Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

میں  سے کسی کا ظہور آپ کے ظہور کی مانند اور کسی کا نور آپ کے نور کے ہم پلہ نہیں  اور باطن سے مراد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وہ اَسرار ہیں  جن کی حقیقت کا اِدراک مخلوق کے لئے ناممکن ہے اور دور ونزدیک کے لوگ آپ کے جمال اور کمال میں  کھو کر رہ گئے۔

            اور آخر میں  فرماتے ہیں  کہ ’’وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ‘‘  کا ارشاد بلا شبہ حضورِ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے (بھی) ہے کیونکہ ’’وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ‘‘ (یعنی اور ہر علم والے سے اوپر علم والا ہے) کی صفات آپ ہی میں  موجود ہیں ۔( مدارج النبوہ ،  ۱ / ۲ ،  ملتقطاً)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :

نمازِ اقصیٰ میں  تھا یہی سِّرعیاں  ہوں  معنِیٔ اوّل آخر             کہ دست بستہ ہیں  پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِؕ-یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُ جُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَاؕ-وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ- وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۴) لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں  پیدا کئے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے جانتا ہے جو زمین کے اندر جا تا ہے اور جو اس سے باہر نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں  چڑھتا اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں  ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔اسی کی ہے آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں  کی رجوع ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں  پیدا کیے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر جا تا ہے اور جوکچھ اس سے باہر نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جوکچھ اس میں  چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں  بھی تم ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اسی کیلئے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں  کو لوٹایا جاتا ہے۔

{هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ: وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں  پیدا کیے۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور علم کے بارے میں  بیان فرمایا، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے آسمان اور زمین دنیا کے اَیّام کے حساب سے چھ دن میں  پیدا کئے۔ حضرت حسن  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا توپلک جھپکنے میں  زمین و آسمان پیدا کردیتا لیکن اس کی حکمت کا یہی تقاضاہوا کہ چھ دن کو اصل بنائے اور ان پر مدار رکھے۔اور ارشاد فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے عرش پر اِستواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے، جو کچھ زمین کے اندر جا تا ہے خواہ وہ دانہ ہو یا پانی کاقطرہ، خزانہ ہو یا مردہ ،اور جوکچھ اس سے باہر نکلتا ہے خواہ وہ نباتات ہو یا دھات یا اور کوئی چیز اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے جیسے رحمت و عذاب ، فرشتے اور بارش اور جوکچھ آسمان میں  چڑھتا ہے جیسے اَعمال اور دعائیں،  ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور وہ عام طور پراپنے علم وقدرت کے ساتھ اور خاص طور پر اپنے فضل و رحمت کے ساتھ تمہارے ساتھ ہے چاہے تم جہاں  بھی ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے کام دیکھ رہا ہے تو وہ قیامت کے دن تمہیں  تمہارے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔( مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۲۰۷ ،  جلالین ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۴۴۹ ،  ملتقطاً)

            اس آیت میں  غفلت کی نیند سونے والوں  اور گناہوں  میں  مصروف لوگوں  کے لئے بڑی نصیحت ہے ،انہیں  چاہئے کہ اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں  اور گناہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے ڈریں  اور اس سے حیا کریں  کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال معلوم ہیں  اور وہ ان کا ہر کام دیکھ رہا ہے اور یہ جہاں  بھی چلے جائیں  اور جو حیلہ اور تدبیر اپنا لیں  ، مگرکسی جگہ اور کسی صورت اللہ تعالیٰ سے چھپ نہیں  سکتے اور وہ ان کے اعمال کے مطابق انہیں  جزا اور سزا دینے پر قدرت بھی رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنا خوف نصیب فرمائے اور گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِؕ-وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: رات کو دن کے حصّے میں  لاتا ہے اور دن کو رات کے حصّے میں  لاتا ہے اور وہ دلوں  کی جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: رات کو دن میں  داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں  داخل کرتا ہے اور وہ دلوں  کی بات جاننے والا ہے۔

{یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ: رات کو دن میں  داخل کرتا ہے۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (کسی موسم میں ) رات کی مقدار کم کر کے اور دن کی مقدار بڑھا کر رات کے کچھ حصے کو دن میں  داخل کرتا ہے اور(کسی موسم میں ) دن کی مقدار کم کر کے اور رات کی مقدار بڑھا کر دن کے کچھ حصے کو رات میں  داخل کرتا ہے اور وہ دِل کے عقیدے اور قلبی اَسرار سب کو جانتا ہے۔( جلالین ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۴۴۹ ،  ملخصاً)

          نوٹ:رات اور دن میں  کمی زیادتی کا بیان اس سے پہلے سورہ اٰلِ عمران،سورہ حج، سورۂ لقمان اور سورۂ فاطر میں گزر چکا ہے،یہاں  ایک بار پھر ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں  غورو فکر کریں  اوراس کی وحدانیَّت پر ایمان لائیں ۔

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں  کچھ وہ خرچ کرو جس میں  تمہیں  اَوروں  کا جانشین کیا تو جو تم میں  ایمان لائے اور اس کی راہ میں  خرچ کیا اُن کے لیے بڑا ثواب ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور (اس کی راہ میں) اس مال میں  سے خرچ کرو جس میں  اللہ نے تمہیں  دوسروں  کا جانشین بنایا ہے تو تم میں  جو ایمان لائے اورانہوں  نے خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To