Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہوں  نے ان نصیحتوں  کو بھلا دیاجو انہیں  کی گئی تھیں  توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں  تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں  دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں  پکڑلیاپس اب وہ مایوس ہیں ۔ پس ظالموں  کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں  اللہکے لئے  ہیں  جو تمام جہانوں  کو پالنے والا ہے۔

            اور حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی پسند کی تمام چیزیں  عطا کر رہا ہے لیکن اس بندے کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر قائم ہے تو یہ اس کے حق میں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہے۔( معجم الاوسط ،  باب الواو ،  من اسمہ ولید ،  ۶ / ۴۲۲ ،  الحدیث: ۹۲۷۲)

            اورحضرت عمر بن ذر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اے گناہگارو!اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں  کے باوجود جو مسلسل حِلم فرما رہا ہے تم ا س کی وجہ سے گناہوں  پر اور جَری نہ ہوجاؤاور ا س کی ناراضی سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہوں  نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا۔( شعب الایمان ، السابع والاربعون من شعب الایمان...الخ ، فصل فی الطبع علی القلب...الخ ، ۵ / ۴۴۷ ، الحدیث:۷۲۲۷)

            اللہ تعالیٰ مال و دولت اور منصب و مرتبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سرکشی اور ا س کی آفات سے ہمیں  محفوظ فرمائے ،اٰمین۔

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ(۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جائے جبھی تمہاری قوم اُس سے ہنسنے لگتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتی ہے۔

{وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا: اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قریش کے سامنے یہ آیت ’’وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ‘‘ پڑھی ،جس کے معنی یہ ہیں  کہ اے مشرکین !تم اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن چیزوں  کو تم پوجتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہے۔ یہ سن کر مشرکین کو بہت غصہ آیا اور ابنِ زبعری کہنے لگا :اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کیا یہ خاص ہمارےاور ہمارے معبودوں  ہی کے لئے ہے یاہر اُمت اورگروہ کے لئے ہے؟سَرورِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں  کے لئے بھی ہے اور سب اُمتوں  کے لئے بھی ہے۔اس پر ابنِ زبعری نے کہا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں  اور آپ اُن کی اور اُن کی والدہ کی تعریف کرتے ہیں  اور آپ کو معلوم ہے عیسائی ان دونوں  کو پوجتے ہیں  اور حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں  یعنی یہودی وغیرہ ان کو پوجتے ہیں  تو اگر یہ حضرات (مَعَاذَاللہ) جہنم میں  ہوں  تو ہم ا س بات پر راضی ہیں  کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں  اور یہ کہہ کر کفار خوب ہنسے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ  پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں  گے۔

            اوریہ آیت نازل ہوئی ’’وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابنِ زبعری نے اپنے معبودوں  کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مثال بیان کی اورحضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جھگڑا کیا کہ عیسائی انہیں  پوجتے ہیں  تو کفارِ قریش اُس کی اِس بات پر ہنسنے لگے۔( مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۷ ،  ص۱۱۰۳-۱۱۰۴)

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَؕ-مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور کہتے ہیں  کیا ہمارے معبود بہتر ہیں  یا وہ انہوں  نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو بلکہ وہ ہیں  ہی جھگڑالو لوگ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں : کیا ہمارے معبود بہتر ہیں  یا وہ (عیسیٰ؟) انہوں  نے یہ مثال تم سے صرف جھگڑا کرنےکیلئے بیان کی ہے،بلکہ وہ جھگڑنے والے لوگ ہیں ۔

{وَ قَالُوْا: اور کہتے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی قوم کے مشرکین کہتے ہیں  کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں  یاحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہتر ہیں  تو اگر (مَعَاذَاللہ) وہ جہنم میں  ہوئے تو ہمارے معبود یعنی بت بھی جہنم میں  چلے جائیں  ہمیں  کچھ پروا نہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، انہوں  نے یہ مثال حق اور باطل میں  فرق کرنے کے لئے بیان نہیں  کی بلکہ صرف آپ سے جھگڑا کرنے کیلئے بیان کی ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں  کہ انہوں نے جو کچھ کہاوہ باطل ہے اور اس آیت ِکریمہ ’’اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‘‘ سے صرف بت مراد ہیں  حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور فرشتے عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مراد نہیں  لئے جاسکتے۔

            ابنِ زبعری عرب کا رہنے والا تھا اورعربی زبان جاننے والا تھا ،یہ بات اسے بہت اچھی طرح معلوم تھی کہ ’’مَا تَعْبُدُوْنَ‘‘ میں  جو ’’مَا‘‘ ہے اس کے معنی چیز کے ہیں  اور اس سے وہ چیزیں  مراد ہوتی ہیں  جن میں  عقل نہ ہو ،لیکن اس کے باوجود اس کا عربی زبان کے اصول سے جاہل بن کر حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور فرشتوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس میں  داخل کرنا کٹ حجتی اور جہل پروری ہے۔آیت کے آخر میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایابلکہ وہ جھگڑنے والے اور باطل کے درپے ہونے والے لوگ ہیں ۔( مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ص۱۱۰۴ ،  ملخصاً)

 صرف جھگڑا کرنے کے لئے بحث مُباحثہ شروع کر دینا کفار کا طریقہ ہے:

 



Total Pages: 250

Go To