Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

آیت نازل فرمائی۔

             یہاں  یہ مسئلہ یاد رکھیں  کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا پردہ ہو جیسا جسمانیات کے لئے ہوتا ہے اور آیت میں  مذکور پردہ سے مراد سننے والے کا دنیا میں  دیدار نہ کر سکنا ہے۔

(3)…اللہ تعالیٰ کوئی فرشتہ بھیجے تو وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وحی پہنچائے جو اللہ تعالیٰ چاہے۔ وحی کے اس طریقے میں  رسول کی طرف وحی پہنچنے میں  فرشتے کا واسطہ ہے۔( تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۹ / ۶۱۱ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ص۱۰۹۳ ،  ابو سعود ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۵ / ۵۳۴ ،  ملتقطاً)

{اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ: بیشک وہ بلندی والا، حکمت والا ہے۔} یعنی بے شک اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات سے بلند اور پاک ہے اور وہ اپنے تمام اَفعال میں  حکمت والا ہے، یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ اِلقاء اور اِلہام کے ذریعے اور کبھی اپنا کلام سنا کر بغیر واسطے کے کلام کرتا ہے ا ور کبھی فرشتوں  کے واسطے سے کلام فرماتا ہے۔( تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۹ / ۶۱۴)

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ-مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاؕ-وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ(۵۲) صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یونہی ہم نے تمہیں  وحی بھیجی ایک جانفزا چیز اپنے حکم سے اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکامِ شرع کی تفصیل ہاں  ہم نے اُسے نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں  اپنے بندوں  سے جسے چاہتے ہیں  اور بے شک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔ اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یونہی ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔لیکن ہم نے قرآن کو نور کیا جس سے ہم اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں  اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔اس اللہ کے راستے کی طرف (کہ) جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں سب اسی کا ہے۔ سن لو! سب کام اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں ۔

{وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا: اور یونہی ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔} انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی کی صورتیں  بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے اپنے تمام رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی یونہی ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف قرآنِ پاک کی وحی بھیجی جو کہ دلوں  میں  زندگی پیدا کرتا ہے ورنہ ہمارے بتانے سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے اورنہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو جانتے تھے، لیکن ہم نے قرآن کو نور کیا جس سے ہم اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں  اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے یعنی دینِ اسلام کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔( تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۹ / ۶۱۴-۶۱۵ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۴ / ۱۰۱ ،  ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن ایمان کی جان ہے کہ اس کی تلاوت اور فہم سے ایمان میں  جان پڑجاتی ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن سے سب ہدایت نہیں  پاتے بلکہ وہ ہی ہدایت پاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اوراللہ تعالیٰ کے اِذن سے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہدایت دیتے ہیں ۔

{صِرَاطِ اللّٰهِ: اللہ کے راستے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں  کے لئے مقرر فرمائے ہوئے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں  جو آسمانوں  اور زمین میں  موجود تمام چیزوں  کا مالک ہے، سن لو! آخرت میں  مخلوق کے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھریں  گے تو وہ نیک انسان کو ثواب اور گناہگار کو سزا دے گا۔( خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۴ / ۱۰۱)

سورۂ زُخْرُف

سورۂ زُخْرُف کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ زُخْرُفْ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ الزخرف ،  ۴ / ۱۰۱)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں  7رکوع اور89آیتیں ہیں ۔

’’زُخْرُفْ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            زُخْرُف کا معنی ہے’’ سونا‘‘ نیز کسی چیز کے حسن کا کمال بھی زُخْرُف کہلاتا ہے، اور اس سورت کی آیت نمبر 35 میں  کلمہ ’’وَ زُخْرُفًا‘‘ مذکور ہے ،اس کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ زُخْرُفْ‘‘ رکھا گیا ہے۔

سورۂ زُخْرُفْکے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے ، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے،قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے، قیامت کے دن مُردوں  کو دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے پر کلام کیا گیا ہے، اور اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں ،

 



Total Pages: 250

Go To