Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ حق و باطل میں  فرق بیان کرنے کی بجائے صرف جھگڑا کرنے کے لئے بحث مُباحثہ شروع کر دینا کفار کا طریقہ ہے۔ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو قوم بھی ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی وہ باطل جھگڑوں  میں  مبتلا ہونے کی وجہ سے ہوئی ،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ‘‘۔(ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الزّخرف ،  ۵ / ۱۷۰ ،  الحدیث: ۳۲۶۴)

            کفار کے طریقے اور اس حدیثِ پاک کو سامنے رکھتے ہوئے ان حضرات کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی شدید حاجت ہے جو شرعی مسائل سے جاہل اور ان کی حکمتوں  سے ناواقف ہونے ،یا ان کا علم رکھنے کے باوجود جان بوجھ کر سوشل،پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پران کے بارے شرعی تقاضوں  کے برخلاف بحث مُباحثہ کرنا اورشریعت کے مسائل کو اپنی ناقص عقل کے ترازو پر تول کر ان کے حق اور ناحق ہونے کا فیصلہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور عقائد و عبادات و معاملات وغیرہا پراحمقانہ بحثوں  کی وجہ سے یہ چیزیں  ایک مذاق بن کر رہ گئی ہیں  اوریہ ان کی انہی جاہلانہ بحثوں  کا نتیجہ ہے کہ آج عام مسلمانوں  میں  شریعت کے احکام کی وقعت ختم ہو تی،ان پر عمل سے دوری اور گمراہی سے قربت بڑھتی جا رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے، اٰمین۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  وہ تو نہیں  مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایا اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے عجیب نمونہ بنایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عیسیٰ تونہیں  ہے مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایاہے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک عجیب نمونہ بنایا۔

{اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ: عیسیٰ تو نہیں  ہے مگرایک بندہ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  فرمایا کہ وہ  (نہ خدا ہے اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ خالص) اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں  جن پر ہم نے نبوت عطا فرما کر احسان فرمایا ہے اور ہم نے اسے بغیر باپ کے پیدا کرکے بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کاایک عجیب نمونہ بنایا ہے۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۴ / ۱۰۸-۱۰۹)

آیت ’’اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ‘‘ سے معلوم ہونے والے اَحکام:

            اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… اس آیت میں ان عیسائیوں  کا بھی رد ہے جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدایا خدا کا بیٹا مانتے ہیں  اور ان یہودیوں  کا بھی رد ہے جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کے منکر ہیں ۔

(2)… مقبول بندوں  کی طرف داری اور تعریف کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔

(3)… اگر کسی محبوب بندے کو لوگ خدا بھی مان لیں  تو ان لوگوں  کی تردید میں  اس مقبول بندے کی توہین نہ کی جائے بلکہ اس کی عظمت کوباقی رکھا جائے۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓىٕكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں  تمہارے بدلے فرشتے بساتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں  تمہارے بدلے فرشتے بسادیتے۔

{ وَ لَوْ نَشَآءُ: اور اگر ہم چاہتے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے کفارِ قریش!ہم تم سے اور تمہاری عبادت سے بے نیاز ہیں ، اگر ہم چاہتے تو تمہیں  ہلاک کر کے زمین میں  تمہارے بدلے فرشتے بسادیتے جو تمہارے بعد آباد رہتے اور ہماری عبادت واطاعت کرتے اور فرشتوں کے آسمانوں  پر رہنے میں  کوئی ایسی فضیلت نہیں  ہے کہ ان کی عبادت کی جائے یایہ کہا جائے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  ہیں (تو پھر تم کیوں  ان کی عبادت کرتے اور انہیں  اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  قرار دیتے ہو)۔(جلالین مع صاوی ، الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۵ / ۱۹۰۱ ،  قرطبی ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۸ / ۷۶ ،  الجزء السادس عشر ،  ملتقطاً)

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بیشک عیسیٰ قیامت کی خبر ہے تو ہرگز قیامت میں  شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک عیسیٰ ضرورقیامت کی ایک خبر ہے تو ہرگز قیامت میں  شک نہ کرنا اور میری پیروی کرنا۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔

{وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ: اور بیشک عیسیٰ ضرورقیامت کی ایک خبر ہے۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں : ’’حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی علامات میں  سے ہے،تو اے لوگو! ہرگز قیامت کے آنے میں  شک نہ کرنا اور میری ہدایت اور شریعت کی پیروی کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے جس کی میں  تمہیں  دعوت دے رہا ہوں ۔( مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ص۱۱۰۴ ،  ملخصاً)

قیامت کے قریب حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تشریف لانا برحق ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر تشریف لانا برحق ہے کیونکہ ان کا آنا قیامت کی علامت ہے، لیکن یہ یاد رہے آپ کا وہ آناسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کا نبی بن کر نہیں  بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے امتی ہونے کی حیثیت سے ہو گا۔یہاں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں  3اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم !جس کے قبضے میں  میری جان ہے،قریب ہے کہ تم



Total Pages: 250

Go To