Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اوصاف و شان کا اظہار کیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایاکہ عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا (جو کہ پھیلاوے اور ٹھہرے ہوئے ہونے میں  بستر کی طرح ہے) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے مُتَحَرِّ ک بنا دیتا لیکن اس صورت میں  کوئی چیز اس پر نہ ٹھہرتی اور زمین سے نفع اٹھانا ممکن نہ رہتا تو یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے زمین کو ہموار اور ساکن بنایا، اور ا س نے تمہارے لیے اس زمین میں  راستے بنائے تاکہ تم دینی اور دُنْیَوی اُمور کے لئے سفر کے دوران اپنی منزل تک پہنچنے کی راہ پاؤ،اور اگر وہ چاہتا تو زمین کو ا س طرح بند بنا دیتا کہ اس میں  کوئی راستہ ہی نہ چھوڑتا ،اگر ایسا ہو جاتا تو ا س صورت میں  تمہارے لئے سفر کرنا ہی ممکن نہ رہتا جیساکہ بعض جگہ پہاڑ ہونے کی وجہ سے راستہ بند ہوجاتا ہے اور(زمینی) سفر ممکن نہیں  رہتا۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴ / ۱۰۲ ،  صاوی ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۵ / ۱۸۸۷ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍۚ-فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًاۚ-كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور وہ جس نے آسمان سے پانی اُتارا ایک اندازے سے تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرما دیا یونہی تم نکالے جاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر کوزندہ فرمادیا۔ یونہی تم نکالے جاؤ گے۔

{وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ: اور وہ جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا۔} ارشاد فرمایا کہ عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تمہاری حاجتوں  کی مقدار ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا، وہ نہ اتنا کم ہے کہ اس سے تمہاری حاجتیں  پوری نہ ہوں  اور نہ اتنا زیادہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرح تمہیں  ہلاک کردے۔ ہم نے اس بارش سے نباتات سے خالی ایک شہر کوسرسبز فرمادیا اور جس طرح بارش سے مردہ شہر کو زندہ فرمایا یونہی تم اپنی قبروں  سے زندہ کرکے نکالے جاؤ گے کیونکہ جو زمین کو بنجر ہو جانے کے بعد پانی کے ذریعے دوبارہ سر سبز و شاداب کرنے پر قادر ہے تو وہ مخلوق کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۰۲ ،  جلالین مع صاوی ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۵ / ۱۸۸۷ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ(۱۲) لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  سے سواریاں  بنائیں ۔  کہ تم ان کی پیٹھوں  پر ٹھیک بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں  کہو پاکی ہے اُسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں  کردیا اور یہ ہمارے بُوتے کی نہ تھی۔  اور بے شک ہمیں  اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو پھر جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تواپنے رب کا احسان یاد کرو اور یوں  کہو: پاک ہے وہ جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا۔} یعنی عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے مخلوق کی تمام اَقسام کے جوڑے بنائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’اس سے مراد یہ ہے کہ تمام اَنواع کے جوڑے بنائے جیسے میٹھا اور نمکین، سفید اور سیاہ،مُذَکَّر اور مُؤنَّث وغیرہ۔( روح البیان ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۸ / ۳۵۵)

{وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ: اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں بنائیں  تاکہ تم خشکی اور تری کے سفر میں  کشتیوں  کی پشت اور چوپایوں  کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو ،پھر جب اس سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تو دل میں اپنے رب کا احسان یاد کرو اور اپنی زبان سے یوں  کہو: وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر عیب سے پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے اور بیشک ہم آخر کار اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔( خازن ، الزخرف ، تحت الآیۃ:۱۲-۱۴ ، ۴ / ۱۰۲ ،  جلالین مع صاوی ، الزخرف ، تحت الآیۃ:۱۲-۱۴ ،  ۵ / ۱۸۸۸ ،  ملتقطاً)

سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعائیں :

             حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب سفر میں  تشریف لے جاتے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے وقت پہلے تین بار اللہ اَکْبَرْ پڑھتے، پھر یہ آیت پڑھتے ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘‘۔ (اور اس کے بعدیہ دعائیں  پڑھتے)۔ ’’اَللّٰہمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِی سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَ الْخَلِیفَۃُ فِی الْاَہْلِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَہْلِ‘‘ اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو ان دعاؤں  کے ساتھ مزید یہ پڑھتے ’’اٰیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ‘‘۔(مسلم ،  کتاب الحج ،  باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحجّ وغیرہ ،  ص۷۰۰ ،   الحدیث: ۴۲۵(۱۳۴۲))

             اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ،میری امت میں  سے جو شخص کشتی میں  سوار ہوتے وقت یہ پڑھ لے تو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گا: ’’بِسْمِ اللہ الْمَلِکِ وَ مَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاََرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہٖ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی  عَمَّا یُشْرِکُونَo بِسْمِ اللہ مَجْرَاہَا وَ مُرْسَاہَا اِنَّ رَبِّی لَغَفُوْرٌ رَّحِیمٌ‘‘۔(معجم الاوسط ،  باب المیم ،  من اسمہ: محمد ،  ۴ / ۳۲۹ ،  الحدیث: ۶۱۳۶)

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اس کے لیے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا ٹھہرایا بے شک آدمی ُکھلا ناشکرا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قراردیا۔ بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To