Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ: بلکہ انہوں  نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا۔} یعنی ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں  ہے بلکہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں  کہ فرشتوں  کی عبادت کرنے کی ان کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم آنکھیں  بند کر کے بے سوچے سمجھے ان کی پیروی کرتے ہیں۔(ابوسعود ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۵ / ۵۴۰ ،  خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۴ / ۱۰۴ ،  ملتقطاً)

 شریعت کے مقابلے میں  آباؤ اَجداد کے رسم و رواج کی پابندی کرنا بد ترین جرم ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مقابلے میں  باپ داداؤں  کے رسم و رواج کی پابندی کرنا بد ترین جرم ہے جیسے آج کل بعض مسلمان شادی بیاہ یا مَرگ کے موقع پر ناجائز رسومات صرف اپنے پرانے باپ داداؤں  کی پیروی میں  مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤۙ-اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ(۲۳)قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْؕ-قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ(۲۴)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں  کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں  کے آسُودوں  نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں ۔  نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں  تمہارے پاس وہ لاؤں  جو سیدھی راہ ہو اس سے جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اُسے نہیں  مانتے۔ تو ہم نے اُن سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں  کا کیسا انجام ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں  کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تووہاں  کے خوشحال لوگوں  نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقش ِقدم کی ہی پیروی کرنے والے ہیں ۔ نبی نے فرمایا: کیا اگرچہ میں  تمہارے پاس اس سے بہتر دین لے آؤں  جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ انہوں  نے کہا:جس کے ساتھ تمہیں  بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں ۔ تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں  کا کیسا انجام ہوا؟

{وَ كَذٰلِكَ: اور ایسے ہی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کے علاوہ شرک کی کوئی اوردلیل نہ دے سکنا صرف آپ کی قوم کے کفار کا ہی خاصہ نہیں  بلکہ ہم نے آپ سے پہلے جب کسی شہر میں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تووہاں  کے خوشحال مالداروں  نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم کی ہی پیروی کرنے والے ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کی اندھے بن کرپیروی کرناکفار کا پرانامرض ہے اور انہیں  اتنی تمیز نہیں  کہ کسی کی پیروی کرنے کے لئے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ خود سیدھی راہ پر ہو، چنانچہ جب کسی نبی سے فرمایا گیا کہ اپنی قوم کے کفار سے کہیں  :کیا تم اپنےباپ دادا کے دین پر ہی چلو گے اگرچہ میں  تمہارے پاس اس سے بہتر دین لے آؤں  جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟تو انہوں  نے ا س بات کے جواب میں  کہا:جس دین کے ساتھ تمہیں  بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں  اگرچہ تمہارا دین حق و صواب ہو، مگر ہم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑنے والے نہیں  چاہے وہ کیسا ہی ہو، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’جب یہ اپنے شرک پر ہی ڈٹے رہے تو ہم نے رسولوں  کے نہ ماننے والوں  اور اُنہیں  جھٹلانے والوں  سے بدلہ لیا تو اے کافرو! تم دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں  کا کیسا انجام ہوا؟۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۳- ۲۵ ،  ۴ / ۱۰۴ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۳-۲۵ ،  ص۱۰۹۸-۱۰۹۹ ،  روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۳-۲۵ ،  ۸ / ۳۶۱-۳۶۲ ،  ملتقطاً)

مال کا وبال:

            خوش حال اورمالدار کفار کے طرزِ عمل سے معلوم ہوا کہ مال و دولت کی کثرت ،دنیا کی رنگینیوں  اورعیش و نشاط کی وجہ سے انسان اپنی آخرت کے معاملے میں  غفلت کا شکار ہو جاتا ہے اور ا س کی نگاہوں  میں  اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  کی وقعت اور ان کی بات کی ا ہمیت بہت کم ہو جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ان لوگوں  کا کیا حال ہے جو دولت مندوں  کی عزت کرتے ہیں  اور عبادت گزاروں  کو حقیر سمجھتے ہیں ،قرآنِ پاک کی ان آیات پر توعمل کرتے ہیں  جو ان کی خواہشات کے موافق ہوں  لیکن خواہشات کے خلاف آیتوں  کو چھوڑ دیتے ہیں  تو اس صورت میں  وہ قرآن کی بعض آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں  اور بعض آیتوں  کاانکار کرتے ہیں  ۔اس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں  جو انہیں  محنت کے بغیر حاصل ہو جائے گی اور وہ ان کی تقدیر اور ان کے حصے کا رزق ہے جبکہ ا س چیز کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں  کرتے جس میں  محنت کرنی پڑتی ہے۔( معجم الکبیر ،  ومن مسند عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ،  ۱۰ / ۱۹۳ ،  الحدیث: ۱۰۴۳۲) اللہ تعالیٰ ہم سب کو مال کے وبال سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ(۲۶) اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں  بیزار ہوں  تمہارے معبودو ں  سے۔ سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ ضرور وہ بہت جلد مجھے راہ دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: میں  تمہارے معبودو ں  سے بیزار ہوں ۔ مگر وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو ضرور وہ جلد مجھے راستہ دکھائے گا۔

{وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ: اور جب ابراہیم نے فرمایا۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے بارے میں  بیان ہو اکہ ان کے پاس اپنے شرک کے جواز کی دلیل صرف اپنے آباء و اَجداد کی پیروی ہے اوراس آیت سے اہل ِعرب کے جد ِاعلیٰ، حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات بیان کئے گئے کہ انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب جھوٹے معبودوں  کی عبادت کرنے سے انکار کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور صرف اسی کی عبادت پر قائم رہے تاکہ اہلِ عرب اپنے جد ِاعلیٰ کے دین کی طرف لوٹ آئیں  کیونکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے آباء میں  سب سے زیادہ مُعَزَّز ہیں  اور وہ سب ان سے محبت کرتے ہیں  تو جس طرح انہوں  نے بتوں  کی عبادت کرنے میں  اپنے آباء کی پیروی نہیں  کی تو اسی طرح انہیں  بھی چاہئے کہ وہ (بت پرستی کرنے میں ) اپنے قریبی آباء و اَجداد کی پیروی چھوڑ دینے میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی کریں  اور دین ِحق کی اتباع کرنے کی طرف لوٹ آئیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To