Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔( مسندالفردوس ،  باب الالف ،  ۱ / ۲۴۵ ،  الحدیث: ۹۴۸)

            البتہ یہاں  یہ بات ذہن نشین رہے کہ زیرِ تفسیر آیت میں  جہاں  کفار کے لئے وعید ہے وہیں  ہمارے معاشرے کے ان مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو دنیا کی زیب و زینت ، اس کی چمک دمک اور مال و دولت کے حصول میں  حد درجہ مصروفیَّت کی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے ،اسے سمجھنے او ر ا س پر عمل کرنے سے محروم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے اور قرآنِ مجید سے تعلق قائم رکھا رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

             یاد رہے کہ زیرِ تفسیر آیت میں  جس شیطان کا ذکر ہے یہ اس شیطان کے علاوہ ہے جس کا ذکر درج ذیل حدیثِ پاک میں  ہے،چنانچہ

            حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں  سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ مُسلَّط کر دیا گیا ہے۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے ساتھ بھی؟ارشاد فرمایا: ’’میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس شیطا ن کے مقابلے میں  میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا،اب وہ مجھے اچھی بات کے علاوہ کوئی بات نہیں  کہتا۔(مسلم ،  کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ،  باب تحریش الشیطان... الخ ،  ص۱۵۱۲ ،  الحدیث: ۶۹(۲۸۱۴))

 برا ساتھی اللہ تعالٰی کا عذاب ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ برا ساتھی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اوراچھا ساتھی نصیب ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اچھے اور برے ساتھی کے بارے میں  حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اچھے اور برے ہم نشین کی مثال ایسے ہے جیسے مشک اٹھانے والا اور بھٹی پھونکنے والا۔ ان میں  سے جو مشک اٹھائے ہوئے ہے(اس کے ساتھ رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ ) وہ تجھے اس میں  سے دے گا یا تو ا س سے خرید لے گا یا تجھے مشک کی خوشبو پہنچے گی اور جو بھٹی پھونکنے والا ہے (اس کے ساتھ رہنے کا نقصان یہ ہے کہ) وہ تیرے کپڑے جلا دے گا یا تجھے بُری بو پہنچے گی۔( بخاری ،  کتاب الذبائح والصید... الخ ،  باب المسک ،  ۳ / ۵۶۷ ،  الحدیث: ۵۵۳۴)

            اورحضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: فاجر سے بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مُزَیَّن کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور(اسی طرح) اَحمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے آپ کو مشقت میں  ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں  پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے ،اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور جھوٹے سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ میل جول تجھے نفع نہ دے گا،وہ تیری بات دوسروں  تک پہنچائے گا اور دوسروں  کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں  بولے گا۔( ابن عساکر ،  حرف الطاء فی آباء من اسمہ علیّ ،  علیّ بن ابی طالب... الخ ،  ۴۲ / ۵۱۶)

            اللہ تعالیٰ دنیا میں  ہمیں  اچھے اور نیک ساتھی عطا فرمائے اور برے ساتھیوں  سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بیشک وہ شیاطین ان کو راہ سے روکتے ہیں  اور سمجھتے یہ ہیں  کہ وہ راہ پر ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں  اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں  کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

{وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ: اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ شَیاطین قرآنِ پاک سے منہ موڑنے والوں کو اس راستے سے روکتے ہیں  جس کی طرف قرآن بلاتا ہے اور ان لوگوں  کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہ ہونے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں  کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔( ابوسعود ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۵۴۳ ،  ملخصاً)  تو جس کی گمراہی کا یہ حال ہو ا س کے راہِ راست پر آنے کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  یہاں  تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں  تجھ میں  پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی بُرا ساتھی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہاں  تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے تو (تُو) کتنا ہی برا ساتھی ہے۔

{حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا: یہاں  تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا۔} یعنی قرآن سے منہ پھیرنے والے کفار، شیطان کے ساتھی ہوں  گے یہاں  تک کہ جب قیامت کے دن ان میں  سے ہر ایک اپنے ساتھی شیطان کے ساتھ ہمارے پاس آئے گا تووہ شیطان کو مُخاطَب کر کے کہے گا:اے میرے ساتھی! اے کاش! میرے اور تیرے درمیان اتنی دوری ہو جائے جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے کہ جس طرح وہ اکٹھے نہیں  ہو سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں  اسی طرح ہم بھی اکٹھے نہ ہوں  اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہوں  اورتو میرا کتنا ہی برا ساتھی ہے۔( جلالین مع صاوی ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۵ / ۱۸۹۵-۱۸۹۶)

            حضرت سعید جریری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ قیامت کے دن جب کافر کو اس کی قبر سے اٹھایا جائے گا تو شیطان اس کا ہاتھ تھام لے گا،وہ شیطان اس کے ساتھ ہی رہے گا یہاں  تک کہ اللہ  تعالیٰ دونوں  کو جہنم میں  جانے کا حکم فرما دے گا،اس وقت کافر کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتُو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔ (تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۱۱ / ۱۸۹)

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ(۳۹)

 



Total Pages: 250

Go To