Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہے تو یہ کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں ،انہیں  ذرا غور کرنا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں  ان کے درمیان ان کی روزی بھی ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ان میں  سے کسی کو مالدار اورکسی کو فقیر،کسی کو مالک اورکسی کو غلام، کسی کو طاقتور اور کسی کو کمزور ہم نے ہی بنایا ہے، مخلوق میں  کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں  رکھتا ،تو جب دنیا جیسی قلیل چیز میں  کسی کو اعتراض کرنے کی مجال نہیں  تو نبوت جیسے منصب ِعالی میں  کیا کسی کو دَم مارنے کا موقع ہے؟ ہم جسے چاہتے ہیں  غنی کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں  مخدوم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں  خادم بناتے ہیں ، جسےچاہتے ہیں  نبی بناتے ہیں  ،جسے چاہتے ہیں  امتی بناتے ہیں  ، کیا کوئی اپنی قابلیت سے امیر ہوجاتا ہے ؟ہر گز نہیں ،بلکہ یہ ہماری عطاہے اور جسے ہم چاہیں  امیر کریں ۔ ہم نے مال ودولت میں  لوگوں  کو ایک جیسا نہیں  کیا تاکہ ایک دوسرے سے مال کے ذریعے خدمت لے اور دنیا کا نظام مضبوط ہو، غریب کو ذریعۂ معاش ہاتھ آئے اور مالدار کو کام کرنے والے اَفراد مُہَیّاہوں ، تو اس پر کون اعتراض کرسکتا ہے کہ فلاں  کو مالدار اور فلاں  کو فقیر کیوں  کیا اور جب دُنْیَوی اُمور میں  کوئی شخص دَم نہیں  مارسکتا تو نبوت جیسے رتبہ ِعالی میں  کسی کو کیا تاب ِسخن اور اعتراض کا کیا حق ہے، اُس کی مرضی جس کو چاہے نبوت سے سرفراز فرمائے۔ اوراے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت یعنی جنت اس مال ودولت سے بہتر ہے جو کفار دنیا میں  جمع کرکے رکھتے ہیں ۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۴ / ۱۰۴-۱۰۵)

            نبوت عطا فرمانے کا اختیار صرف خدا کے پاس ہے اور اس نے اپنے اختیار سے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو آخری نبی بنادیا ہے اور اس کا قرآن میں اعلان بھی فرمادیا لہٰذا اب کوئی دوسرا شخص نبوت کا دعویٰ نہیں  کرسکتا۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ(۳۳) وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـُٔوْنَۙ(۳۴) وَ زُخْرُفًاؕ-وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں  تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں  کے لیے چاندی کی چھتیں  اور سیڑھیاں  بناتے جن پر چڑھتے۔اور ان کے گھروں  کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے۔اور طرح طرح کی آرائش اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں  کے لیے ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں  کی) ایک جماعت ہوجائیں  گے تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں  کے لیے ان کے گھروں  کی چھتیں  اور سیڑھیاں  چاندی کی بنا دیتے جن پر وہ چڑھتے۔ اور ان کے گھروں  کے لیے (چاندی کے) دروازے اور تخت بنادیتے جن پر وہ تکیہ لگاتے۔ اور(یہ چیزیں  ان کیلئے)سونا(بھی بنادیتے) اوریہ جو کچھ ہے سب دنیاوی زندگی ہی کا سامان ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں  کے لیے ہے۔

{وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں  کی) ایک جماعت ہوجائیں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس بات کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں  کے مال و دولت کی کثرت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں  گے تو ہم ضرور کافروں  کو اتنا سونا چاندی دیدیتے کہ وہ انہیں  پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں  کی چھتیں  اور سیڑھیاں  بناتے جن پر وہ چڑھتے اور وہ اپنے گھروں  کے لئے چاندی کے دروازے بناتے اور بیٹھنے کے لئے چاندی کے تخت بناتے جن پر ٹیک لگا کر بیٹھتے اور وہ طرح طرح کی آرائش کرتے، کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، یہ بہت جلد زائل ہونے والا ہے اوریہ جو کچھ ہے سب دُنْیَوی زندگی ہی کا سامان ہے جس سے انسان بہت تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھا سکے گا اور آخرت تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ان پرہیزگاروں  کے لیے ہے جنہیں  دنیا کی چاہت نہیں ۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۵ ،  ۴ / ۱۰۵)

کفار کا مال و دولت اور عیش و عشرت دیکھ کر مسلمانوں  کا حال:

            اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہو ا کہ کافروں  کے مال و دولت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر لوگ کافر ہوسکتے ہیں ۔ ا س کی صداقت آج کھلی آنکھوں  سے دیکھی جا سکتی ہے ،گو کہ سبھی کافروں  کا مال و دولت اور عیش و عشرت اس مقام تک نہیں  پہنچا کہ وہ چاندی سے اپنے گھروں  کی تعمیرات شروع کر دیں  لیکن اس وقت جو کچھ ان کے پاس موجود ہے اس کی چمک دمک دیکھ کرکچھ مسلمان اپنا دین چھوڑ چکے ہیں  ،کچھ اس کی تیاری میں  ہیں  اورکچھ مسلمان کہلانے والوں  کا حال یہ ہے کہ وہ کافروں  کی دُنْیَوی ترقی دیکھ کردینِ اسلام سے ناراض دکھائی دیتے اور خود پر کافروں  کے طور طریقے مُسلَّط کئے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔یاد رہے کہ دنیا کا عیش و عشرت اور اس کا سازوسامان عارضی ہے جو کہ ایک دن ضرور ختم ہو جائے گا جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ‘‘(حدید:۲۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کود اور زینت اور آپس میں  فخرو غرور کرنا اور مال اور اولاد میں  ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے۔ (دنیا کی زندگی ایسی ہے) جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں  کواچھا لگتا ہے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا(بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں  سخت عذاب (بھی) ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (بھی ہے) اور دنیاکی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔

            اور ارشادفرماتا ہے:

’’اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا‘‘(کہف:۷ ، ۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں  کوزمین کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں  آزمائیں  کہ ان میں  عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔ اور بیشک جو کچھ زمین پر ہے (قیامت کے دن) ہم اسے خشک میدان بنادیں  گے (جس پر کوئی رونق نہیں  ہوتی۔)

 



Total Pages: 250

Go To