادِ آدم مختلف طبقات پر پیدا کی گئی ان میں  سے بعض مومن پیدا ہوئے حالت ِایمان پر زندہ رہے اور مومن ہی مریں  گے، بعض کافر پیدا ہوئے حالت ِکفر پر زندہ رہے اور کافر ہی مریں  گے، جبکہ بعض مومن پیدا ہوئے مومنانہ زندگی گزاری اور حالت ِکفر پر رخصت ہوئے ،بعض کافر پیدا ہوئے ،کافر زندہ رہے اور مومن ہو کر مریں  گے۔( ترمذی ،  کتاب الفتن ،  باب ما اخبر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اصحابہ... الخ ،  ۴ / ۸۱ ،  الحدیث: ۲۱۹۸)

            اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ان فتنوں  سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں  جلدی کرو !جو تاریک رات کے حصوں  کی طرح ہوں  گے۔ ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہوگااور شام کو مومن ہوگااور صبح کافر ہوگا۔ نیز اپنے دین کو دنیاوی سازو سامان کے بد لے فروخت کر دے گا۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب الحثّ علی المبادرۃ بالاعمال... الخ ،  ص۷۳ ،  الحدیث: ۱۸۶(۱۱۸))

            اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’علمائے کرام فر ماتے ہیں : ’’جس کو سَلبِ ایمان کا خوف نہ ہومرتے وقت اس کا ایمان سَلب ہوجانے کا اندیشہ ہے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، حصہ چہارم، ص۴۹۵)

            اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں  اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

          نوٹ: ایمان کی حفاظت کے بارے میں  اور جن کلما ت سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے ان کی تفصیل جاننے کے لئے ’’کفریہ کلمات کے بارے میں  سوال جواب‘‘ کتاب کا مطالعہ کرنا بہت فائدہ مند ہے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَؕ-قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور وہ پکاریں  گے اے مالک تیرا رب ہمیں  تمام کرچکے وہ فرمائے گا تمہیں  تو ٹھہرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ پکاریں  گے: اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام کردے۔وہ داروغہ فرمائے گا: تمہیں  تو ٹھہرناہے۔

{وَ نَادَوْا: اور وہ پکاریں  گے۔} کفار جہنم کے داروغہ کو پکار کر کہیں  گے :اے مالک! اپنے رب سے دعا کریں  کہ وہ ہمیں  موت دے کرہمارا کام پورا کردے تاکہ ہمیں  اس عذاب سے راحت نصیب ہو۔(ایک قول کے مطابق) حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام ایک ہزار سال بعد جواب دیں  گے اور فرمائیں  گے تم عذاب میں ہمیشہ ٹھہرنے والے ہو اورتم موت سے اور نہ کسی اور طرح کبھی بھی اس سے رہائی نہ پاؤ گے ۔( روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ۸ / ۳۹۳)

             حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب سن کر کفار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کریں  گے:

’’قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ(۱۰۶) رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ(۱۰۷) قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ‘‘(مومنون:۱۰۶۔۱۰۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ کہیں  گے: اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ اے ہمارے رب! ہمیں  دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں  تو بیشک ہم ظالم ہوں  گے۔ اللہ فرمائے گا: دھتکارے ہوئے جہنم میں  پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔

             اس کے بعد وہ گدھے کی طرح چیختے چِلّاتے رہیں  گے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌ‘‘(ہود:۱۰۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو بدبخت ہوں  گے وہ تو دوزخ میں  ہوں  گے، وہ اس میں  گدھے کی طرح چلائیں  گے۔

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں  اکثر کو حق ناگوار ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں  اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے۔

{لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ: بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے۔} اس آیت میں  ایک احتمال یہ ہے کہ یہ جہنمی کفار کے ساتھ حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام کے کلام کا حصہ ہے۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے’’ تم ہمیشہ جہنم میں  اس لئے رہو گے کہ بیشک ہم تمہارے پاس انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے دین ِحق لائے تھے مگر تم سب اپنی نفسانی خواہشات کے مخالف ہونے کی وجہ سے دین ِحق کو ناپسند کرنے والے تھے۔ دوسرا اِحتمال یہ ہے کہ اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے مکہ میں  رہنے والے کفار سے خطاب فرمایا ہے۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے ’’اے کفارِ مکہ!بے شک ہم تمہارے پاس اپنے رسول کی معرفت سچا دین لائے مگر تم میں  سے تھوڑے اَفراد اس پر ایمان لائے جبکہ اکثر لوگ بغض اور نفرت کی وجہ سے اس سچے دین کو ناپسند کرنے والے ہیں ۔( جلالین مع صاوی ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۵ / ۱۹۰۴ ،  ملخصاً)

 دینی چیزوں  سے ناگواری کا اظہارکرنا کفار کا کام ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ دینی چیزوں  سے کراہت اور ناگواری کا اظہارکرنا کفار کا کام ہے۔اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو مسلمان کہلانے کے باوجود اسلام کے شَعائر کو ناپسند کرتے ہیں  اوراسلام کے احکامات پر عمل کرنے والے کو بُری نظر سے دیکھتے ، اس کا مذاق اڑاتے اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت نصیب فرمائے،اٰمین۔

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ(۷۹)

 



Total Pages: 250

Go To